BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 January, 2006, 13:31 GMT 18:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تھر ایکسپریس کے آغاز میں تاخیر

ریل کے شروع ہونے میں تقریبا 15 سے 20 دن تک کا وقت لگ سکتا ہے
موناباؤ اور کھوکھرا پار کے درمیان چلائی جانے والی ریل گاڑي’تھر ایکسپریس‘ اپنے مجوزہ شیڈول کے مطابق نہیں چل سکے گی۔

ہندوستان کے ریلوے حکام نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس ریل سروس سے متعلق تمام پہلوؤں پر بات چیت مکمل ہو چکی ہے لیکن ابھی باضابطہ معاہدے پر دستخط ہونا باقی ہیں۔ ریلوے کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ’تھر ایکسپریس‘ کا آغاز یکم فروری سے ہونا تھا لیکن اب وہ پندرہ سے بیس دن تاخیر سے چلے گی۔

یاد رہے کہ پاکستانی حکام نے تھر ایکسپریس کے آغاز کی تاریخ یکم فروری سے بڑھا کر چار فروری کرنے اعلان کیا تھا۔

ریلوے اہلکار کے مطابق’ آئندہ 30 اور 31 تاریخ کو پاکستان نے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے ہمیں دعوت دی ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ’معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد اس ریل کے شروع ہونے میں تقریبا 15 سے 20 دن تک کا وقت لگ سکتا ہے‘۔

اس مہینے کی ابتدا میں ہندوستان اور پاکستان کے ریلوے افسران نے دو روز کی بات چیت کے بعد اعلان کیا تھا کہ یکم فروری سے تھرایکسپریس شروع ہو جائے گی اور اب اس میں مزید تاخیر نہیں ہوگی کیوں کہ اس سے متعلق تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔

بعض خبروں میں بتایا گیا ہے کہ اس ریل سے متعلق سلامتی کے پہلوؤں کو بھی ابھی حتمی شکل نہیں دی جا سکی ہے اور تمام پہلوؤں کے مکمل ہونے کے بعد ہی یہ ٹرین چل سکے گی۔ یاد رہے کہ سندھ اور راجستھان کی سرحدوں کے درمیان آخری بار 1965 میں ریل چلی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد