سینیٹ سے صحافیوں کا واک آؤٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایوان بالا یعنی سینیٹ کی پریس گیلری سے منگل کو صحافیوں نے پشاور سے شائع ہونے والے روزنامہ ایکسپریس کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر سہیل قلندر اور ان کے ساتھی نیاز محمد کے اغواء کے خلاف واک آؤٹ کیا۔ واک آؤٹ کے بعد وزیر مملکت برائے تعلیم انیسہ زیب طاہر خیلی صحافیوں کے پاس آئیں اور انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ صوبہ سرحد کے گورنر سے اس بارے میں رابطہ کرکے مغوی صحافیوں کو جلد بازیاب کرایا جائے گا۔ صحافیوں نے حکومت کی یقین دہانی کے بعد اپنا احتجاج ختم کیا اور کہا کہ اگر ایک دو روز میں پیش رفت نہیں ہوئی تو وہ پھر احتجاج کریں گے۔ سہیل قلندر اور ان کے دوست نیاز محمد کو دو جنوری کو پشاور سے نامعلوم افراد نے اغواء کرلیا تھا۔ پولیس نے ان کی گاڑی اُسی روز حیات آباد سے برآمد کی تھی۔ سہیل قلندر دو مرتبہ پشاور پریس کلب کے صدر رہ چکے ہیں۔ مغوی صحافی کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ جس روز وہ لاپتہ ہوئے تو انتظامیہ ان کے اہل خانہ کو میڈیا میں معاملہ نہ لانے کا مشورہ دیتی رہی اور تسلی دیتی رہی کہ جلد ہی انہیں بازیاب کرایا جائے گا۔ لیکن بیس روز سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی حکومت انہیں بازیاب کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ تاحال یہ واضح نہیں کہ انہیں شدت پسند تنظیم نے اغواء کیا ہے یاکہ حکومتی ایجنسیوں نے۔ | اسی بارے میں صحافیوں کا اجلاس سے واک آوٹ09 February, 2005 | پاکستان سینٹ اور قومی اسمبلی میں احتجاج13 September, 2005 | پاکستان صدر کی وردی پر سینٹ میں احتجاج17 September, 2004 | پاکستان اپوزیشن نے سینٹ کا اجلاس بلا لیا24 September, 2005 | پاکستان شورشرابا: سینٹ کا اجلاس ملتوی16 April, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||