BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 February, 2006, 15:23 GMT 20:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راجا کی ریل سے تھر ایکسپریس تک

ریل گاڑی
کھوکھراپار ریلوے کی توسیع کے منصوبے پر کام جاری ہے
جودھ پور کھوکھراپار ریلوے سروس جہاں کئی لوگوں کو ملانے کا سبب بنی وہاں خود بھی راجا کی ٹرین سے لیکر تھر ایکسپریس تک اس نے کئی منزلیں طے کی ہیں۔

سندھ کے میرپورخاص، تھرپارکر اور سانگھڑ اضلاع کے رہائشی راجستھان اور گجرات سے اسی ریل سے تعلقات کے ساتھ رشتہ بندھا رہا۔ لیکن انیس سو پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ کے بعد اس میں خلیج پیدا ہوگیا۔

جودھ پور ریاست کے مہاراجا امید سنگھ نے قحط کے دنوں میں اناج کی ترسیل کے لیے یہ ٹرین سروس شروع کی تھی۔ جس وجہ سے لوگ اس ٹرین کو راجا کی ریل کے نام سے جانتے تھے۔

اٹھارہ سو بانوے میں برطانوی حکومت نے حیدرآباد سے میرپور خاص کے مشرق میں واقع شادی پلی تک میٹر گیج ٹرین شروع کی ہوئی تھی۔

 انیس سو چوبیس کو جودھپور بیکانیر سیکشن الگ الگ کردیے گئے تو اس سیکشن کا نام جودھ پور ریلوے سروس رکھاگیا جس کے مالک جودھ پور کے مہاراجا امید سنگھ تھے۔

پرانے کانگریسی رہنما کشور لال ہریجن نے جنہوں نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا نے بی بی سی کو بتایا کہ مغرب میں شادی پلی تک اور مشرق میں باڑ میر تک ریلوے لائن بچھائی گئی تھی۔ سن انیس سو میں جودھ پور ریاست کے مہاراجا اور برطانوی حکومت کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں باڑ میر سے شادی پلی تک ریلوے لائن بچھائی گئی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب صحرائے تھر چھپنا قحط کے نام سے مشہور شدید قحط کی زد میں آگیا تھا۔

ریلوے ٹریک کے شادی پلی سے باڑ میر تک درمیانی حصے کو بیراجی علاقوں سےگندم راجستھان تک پہنچانے کے لیے مکمل کیا گیا۔ اس وقت زیرین سندھ میں گندم اور چاول کی بہت اچھی فصلیں ہوتی تھیں۔

بیسویں صدی کی ابتداء میں اس ریل سروس کا نام جودھپور بیکانیر ریلوے رکھاگیا۔ بعد میں دس نومبر انیس سو چوبیس کو جودھپور بیکانیر سیکشن الگ الگ کردیے گئے تو اس سیکشن کا نام جودھ پور ریلوے سروس رکھاگیا جس کے مالک جودھ پور کے مہاراجا امید سنگھ تھے۔ تب ریل سے متعلق کئی لوک گیتوں نے بھی جنم لیا۔’ریل گاڈی آئی بمبئی رو مال لائی‘ یا ’گاڈی جووا جیوی چھے‘۔

یہ گیت اس وقت بمبئی سے تجارت اور گاڑی کی خوبصورتی اور تیز رفتاری کو بیان کرتے ہیں۔

تقسیمِ ہند کے بعد جودھ پور کے مہاراجا نے یہ ٹرین سروس پاکستان کو بیچ دی اور یہ سیکشن پاکستان نارتھ ویسٹرن ریلوے کا حصہ بن گئی۔ یہ سروس انیس سو پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ تک چلتی رہی۔

پاکستان کی آخری ٹرین کے ساتھ کھوکھروپار جانے والے سابق فائر مین ولایت حسین صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ انیس سو پینسٹھ کے جنگ والے دن بھارت کی ٹرین کو پاکستان آنا تھا، لوگ ریلوے اسٹیشن پر انتظار کرتے رہے مگر ٹرین نہیں آئی۔

ولایت حسین صدیقی
ولایت حسین صدیقی

ولایت حسین نے بتایا کہ انڈین ریلوے حکام نے ہمیں فون پر آگاہ کیا کہ ان کا انجن فیل ہوگیا ہے، لہٰذا آپ ٹرین لیکرآجائیں، لیکن ہمارے حکام نے ایسا کرنے سےانکار کردیا اور انہیں کھوکھروپار تک آنے کی پیشکش کی جس پر انڈین ریلوے حکام نے اتفاق کیا۔

ولایت حسین وہ دن یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’ہم جب کھوکھراپار پہنچے تو بھارت سے ٹرین نہیں آئی لوگ انتظار کرتے رہے۔ اور شام چار بجے جنگ شروع ہوگئی۔ ہم واپس آگئے۔ٹرین کے مسافروں میں بھارت کے بھی شہری شامل تھے جنہیں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔‘

راجا کی ریل میرپورخاص سے صبح آٹھ بجے روانہ ہوتی تھی اور شادی پلی، پتھورو اور چھور ریلوے اسٹیشن سے گزر کر دوپہر کو ایک بجے موناباؤ پہنچتی تھی۔ یہ ریل چھپن کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر طے کرتی تھی۔

 اس زمانے میں وقت کا بڑا خیال رکھا جاتا تھا۔ اگر ٹرین ایک گھنٹہ لیٹ ہوتی تھی تو حکومت کو ایک ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑتا تھا۔

اس زمانے میں وقت کا بڑا خیال رکھا جاتا تھا۔ اگر ٹرین ایک گھنٹہ لیٹ ہوتی تھی تو حکومت کو ایک ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑتا تھا۔

ولایت صدیقی کواس روٹ پر چلنے والے انجنوں کے نمبر آج بھی یاد ہیں۔ ٹرین میں وی ڈی کلاس انجن ہوتے تھے۔ پاکستان سے ایک سو چالیس، ایک سو اڑتیس اور ایک سو تیس نمبر انجن جاتے۔ بھارت کے پاس وی بی کلاس انجن تھے یہ دونوں انجن اجمیر شریف کے ریلوے ورکشاپ میں بنے ہوئے تھے۔

انجن میں ایندھن کے لیے ڈامر جیسا کالا تیل استعمال کیا جاتا تھا جس سے سٹیم بنتی۔ایک طرف کے سفر میں ایک ٹن سے زیادہ تیل استعمال ہوتا تھا۔
بھارت سے آنے والی ٹرین کو ’ون اپ‘ جبکہ پاکستان سے جانے والی ٹرین کو ’ٹو ڈاؤن‘ کہا جاتا تھا۔ میرپورخاص سے جودھ پور تک ٹکٹ تیس روپے ہوتی تھی۔

کھوکھراپار ریلوے کی توسیع کے منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر غلام رسول میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ میٹر گیج کو براڈ گیج لائن میں تبدیل کرنے کے بعد اس ٹریک پر ریل ایک سو چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی ہے۔ مگر اس کو پچانوے کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلایا جائیگا۔

پٹڑی کے نیچے لکڑی یا لوہے کے بجائے سمنٹ کے سلیپر لگائےگئے ہیں۔
پٹڑی کے نیچے لکڑی یا لوہے کے بجائے سمنٹ کے سلیپر لگائےگئے ہیں۔

پٹڑی کے نیچے لکڑی یا لوہے کے بجائے سمنٹ کے سلیپر لگائےگئے ہیں۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ سمنٹ کے سلیپر زیادہ پائیدار ہیں جو کہ آئندہ پچاس برس تک چل جائینگے۔اور ریت میں ان کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔

غلام رسول نے بتایا کہ میرپورخاص سے زیرو پوائنٹ تک ساڑھے دو لاکھ سلیپر اور بائیس ہزار سے زائد ریل (پٹڑی) استعمال ہوئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ زیروپوائنٹ پر عارضی ریلوے اسٹیشن واہگہ کی طرز پر بنایاگیا ہے۔ جس پر ایک ہزار فٹ لمبا پلیٹ فارم اور تین سو فٹ بٹر فلائی شیلٹر تعمیر کیاگیا ہے۔

چالیس سال کے بعد پہلی مرتبہ یہ ٹرین صرف پاکستان ریلوے کے نام سے چلائی جائیگی۔

ٹریک جو بنیادی طور پر اناج کی ترسیل کے لیے بنایا گیا تھا بحال تو ہو رہا ہے لیکن اس مرتبہ اس کی ترجیح اناج کی ترسیل یا تجارت نہیں بلکہ مسافر ہیں۔

ٹھاکرتھرپارکر کے ٹھاکر
کھوکراپار سرحد کھلنے پر خوش
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد