’سمجھوتہ ایکسپریس تخریب کاری کا نشانہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس میں اتوار کی رات ہونے والے دھماکوں کو ہندوستانی حکام تخریب کاری کی ورادات قرار دے رہے اور سکیورٹی حکام نے ٹرین کی دوسری بوگیوں سے بھی کچھ بم برآمد کیئے ہیں۔ ہندوستانی وزراتِ خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ تخریب کاری کی اس واردات کا مقصد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جاری امن مذاکرات کی راہ میں روکاوٹ پیدا کرنا ہے۔ اس واردات میں ہلاک ہونے والے 66 افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق پاکستان سے بتایا جاتا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ہندوستان کے ریلوے حکام نے تباہ شدہ بوگیوں کو ٹرین سے علیحدہ کرکے باقی ٹرین کو اٹاری پہنچا دیا ہے جہاں سے یہ پیر کو کسی وقت سرحد عبور کر کے واہگہ باڈر پہنچ جائے گی۔ پاکستان ریلوے حکام کے مطابق متاثرہ ٹرین کی بقیہ بوگیوں میں 553 پاکستانی اور 204 ہندوستانی مسافر سوار ہیں اور یہ ٹرین کی آمد واہگہ سٹیشن پر جلد متوقع ہے۔ ہندوستان کے وزیرِ اعظم من موہن سنگھ نے سمجھوتہ ایکسپریس پر تخریب کاری کو دہشت گردی کا بدترین واقعہ قرار دیا ہے۔ پاکستان نے کہا ہے کہ دھماکے کرنے والوں کو سزا ملنی چاہیے۔ دریں اثنا پاکستان ریلوے کے وزیر شیخ رشید نے ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعہ کی پوری تحقیقات کرائیں۔ دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے اس واقعہ کی مذمت کرتا ہے۔ بھارت کے وزیرِ داخلہ شِو راج پاٹل نے کہا ہے کہ جس نے بھی یہ کیا ہے وہ امن کا دشمن ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس پر دھماکوں سے زیادہ تر مسافر جل کر ہلاک یا زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ پاکستانی مسافر بھارت سے واپس آ رہے تھے اور طے شدہ وقت کے مطابق سمجھوتہ ایکسپریس کو پیر کی شام لاہور پہنچنا تھا۔ سمجھوتہ ایکسپریس ہفتے میں دو مرتبہ لاہور اور اٹاری کے درمیان مسافروں کو لاتی اور لے جاتی ہے۔ لاہور میں ریلوے حکام کو اس واقعے کا مکمل علم پیر کی صبح ہوا۔ موقع پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر نے ناردرن ریلوے کے مینیجر کے حوالے سے بتایا کہ جلی ہوئی بوگیوں سے صبح سات بجے تک 61 لاشیں نکالی جا چکی تھیں۔ لاشوں کو پانی پت بھیج دیا گیا ہے جہاں کفن اور تابوت تیار کیے جا رہے ہیں۔ زخمیوں کو دہلی منتقل کر دیا گیا ہے۔ آگ کا پتہ چلنے پر ڈرائیور نے ٹرین شیوا نامی گاؤں میں روکی جہاں گاؤں کے لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی اور انہوں نے آگ بجھانے کی کوشش کی۔آگ پر دو گھنٹے کے بعد قابو پایا جا سکا۔
سیکورٹی کے اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے اور تحقیقات کی غرض سے مواد اکٹھا کرنے کے بعد جلی ہوئی بوگیوں کو ٹریک سے ہٹا دیا گیا۔ ہمارے نامہ نگار نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ بوگیوں میں دو بم رکھے گئے تھے جو دھماکوں کے بعد جل گئیں۔ بم ناکارہ بنانے والی ٹیم نے بتایا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس کی تیسری بوگی سے بھی چار بم برآمد کر کے انہیں ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ تخریب کاری کی اس کارروائی میں کئی طرح کے دھماکہ خیز آلات یا مواد استعمال کیا گیا ہے۔ شکیل اختر نے بتایا کہ دو میں سے ایک بوگی کا دروازہ نہیں کھل سکا جس کے باعث اس میں سوار تمام مسافر جل کر راکھ ہوگئے۔ دوسری بوگی میں سوار کچھ افراد نے کود کر جان بچائی لیکن خدشہ ہے کہ بچے اور عورتیں جان بچانے میں ناکام رہے۔ | اسی بارے میں تھر ایکسپریس تئیس دسمبر سے03 November, 2006 | پاکستان پاک بھارت ریل رابطہ بحال15 January, 2004 | پاکستان سمجھوتہ ایکسپریس روانگی کے لئے تیار14 January, 2004 | صفحۂ اول سمجھوتہ ٹرین کے لیے بات چیت17 December, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||