زیرو پوائنٹ پرسٹیشن کی تجویز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور پاکستان کے مابین کھوکراپار مونا باؤ ریلوے سروس کی بحالی کے لیے ٹریک بچھانے کا کام اس ماہ میں مکمل ہوجائےگا جبکہ حتمی مذاکرات کے لیے پاکستان سے ایک وفد بائیس دسمبر کو نئی دہلی روانہ ہورہا ہے ۔ انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے بعد اس روٹ کو بند کردیا گیا تھا۔ ریلوے کے وفاقی وزیر میاں شمیم اختر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کھوکرا پار کے بجائے تین کلو میٹر آگے زیرو پوائنٹ پر ریلوے سٹیشن بنانے کی تجویز ہے۔ جہاں دیگر انتظامات بھی کیے جائیں گے۔ میاں شمیم کا کہنا تھا کہ جو وفد نئی دہلی جا رہا ہے وہ طے کرےگا کہ کسٹمز اور امیگریشن کے مسائل کیسے حل کیے جائیں اور کتنی گاڑیاں چلائی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اکتیس جنوری کو اس روٹ کا افتتاح کیا جائے گا۔ صدر پرویز مشرف یا وزیراعظم شوکت عزیز اس کا افتتاح کریں گے۔ انہوں نےامید ظاہر کی کہ مقرر تاریخ تک سروس شروع ہوجائےگی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس وقت لوگوں کو ایک بڑا فاصلہ طے کرکے واہگہ کے ذریعے بھارت جانا پڑتا ہے۔ کھوکراپار کے بعد یہ راستہ کم ہوجائےگا۔ دوسری جانب وفاقی سیکریٹری داخلہ کمال شاہ نے بتایا کہ کسی بھی دہشتگری، تخریب کاری یا مشتبہ لوگوں کی آمدرفت روکنے کے لیے بارڈر پر ریلوے سٹیشن بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ دونوں طرف بارڈر پر مسافروں کو اتارا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ مسافروں کے لیے سرحد پر شیلٹرز بنائے جائیں گے۔ سروس شروع ہونے کے بعد سکیورٹی کے تمام ممکنہ انتظامات بھی کیے جائیں گے۔ دوسری جانب بھارت کے ہائی کمشنر شیو شنکر مینن نے بدھ کو بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کھوکرا پار روٹ کھولنے کے لیے تمام تر انتظامات کیے جا رہے ہیں اور انہوں نےامید ظاہر کی کہ جنوری کے پہلے ہفتے میں سروس شروع ہوجائےگی۔ کراچی ہائی کمیشن سے ویزے جاری کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ عمارت کی مرمت کا کام مکمل کیا جارہا ہے اور جنوری سے ویزوں کا اجراء شروع کیا جائےگا۔ | اسی بارے میں مونا باؤ، کھوکھرا پار ریل چلے گی؟26 November, 2004 | انڈیا کھوکھراپار،موناباؤ ریل مذا کرات03 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||