BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 February, 2007, 13:20 GMT 18:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’انڈیانےمعلومات بروقت نہیں دیں‘

شیخ رشید
بھارت نے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی اطلاعات بروقت فراہم نہیں کیں۔
پاکستان کی قومی اسمبلی نےمنگل کو اتفاق رائے سے منظور کردہ قرار داد میں سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے بھارت سے واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومت اور حزب مخالف نے متفقہ طور پر معمول کی کارروائی روک کر سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکوں کے بعد آگ لگنے سے اڑسٹھ افراد کی ہلاکت کے متعلق بحث کی گئی۔

ریلوے کے وزیر شیخ رشید احمد نے کہا کہ بھارت نے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے بارے میں بروقت معلومات فراہم نہیں کیں۔ان کے مطابق بھارتی حکام نے ریل گاڑی روک دی تھی اور ان کی مداخلت کے بعد ریل کو پاکستان روانہ کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مسافروں کو بوگیوں میں بند کردیا جاتا ہے اور گ لگنے کے بعد کئی مسافر بوگیاں نہ کھلنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتا ہے لیکن قومی غیرت کا سودا نہیں کرسکتا۔

ریلوے کے وزیر نے تجویز پیش کی یہ ایوان قرار داد کے ذریعے بھارت سے مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کرے۔ ان کی رائے کی کچھ اراکین اسمبلی نے حمایت بھی کی۔ لیکن قرار داد میں بھارت سے غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قبل ازیں حزب مخالف کے بعض اراکین نے شیخ رشید پر سخت تنقید کی اور کہا کہ انہیں فوری طور پر پانی پت جانا چاہیے تھا۔مسلم لیگ(نواز) کے رکن اسمبلی سعد رفیق اور کئی دیگر ممبران نے شیخ رشید سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا۔

پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے جو قرار داد پیش کی اس میں سمجھوتہ ایکسپریس میں آگ کے واقعہ کو المناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ایوان متاثرہ مسافروں کے ورثاء سے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔

قرار داد میں سفارش کی گئی ہے کہ متاثرہ افراد کو فوری معاوضہ ادا کیا جائے، بھارت فوری طور پر لاشیں اور زخمیوں کو پاکستان منتقل کرے اور متعلقہ معلومات بھی فوری فراہم کی جائے، متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو فوری ویزا دیا جائے اور ایسے واقعات کو روکنے کے لیے دونوں ممالک کے ریلوے حکام مشترکہ حکمت عملی وضح کریں۔

قرار داد میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ پاکستان حکومت خارجہ پالیسی کے متعلق ایوان کو اعتماد میں لے۔

وزیر مملکت برائے خارجہ مخدوم خسرو بختیار نے ایوان کو بتایا کہ بھارت کی حکومت نے انہیں بتایا ہے کہ تاحال انچاس لاشوں کی شناخت ہوئی ہے اور ان میں سے ستائیس بھارتی اور بائیس پاکستانی شہری ہیں۔

وزیر کے مطابق دیگر لاشیں بری طرح جھلسنے کی وجہ سے شناخت میں دشواری ہو رہی ہے لیکن متعلقہ حکام اس بارے میں کوششیں کر رہے ہیں۔

خسرو بختیار نے بتایا کہ بھارتی ہائی کمیشن نے واہگہ بارڈر پر ویزا دینے کے لیے کاؤنٹر کھولنے کی اجازت مانگی جو پاکستان حکومت نے انہیں دے دی ہے اور آخری اطلاعات تک تیس پاکستانیوں کو ویزا بھی جاری کیا جاچکا ہے۔

اسی بارے میں
لواحقین کے لیے خصوصی ٹرین
19 February, 2007 | پاکستان
فون ہیلپ لائن، ویزا کی سہولت
19 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد