BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 January, 2006, 12:56 GMT 17:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کھوکھرا پار ریل چار فروری سے

کھوکھرا پار میں تیاریاں زوروں پر ہیں
موناباؤ اور کھوکھرا پار کے درمیان مسافر ریل گاڑی چار فروری سے چلائی جائیگی، پاکستان میں اس کے حفاظتی انتظام رینجرز کے حوالے ہونگے۔

اس سے قبل دلی میں جنوری کے پہلے ہفتے میں ہونے والے مذاکرات میں دونوں دونوں ممالک نے ’تھر ایکسپریس‘ یکم فروی سے چلانے پر اتفاق کیا تھا۔

پاکستان کے وزیر ریلوے میاں شمیم حیدر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تھر ایکسپریس‘ کراچی سے ہر ہفتے کے رات کھوکھرا پار کے لئے روانہ ہوگی جو میرپور خاص سے ہوتی ہوئی صبح کو آٹھ بجے کھوکھرا پار پہنچے گی۔ جہاں سے گیارہ بجے بھارتی ریلوی اسٹیشن موناؤ باؤ پر اس کی آمد ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں اطراف میں تقریبا دو گھنٹے کسٹمز اور امیگریشن کے لوازمات کے بعد مسافروں کو آگے جانے دیا جائیگا۔

وزیر ریلوے نے بتایا کہ کراچی سے موناباؤ تک ایک سو نو روپے کرائے کی تجویز ہے، جبکہ مسافروں کی سہولت کے پیش نظر ریل میں اے سی اور نان اے سی دونوں بوگیاں شامل ہیں۔

میاں شمیم نے کہا کہ زیرو پوائنٹ پر بھی ریلوی اسٹیشن بنایا جائیگا۔ وہاں فوری طور پر پلیٹ فارم تیار کیا گیا ہے جبکہ ریلوی اسٹیشن میں وقت درکار ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل زیرو پوائنٹ پر صرف پلیٹ فارم بنانے کی تجویز تھی جبکہ بھارت نے ریلوی اسٹیشن بنانے پر زور دیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ زیرو پوائنٹ سے لیکر کھوکھراپار تک حفاظتی انتظامات رینجرز کے حوالے کئے گئے ہیں۔

زیرو پوائنٹ اور کھوکھراپار پر موجودہ وقت کوئی بھی سہولت موجود نے ہونے کے بارے میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بجلی، پانی اور ٹیلیفون کو ادائیگی کی گئی جن میں سے واپڈا نے اولیت پر بجلی کی فراہمی کے لئے یقین دہانی کروائی ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ بھارت نے دلچسپی ظاہر کی ہے کہ ان کے کنٹینر فلیٹ کی کراچی پورٹ تک آمد رفت ہو مگر اس پر پاکستان حکومت نے اس کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے،اس پر دورسرے مرحلے میں غور ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ اس سرحد کے کھلنے سے مقامی علاقے میں بھی ترقی ہوگی۔ ملازمتوں میں مقامی لوگوں کو اولیت دی جائیگی۔ زیرو پوائنٹ پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بھی دلچسپی ہے جلد وہاں فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کھل جائینگے۔

ریلوے ٹریک میں ناقص میٹریل کی اطلاعات کو انہوں نے رد کرتے ہوئے بتایا کہ ٹریک میں امپورٹیڈ مٹیریل استعمال کیا گیا ہے پٹڑیچائنا سے امپورٹ کی گئی ہیں جبکہ سلیپر ریلوی فیکٹری میں بنائے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں خاص انتظامات یا کوئی پلیٹ فارم مخصوص کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لانڈھی کوٹڑی ریلوی ٹریک کی مرمت ہو رہی ہے، جس کے بعد صورتحال بہتر ہوجائیگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد