تھر ایکسپریس بھارت پہنچ گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان اکتالیس سال بعد کھوکراپار کے راستے چلنے والی ٹرین سروس جمعہ کی رات بحال ہوگئی۔ افتتاحی ٹرین جمعہ کی رات کو گیارہ بجے کراچی سے روانہ ہوئی اور صبح ساڑھے آٹھ بجے زیرو پوائنٹ پہنچی جہاں کسٹمز اور امیگریشن کا کام مکمل ہونے کے بعد یہ ٹرین بھارتی حدود میں داخل ہو کر موناباؤ پہنچ گئی۔ کھوکھراپار ریلوے سٹیشن کے سٹیشن ماسٹر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تھر ایکسپریس پاکستان کی حدود سے بھارت میں مقامی وقت کے مطابق ایک بجے کر پانچ منٹ پر داخل ہوئی ہے اور یہ ٹرین اندازاً تین گھنٹے کے بعد واپس آئےگی۔ انہوں نے بتایا کہ ’اب ٹرین سے ہمارا موصلاتی رابطہ منقطح ہوگیا ہے جیسے ہی پاکستان کی حدود میں داخل ہوگی تو رابطہ بحال ہوجائےگا‘۔ اسٹیشن ماسٹر کے مطابق اس ٹریک پر یہ پہلی ٹرین بغیر کسی مشکلات سے کامیابی کیساتھ کھوکھراپار پہنچ گئی ہے اور مسافروں کو بھی کوئی تکلیف نہیں اٹھانی پڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موناباؤ پر ویزے، ٹکٹ کی چیکنگ، کسٹمز اور امیگریشن میں تین گھنٹے لگ جائیں گے جس کے بعد ٹرین بھارتی مسافروں کو لیکر واپس آئےگی۔ زیرو پوائنٹ تک ٹرین میں سفر کرنے والے بی بی سی نامہ نگاروں کے مطابق حیدرآباد، میرپور خاص اور چھور میں افتتاحی ٹرین کا شاندار استقبال ہوا۔ ٹرین سروس کے افتتاح کے موقع پر کراچی کے ٹرین سٹیشن پر رنگا رنگ روشنیاں لگائی گئی تھیں اور ٹرین کو جھنڈیوں سے سجایا گیا تھا۔ ٹرین پر کئی مسافر ٹکٹ خریدنے کے باوجود اس لیے سفر نہ کر سکے کیونکہ ان کے پاس بھارت کا ویزا نہیں تھا۔ اس سےقبل جمعہ کی رات تھر ایکسپریس کے افتتاحی سفر روانہ ہونے کے موقع پر کراچی سٹیشن پر ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیر اعلیٰ اور گورنر سندھ دونوں شریک تھے۔ سٹیشن پر گورنر سندھ کی جماعت ایم کیو ایم کی جھنڈے لگے ہوئے تھے، اور پارٹی کارکنان جماعت کے قائد الطاف حسین کے حق میں نعرے لگا رہے تھے جس سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ یہ پورا ایم کیو ایم کا ہی شو ہے۔ ایم کیو ایم کے دو وزراء کنورخالد یونس اور پروفیسر خالد وہاب افتتاحی ٹرین میں سفر کر رہے ہیں۔ تھر ایکسپریس کہلانے والی یہ ٹرین سروس کراچی سے ہفتے میں ایک بار چلے گی اور تین سو اسی کلومیٹر کا فیصلہ چودہ گھنٹے میں طے کر کے مونا باؤ پہنچے گی۔ اس ٹرین کا کرایہ تین سو نوے روپے فی کس ہے |
اسی بارے میں زیروپوائنٹ پر میلے کی تیاریاں17 December, 2005 | پاکستان زیرو پوائنٹ پرسٹیشن کی تجویز 08 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||