جوہری تعاون جاری، نئی ڈیل نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے صدر ہُو جنتاؤ نے کہا ہے کہ چین پاکستان کی جوہری توانائی کی صنعت میں تعاون جاری رکھا گا لیکن انہوں نے اس سلسلہ میں کسی نئی ڈیل یا معاہدہ کا اعلان نہیں کیا۔ پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ بات چیت کے بعد اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں چینی صدر نے یہ بھی کہا کہ پن بجلی، کوئلے اور توانائی کے دوسرے متبادل ذرائع کے سلسلے میں بھی پاکستان کی مدد کی جائے گی۔ صدر ہُو جنتاؤ نے کہا کہ چین نے چشمہ کے جوہری بجلی کے پلانٹ کی تعمیر میں پاکستان کے ساتھ ’انتہائی قریبی تعاون‘ کیا اور اب ایک دوسرے پلانٹ کی تعمیر میں بھی چین پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔ چین کے صدر ہُوجنتاؤ نے جمعہ کو صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی اور بعد میں ان کی موجودگی میں دونوں ممالک کے درمیاں آزادانہ تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے بارے میں اٹھارہ معاہدوں اور مفاہمت کی یاداشت ناموں پر دستخط کیے گئے۔ چین اور پاکستان میں پانچ سالہ اقتصادی تعاون، مشترکہ سرمایہ کاری، تیل کی تلاش، گوادر بندرگاہ کے پہلے مرحلے کی تکمیل اور اُسے پاکستان کے حوالے کرنے، زلزلہ زدہ علاقوں میں تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے، دفاع، توانائی، سائنس اور ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن اور دیگر شعبوں میں تعاون کے متعلق بھی معاہدوں اور مفاہمت کے یاداشت ناموں پر دستخط کیے گئے۔
دونوں صدور نے مشترکہ نیوز بریفنگ میں کہا کہ پچپن سالہ سفارتی تعلقات کے جشن کے موقع پر ان کے درمیاں تمام عالمی، علاقائی اور دو طرفہ امور پر مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ اکیسویں صدی اقتصادی ترقی کی صدی ہے اور یہی وجہ ہے کہ چینی صدر سے بات چیت کا محور اقتصادی تعاون پر مرکوز رہا۔ ان کے مطابق دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کے متعدد معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں جو کہ دونوں ممالک میں پائیدار اور دیرینہ تعلقات کی بنیاد بنیں گے۔ پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے شہری جوہری پروگرام کے لیے تعاون کے متعلق چینی صدر نے کہا کہ اس شعبے میں وہ پہلے ہی پاکستان سے تعاون کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے۔ تاہم ان کے مطابق چین پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پن بجلی (ہائیڈل)، کوئلے اور دیگر وسائل پر بھی توجہ دے رہا ہے۔
مشترکہ نیوز بریفنگ میں چین کے صدر نے کہا کہ چین چاہتا ہے کہ پاکستان اور بھارت تمام تنازعات دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حل کریں تاکہ خطے میں مستقل امن کے قیام کو فروغ ملے۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر میں پائیدار امن کے قیام کے لیے چین اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک سوال پر پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ بھارت کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات سے صورتحال بہتر ہوئی ہے اور عوام کے درمیان مختلف فورمز پر رابطہ بحال ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام اور ترقی کے لیے پاکستان اور بھارت تمام تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت سنجیدگی سے بات چیت آگے بڑھا رہے ہیں اور دونوں ممالک کے عوام اور قیادت کی خواہش ہے کہ کشمیر سمیت تمام تنازعات بات چیت سے حل کیے جائیں۔ واضح رہے کہ چین کے صدر بھارت کا دورہ کرنے کے بعد چار روزہ دورے پر تئیس نومبر کی سہ پہر اسلام آباد پہنچے تھے تو صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز نے ان کا استقبال کیا تھا۔ سرکاری سکولوں کے بچے بڑی تعداد میں کئی گھنٹوں سے ان کے استقبال اور گل پاشی کے لیے سڑک پر موجود رہے۔ چینی صدر براہ راست پاکستانی قوم سے خطاب بھی کر رہے ہیں اور سنیچر کو لاہور جائیں گے۔ امکان ہے کہ وہ گوادر کی بندرگاہ کا افتتاح بھی کریں لیکن اس بارے میں حکام کچھ بھی بتانے سے گریزاں ہیں۔ | اسی بارے میں ہندوستان اور چین : دشمنی سے دوستی کا سفر21 November, 2006 | انڈیا چین، بھارت: تیرہ معاہدوں پردستخط 21 November, 2006 | انڈیا دس سال بعد چینی صدر بھارت میں 20 November, 2006 | انڈیا ’اپنے مفادات کا خیال رکھیں گے‘17 November, 2006 | انڈیا پاک چین دو دفاعی معاہدے16 August, 2006 | پاکستان ’مسئلہ کشمیر میں چین فریق نہیں‘04 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||