انٹیلیجنس رپورٹس یا ٹی وی ڈرامہ؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینٹ میں منگل کو ڈپٹی چئرمین جان محمد جمالی نے ایک موقع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کی رپورٹیں ’الفا بریوو چارلی‘ ڈرامے کی طرح ہوتی ہیں۔ سینیٹ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کے متعلق انٹیلیجنس ایجنسی نے رپورٹ دی کہ وہ شراب پیتے ہیں جبکہ وہ سگریٹ تک نہیں پیتے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلیجنس اہلکاروں کے بارے میں سچ بولنا چاہیے، وہ بھی انسان ہوتے ہیں ہم سے ذہین نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انٹیلیجنس والوں نے پارلیمینٹیرینز میں سے کسی کو ’ایوننگر‘ ( پینے پلانے والے) قرار دے رکھا ہے تو کسی کو ’مارننگر‘ ( نمازی)۔ ڈپٹی چیئرمین نے کہا ’آئی رپورٹ‘ یعنی انٹیلیجنس کی رپورٹوں کی بنیاد پر ہی افسران کی ترقیاں اور دیگر فیصلے ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ ریمارکس اس وقت دیے جب ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران اعلیٰ گریڈ میں ترقی پانے والے افسران میں چھوٹے صوبوں اور باالخصوص بلوچستان کے افسران کو انٹیلیجنس رپورٹس کی وجہ سے ترقیوں میں نظر انداز کرنے کے متعلق حزب مخالف کے اراکین بحث کر رہے تھے۔ اسماعیل بلیدی کے سوال پر حکومت نے ایوان کو بتایا کہ سن دو ہزار ایک سے دو ہزار پانچ تک سول سروس کے تین گروپس، سیکریٹریٹ، پولیس اور ڈسٹرکٹ مئنیجمینٹ کے گریڈ انیس اور بیس کے چار سو سولہ افسران کو اعلیٰ گریڈز میں ترقی دی گئی۔ حکومتی معلومات کے مطابق ترقی پانے والوں میں نصف سے بھی زیادہ یعنی دو سو اٹھاون افسران کا تعلق پنجاب، باسٹھ صوبہ سرحد، ستاون صوبہ سندھ، سترہ بلوچستان، نو فاٹا، آٹھ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور پانچ کا تعلق شمالی علاقہ جات سے ہے۔ اس پر بلوچستان کے سینیٹرز اسماعیل بلیدی، رضا محمد رضا اور دیگر اراکین نے احتجاج کیا کہ وفاق پاکستان میں تینوں چھوٹے صوبوں اور باالخصوص صوبہ بلوچستان کو ملازمتوں میں کوٹے کے مطابق ایک تو حصہ نہیں ملتا دوسرا اعلیٰ گریڈ میں ترقی نہیں ملتی۔ ان کے بقول ترقی میں رکاوٹ انٹیلیجنس رپورٹ بنتی ہے۔ جس پر اس بحث کے دوران ڈپٹی چیئرمین نے اپنے ریمارکس دیے۔ حزب مخالف کے سینیٹرز کی جانب سے بلوچستان کے شہریوں کو ملازمتوں اور افسران کو ترقیوں میں نظر انداز کیے جانے کے خلاف جب حزب مخالف کے اراکین نے احتجاج کیا تو بلوچستان سے تعلق رکھنے والے حکومتی بینچوں پر بیٹھنے والے سینیٹرز بھی ان کی حمایت کی۔ بعد میں حزب مخالف کے اراکین نے احتجاج کرتے ہوئے علامتی واک آؤٹ کیا لیکن اس میں حکومت کے حامی بلوچستان کے سینیٹرز نے حصہ نہیں لیا۔ طاہر مشہدی کے سوال کے جواب میں حکومت نے ایوان کو بتایا کہ وفاقی حکومت میں کل تین لاکھ اٹھاون ہزار ملازم ہیں جس میں سے پنجاب کے ایک لاکھ ستتر ہزار آٹھ سو، سندھ کے اٹھاون ہزار، سرحد کے تراسی ہزار، بلوچستان کے گیارہ ہزارکشمیر کے چار سو، شمالی علاقہ جات کے ساڑھے اکیس ہزار اور فاٹا کے انیس سو شامل ہیں۔ | اسی بارے میں شورشرابا: سینٹ کا اجلاس ملتوی16 April, 2004 | پاکستان اپوزیشن نے سینٹ کا اجلاس بلا لیا24 September, 2005 | پاکستان وزراء سمیت آدھی سینٹ ریٹائر02 January, 2006 | پاکستان سینٹ سے صحافیوں کا واک آؤٹ 23 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||