قومی سلامتی کے بل پر بحث | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ میں قومی سلامتی کونسل کےمتنازعہ بل پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ منگل کی صبح منعقد کردہ اجلاس میں حزب اختلاف کی جانب سے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما رضا ربانی نے بحث کا آغاز کیا جبکہ حکومت کی جانب سے قائد ایوان وسیم سجاد نے ابتدا کی۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ قومی سلامتی کونسل کا قیام پاکستان کے متفقہ آئین کی نفی ہے اور یہ کونسل آئین سے ماورا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کی شق دو سو پینتالیس میں افواج پاکستان کے فرائض وضع کئے گئے ہیں جس کے مطابق افواج کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے۔ رضا ربانی نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کے قیام کے بعد پارلیمان کی حیثیت محض عمل درآمد کرانے والی سرکاری ایجنسی کی ہوجائے گی۔ انہوں نے مختلف حوالے اور مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ یہ کونسل آئین پاکستان کے وفاقی پارلیمانی اور جمہوری ڈھانچے کو متاثر کرے گی جبکہ ان کے بقول اس سے صوبائی خود مختاری بھی ختم ہوجـائے گی۔
رضا ربانی کا موقف تھا کہ سلامتی کونسل سے فوج کو سیاست میں قائدانہ کردار مل جائے گا اور پارلیمان وزیراعظم اور کابینہ سمیت تمام منتخب ادارے براہ راست کونسل کے ماتحت ہوجائیں گے۔ انہوں نے سن انیس سو اڑتالیس میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک بنانے والوں نے اس وقت ہی یہ ادارہ بنا کر ثابت کیا تھا کہ سلامتی کونسل جیسے پلیٹ فارم کی گنجائش نہیں۔ قائد ایوان وسیم سجاد نے رضا ربانی کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جن خدشات کا فاضل سینیٹر نے اظہار کیا ہے ان کا پورے فسانے(بل کے متن) میں ذکر تک نہیں۔ وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کونسل کے قیام سے نہ صرف فوجی مداخلت کو مستقبل میں روکا جا سکے گا بلکہ اس سے پارلیمانی اور جمہوری نظام بھی مستحکم ہوگا۔ متحدہ مجلس عمل کے پروفیسر خورشید نے کہا کہ اگر فوجیوں کو کونسل سے نکالا جائے اور سربراہ وزیراعظم کو مقرر کیا جائے تو پھر وہ حمایت پر غور کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کونسل کے ذریعے فوج کو سیاسی کردار دے کر عوام کی توہین کی جا رہی ہے۔ پروفیسر خورشید نے مزید کہا کہ اگر عدالتیں آزاد ہیں تو کونسل کے قیام کو کالعدم قرار دے دیں۔ انہوں نے فوجی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قبائیلی علاقوں میں آپریشن کے بعد ثابت ہوا کہ فوج کو اس کی قیادت قبضہ گیر کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ سینیٹ سے منظوری کے بعدیہ بل صدر کو دستخط کے لئے پیش کیا جائے گا اور جیسے ہی صدر دستخط کریں گے یہ کونسل قائم ہو جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||