شورشرابا: سینٹ کا اجلاس ملتوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اقتدار کی جانب سے جلد بازی میں قومی سلامتی کونسل کا متنازعہ بل منظور کرنے کے خلاف جمعہ کے روز ایوان بالا سینیٹ میں حزب اختلاف نے شدید احتجاج کیا۔ حزب اختلاف نے چیئرمین سینٹ پر جانبداری کا الزام بھی عائد کیا جس پر ایوان میں شور شرابہ ہوگیا اور اجلاس کی کارروائی معطل کرنی پڑی۔ اجلاس شروع ہوا تو متحدہ مجلس عمل کے پروفیسر خورشید احمد نے نکتہ اعتراض پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تین منٹ میں بل منظور کر کے آئین، جمہوریت، ایوان اور قوم کے ساتھ مذاق کیا گیا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے رکن سینیٹ ثناء اللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کونسل کا بل انیس سو تہتر کے متفقہ آئین کی روح کے خلاف ہے۔ انہوں نے چیئرمین سینٹ کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ حکومتی ارکان نے تو جو کیا وہ ان کو کرنا تھا لیکن انہوں نے جانبداری کا مظاہرہ کر کے اس ایوان کے ساتھ سنگین مذاق کیا ہے۔ حزب اختلاف کے اراکین نے جب چیئرمین سینٹ پر جانبداری اور ایوان کو بلڈوز کرنے کے الزامات عائد کیے تو ایوان میں شدید شور شرابہ شروع ہوگیا۔ چیئرمین سینیٹ حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین کو بلا اجازت بولنے سے منع کرتے رہے لیکن کسی نے ان کی ایک نہ سنی جس پر مجبور ہو کر انہوں نے اجلاس کی کاروائی معطل کردی۔ کارروائی کی معطلی کے دوران دونوں جانب کے نمائندوں نے مذاکرات کئے اور ایوان میں سب کو بولنے کی اجازت پر اتفاق کیا گیا۔ جب اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو قائد ایوان وسیم سجاد نے کہا کہ حزب اختلاف کے ارکان نے ان کو بتایا ہے کہ انہوں نے بل کی کارروائی کا بائیکاٹ نہیں کیا تھا بلکہ قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ انہوں نہ کہا لہٰذا حکومت اپنی کوتاہی تسلیم کرتی ہے کیوں کہ ان کو حزب اختلاف کو منانا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کوتاہی پر حزب اختلاف سے معذرت خواہ ہیں۔ حکومت اور حزب اختلاف میں اختلافات کی وجہ سے ایجنڈے کے مطابق کارروائی نہ چل سکی اور اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||