| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاک بھارت ریل رابطہ بحال
دو سال کے تعطل کو ختم کرتے ہوئے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی سمجھوتہ ایکسپریس پچہتر مسافروں کے ساتھ ہندوستان کے سرحدی اسٹیشن اٹاری پہنچ گئی ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس صبح آٹھ بجے لاہور ریلوے سٹیشن سے روانہ ہوئی تھی۔ آج شام چار بجےکے قریب سمجھوتہ ایکسپریس ہندوستان سے آنے والے مسافروں کو لے کر لاہور واپس پہنچے گی۔ پاکستان ریلوے کے چیئرمین خورشید احمد نے فیتہ کاٹ کر دوبارہ شروع ہونے والی سمجھوتہ ایکسپریس کی پہلی ریل گاڑی کو پلیٹ فارم نمبر دو سے روانہ کیا۔ گاڑی کو رنگین جھنڈیوں سے سجایا گیا تھا۔ آج روانہ ہونے والی پہلی سمجھوتہ ایکسپریس میں بہت کم مسافر تھے اور زیادہ مسافر ایسے تھے جو ہندوستان سے بس کے ذریعے پاکستان اپنے رشتے داروں سے ملنے آئے ہوئے تھے لیکن جانے کے لیے انھیں بس میں نشستیں نہیں مل رہیں تھیں اس لیے انھوں نے اپنے ویزوں میں ترمیم کرا کے جانے کے لیے ریل گاڑی کا انتخاب کیا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سفر کرتے ہوئے ویزے میں اس بات کی پابندی ہوتی ہے کہ اگر ویزا بس کے لیے جاری کیا گیا ہے تو دونوں ملکوں کے درمیان بس ہی سے سرحد عبور کی جاسکتی ہے اور ریل کا ویزا ہو تو اسی سے آنا جانا کیا جاسکتا ہے۔ اس کو تبدیل کرانے کے لیے خصوصی اجازت لینا پڑتی ہے۔ رائے بریلی کے محلہ اندرون قلعہ کی حبیبہ بدر ایک عمر رسیدہ خاتون ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اس گاڑی سے اٹاری اور پھر امرتسر جائیں گی جہاں سے وہ لکھنؤ پہنچ کر رائے بریلی کا ٹکٹ لیں گی۔ لاہور سے انھیں لکھنؤ تک کا ٹکٹ ملا ہے جو ہندوستان کے ان آٹھ شہروں میں شامل ہے جن کا ریل ٹکٹ پاکستان سے ہی خریدا جاسکتا ہے۔
حبیبہ بدر دو ماہ پہلے چاند رات کو اپنی بیٹی اور داماد سے ملنے کراچی آئی تھیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں پاکستان کا ویزا لینے کے لیے بارہ روز دلی میں ٹھہرنا پڑا اور پھر دو روز دلی سے لاہور کی بس کا ٹکٹ لینے میں لگ گۓ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان واپس جانے کے لیے انہیں بس کا ٹکٹ لینے میں دشواری ہورہی تھی اس لیے انھوں نے سندھ سیکریٹیریٹ میں درخواست دے کر واپسی کے لیے ریل کے سفر کا انتخاب کرلیا۔ حبیبہ کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان میں ہر چیز اچھی لگی او سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہوئی کہ دونوں ملک ایک ہورہے ہیں اور دماغ میں اب ’ٹینشن‘ نہیں ہے۔ ہندوستان کے صوبہ گجرات کے شہر احمد آباد کے نواحی علاقہ نڈیال سے آیا ہوا تئیس سالہ زاہد گھگڑیال ایک طالبعلم بھی اس گاڑی کا مسافر تھا۔ وہ تین ماہ پہلے اپنے ننھیال والوں سے ملنے حیدرآباد اور کراچی آیا تھا۔ اس نے بھی کراچی میں بس کے ویزے کو ریل گاڑی سے تبدیل کروایا۔ زاہد نے لاہور سے دلی تک اکانومی کا ٹکٹ دو سو پچاس روپے میں لیا اور اس کا کہنا تھا کہ وہ دلی اور پھر بڑودا ہوتے ہوئے احمد آباد کا چھتیس گھنٹے کا سفر مکمل کرے گا۔ لاہور کے علاقہ سمن آباد سے شیخ اوصاف احمد ، ان کی والدہ رشیدہ بیگم اور بیوی شمع پروین ہندوستان کے شہر دہرہ دون جانے کے لیے سمجھوتہ ایکسپریس سے روانہ ہوئے۔
شیخ اوصاف کی بیوی شمع پروین ان کی خالہ زاد ہے جن کا میکہ دہرہ دون میں ہے۔ شمع پروین تین سال پہلے شادی کے بعد پاکستان آئی تھیں اور پہلی بار اڑھائی سال کے شیر خوار بچے کو گود میں لے کر میکے جا رہی ہے۔ اس خاندان نے لاہور سے انبالہ تک کے ٹکٹ لیے ہیں۔ سمجھوتہ ایکسپریس تو انہیں اٹاری لے جائے گی جہاں سے وہ امرتسر جائیں گے اور پھر انبالہ اور سہارن پور ہوتے ہوئے دہرہ دون پہنچیں گے۔ شیخ اوصاف نے بتایا کہ اسلام آبادمیں ہندوستان کے سفارت خانے میں دو دو سال سے لوگوں کے پاسپورٹ ویزوں کے لیے پڑے ہوۓ ہیں اور وہاں کمرے میں فرش پر بکھرے ہوئے ہیں۔ خود انھوں نے اپنا پاسپبورٹ ایک ڈھیر میں سے فرش سے اٹھایا۔ ان کی والدہ رشیدہ بیگم نے کہا کہ سمجھوتہ ایکسپریش میں پہلی بار اتنے کم مسافر ہیں ورنہ پہلے جب بھی وہ اس سے سفر کرتی تھیں اس میں تجارت کرنے والے لوگوں کی بھرمار ہوتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ رشتے داروں سے سےملنے جلنے والوں کے لیے جانے والوں کے الگ ڈبے اور تجارت والوں کے الگ ڈبے ہونے چاہئیں۔ انھو ں نے کہا کہ پچھلی بار وہ سامان لانے لےجانے والوں کے رش کے باعث جگہ نہ ہونے کی وجہ سے واہگہ تک کھڑے ہوکر گئی تھیں۔ گاڑی کے ڈرائیور میاں اللہ دتہ نے بتایا کہ وہ چالیس سال سے زیادہ عرصہ سے ریلوے میں ملازم ہیں اور انیس سو ننانوے سے سمجھوتہ ایکسپریس کے معطل ہونے تک اس کو چلاتے رہے ہیں۔ دوسرے ڈرائیور حبیب نثار پہلی بار اسے چلا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انہیں یہ گاڑی چلا کر اچھا لگ رہا ہے کہ ٹوٹا ہوا ناطہ پھر سے جڑ رہا ہے۔ لاہور ریلوے اسٹیشن کے اسٹیشن منیجر ایس ایم عابد نے بتایا کہ یہ ریل گاڑی دس ڈبوں پر مشتمل ہے جس میں سات اکانومی کلاس کے مسافروں کے لیے ہیں ، ایک ڈبہ فرسٹ کلاس کا اور دو ڈبے اسٹاف اور مسافروں کے لیے ہیں۔ اس گاڑی میں سات سو سے زیادہ لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ ریل گاڑی لاہور اسٹیشن سے واہگہ پہنچنے میں چالیس منٹ لیتی ہے اور وہاں سے اٹاری تک دس منٹ لگتےہیں۔ تاہم واہگہ پر کسٹم اور امیگریشن میں گھنٹوں صرف ہوتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||