’اروناچل پردیش انڈیا کاحصہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزير خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا ہے کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا ایک اہم حصہ ہے۔ وزیرخارجہ کا یہ بیان ہندوستان میں چین کے سفیر سن یوشی کے ایک اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے شمال مشرقی ریاست کو چین کا حصہ بتایا تھا۔ ملک کے ایک نجی نیوز چینل سی این این ۔آئی بی این کو ایک انٹرویو میں مسٹر یوشی نے کہا تھا کہ ’اروناچل پردیش چین کا حصہ ہے۔ اس پورے خطے پر چین کا حق ہے‘۔ دونوں ممالک کےدرمیان بیانات کی اس جنگ کی ابتداء ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب بیس نومبر سے چین کے صدر ہیوجن تاؤ تین دن کے دورے پر ہندوستان پہنچ رہے ہیں۔ اس دورے میں دونوں ملک تجارت اور باہمی اعتماد سازی پر زور دیں گے۔ ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی تنازعہ سن 1962 سے جاری ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کشمیر میں واقع اس کے 38000 کلومیٹر کے حصے پر چین نےقبضہ کر رکھا ہے جبکہ چین شمال مشرقی ریاست ارونا چل پردیش پر اپنے اختیار کا دعوی کرتا ہے۔ دونوں ممالک کئی سال پرانے اس تنازعے کے حل کے لیئے کئی بار بات چیت کر چکے ہیں لیکن حکام کا کہنا ہے کہ بات چیت میں تھوڑی بہت پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی اس مسئلہ کا حل نکلنے میں کافی وقت لگے گا۔ | اسی بارے میں بھارت چین مذاکرات24 January, 2005 | انڈیا بھارت چین سرحدی معاہدہ11 April, 2005 | انڈیا بھارت چین سرحدی تنازع حل ہونے کا امکان11 April, 2005 | انڈیا پرنب مکھرجی کو چیلنجز کا سامنا 28 October, 2006 | انڈیا بھارت چین سرحدی مذاکرات29 March, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||