دس سال بعد چینی صدر بھارت میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے صدر ہو جن تاؤ پیر سے کسی بھی چینی سربراہ مملکت کی طرف سے بھارت کا دس سال میں پہلا دورہ کر رہے ہیں۔ صدر تاؤ اپنے چار روزہ دورے کے دوران دِلی اور ممبئی جائیں گے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ سالوں میں بھارت اور چین نے کئی محاذوں پر اپنے تعلقات بہتر کیے ہیں لیکن اب بھی کچھ حل طلب معاملات باقی ہیں۔
اروناچل پردیش کے بارے میں تنازعہ انیس سو باسٹھ کی جنگ کے وقت سے جاری ہے۔ بھارت کشمیر کے شمال میں اڑتیس ہزار مربعہ کلومیٹر پر پھیلے ہوئے اکسئی چِن کے علاقے پر حق جتاتا ہے جو اب چین کے زیر انتظام ہے۔ تبت کا علیحدگی پسند گروپ دلائی لاما کی قیادت میں بھارت کی ریاست ہماچل پردیش میں قائم ہے۔ دونوں ملکوں نے سن دو ہزار پانچ میں سرحدی تنازعات کے حل کے لیے معاہدے پر دستخط کیے تھے اور اس کے بعد سے تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بی بی سی کے دِلّی میں نامہ نگار سنجوئے ماجومدار نے کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات بد اعتمادی، شکوک و شبہات اور رقابت کا شکار رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ اگلے سال تک ان کے درمیان تجارت بیس ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ | اسی بارے میں چین اور انڈیا کی ترقی: مقابلہ آسان نہیں23 July, 2006 | انڈیا سمگلشدہ کھالیں چین میں مقبول 27 September, 2006 | انڈیا ’اروناچل پردیش انڈیا کاحصہ ہے‘14 November, 2006 | انڈیا چینی کمپنی کے نقشے میں کشمیرآزاد11 November, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||