تھر ایکسپریس تئیس دسمبر سے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے محکمہ ریل کے اعلی سطحی مذاکرات میں بھارت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مونا باؤ سے کھوکرا پار کے لیے تھر ایکسپریس ٹرین کو تئیس دسمبر سے دوبارہ شروع کر سکے گا۔ اس سال سترہ فروری سے دونوں ملکوں نے اکتالیس برسوں بعد اس راستے پر ٹرین سروس بحال کی تھی جسے اگست میں بھارت نے یہ کہہ کر معطل کردیا تھا کہ بارشوں کے باعث جودھ پور موناباؤ ریل پٹری زیر آب آگئی ہے۔ دلی سے جمعرات کی شام واپس آنے والے پاکستان ریلوے کے وفد کے سربراہ اور اسسٹنٹ جنرل منیجر (فریٹ) علی عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ دلی میں اکتیس اکتوبر سے دو نومبر تک دونوں ملکوں کے درمیان ٹرین رابطوں کو بہتر بنانے پر مذاکرات ہوئے جن میں فریقین کے سات سات نمائندے شریک تھے۔ علی عارف نے کہا کہ منا باؤ اور کھوکراپار کے درمیان چلنے والی تھر ایکسپریس بھارت کی طرف ریلوے کے کچھ مسائل کی وجہ سے بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وفد نے ملاقات میں بتایا ہے کہ بھارت تئیس دسمبر سے یہ ٹرین دوبارہ شروع کرسکے گا، تاہم فریقین نے تھر ایکسپریس کے دوبارہ شروع کیے جانے کی تاریخ کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا۔ پاکستان ریلوے کے افسر نے کہا کہ بھارت نے مناباؤ کھوکراپار پر مال گاڑی چلانے کی تجویز بھی پیش کی جس پر غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف تھا کہ اس کے پاس ابھی کھوکراپار میں بار برداری وغیرہ کی وہ سہولیات موجود نہیں جو اس مال گاڑی کو چلانے کے لیے درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو بتایا کہ اس نے یہ تجویز نوٹ کرلی ہے۔ علی عارف نے کہا کہ کھوکرا پار میں ابھی تک مسافر گاڑی چلانے کے لیے سہولیات جیسے ریل اسٹیشن، سایہ، انتظار گاہ، غسل خانے وغیرہ موجود نہیں۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ بھارت کی تجویز تھی کہ تھر ایکسپریس کو ہفتہ میں دو بار چلایا جائے کیونکہ بھارت سے آنے والے مسافروں کی تعداد زیادہ ہے لیکن پاکستان نے اس پر بھی یہی کہا کہ جب بھارت کی طرف مسافر ٹرین کے لیے سہولیات تعمیر ہوجائیں گی تب ایسا کرنا ممکن ہوگا۔ پاکستانی وفد کے سربراہ کے مطابق بھارت نے پاکستان کو یہ تجویز بھی دی کہ اٹاری اور واہگہ کے راستے ٹرین کے ذریعے مال کی آمد و رفت بڑھائی جائے اور دن میں ایک مال گاڑی چلانے کی بجائے دو ٹرینیں چلائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر بھی ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔ اسسٹنٹ جنرل منیجر ریلوے نے کہا کہ پاکستان نے بھارت سے کہا ہے کہ ٹرین سے سفر کرنے والے مسافر مقررہ حد سے زیادہ سامان لے آتے ہیں اور بھارت اس حد کی پابندی پر عمل درآمد کروائے۔ بھارت وفد کی سربراہی بھارتی حکومت کے مشیر برائے ٹریفک اشوکا گپتا نے کی۔ | اسی بارے میں تھر ایکسپریس: دو ماہ کے لیئےمعطل 14 September, 2006 | پاکستان تھر ایکسپریس حیدرآباد سے 04 August, 2006 | پاکستان تھر ایکسپریس: ہفتے میں دوبار 08 July, 2006 | پاکستان تھر ایکسپریس بھارت پہنچ گئی18 February, 2006 | پاکستان تھر ایکسپریس کراچی سے روانہ17 February, 2006 | پاکستان راجا کی ریل سے تھر ایکسپریس تک10 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||