BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 November, 2006, 02:23 GMT 07:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دس سال بعد چینی صدر بھارت میں
ہُو جن تاؤ
بھارت کے بعد ہو جن تاؤ تین روزہ دورے پر پاکستان جائیں گے
چین کے صدر ہو جن تاؤ پیر سے کسی بھی چینی سربراہ مملکت کی طرف سے بھارت کا دس سال میں پہلا دورہ کر رہے ہیں۔ صدر تاؤ اپنے چار روزہ دورے کے دوران دِلی اور ممبئی جائیں گے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ سالوں میں بھارت اور چین نے کئی محاذوں پر اپنے تعلقات بہتر کیے ہیں لیکن اب بھی کچھ حل طلب معاملات باقی ہیں۔

تجارت
 توقع ہے کہ اگلے سال تک بھارت اور چین کے درمیان تجارت بیس ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی
بی بی سی نامہ نگار
چین کے دِلی میں سفیر نے بھارت کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کو چین کا علاقہ قرار دے کر پارنے تنازعہ کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ بھارت کے وزیر خارجہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اروناچل پردیش کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیا۔

اروناچل پردیش کے بارے میں تنازعہ انیس سو باسٹھ کی جنگ کے وقت سے جاری ہے۔

بھارت کشمیر کے شمال میں اڑتیس ہزار مربعہ کلومیٹر پر پھیلے ہوئے اکسئی چِن کے علاقے پر حق جتاتا ہے جو اب چین کے زیر انتظام ہے۔

تبت کا علیحدگی پسند گروپ دلائی لاما کی قیادت میں بھارت کی ریاست ہماچل پردیش میں قائم ہے۔

دونوں ملکوں نے سن دو ہزار پانچ میں سرحدی تنازعات کے حل کے لیے معاہدے پر دستخط کیے تھے اور اس کے بعد سے تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بی بی سی کے دِلّی میں نامہ نگار سنجوئے ماجومدار نے کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات بد اعتمادی، شکوک و شبہات اور رقابت کا شکار رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ اگلے سال تک ان کے درمیان تجارت بیس ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد