تھرپارکر کے نامکمل ٹھاکر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تھرپارکر کے ٹھاکر آج بھی اپنی پرانی روایت کے ساتھ زندگی گذار رہے ہیں۔ مجروسا کہہ کر دونوں ہاتھ باندہ کے سلام کرنے سے لیکر اپنے مخصوص لباس اور سٹائل کی وجہ سے وہ دوسری کمیونٹیز سے منفرد نظر آتے ہیں۔ ٹھاکروں نے کئی سال عمرکوٹ پر حکومت کی اور انگریزوں سے جنگ کئی سال تک لڑتے رہے۔ ان کی بہادری کے قصے آج بھی لوک گیتوں اور قصوں میں محفوظ ہیں۔ پاک بھارت قیام سے قبل عمرکوٹ اور تھرپارکر سے لے کر جودھ پور اور جیسلمیر تک ٹھاکروں کی حکمرانی تھی اور آپس میں رشتیداریاں تھیں جو ابھی تک قائم ہیں مگر سرحدوں نے انہیں باٹ دیا ہے۔ ٹھاکر سروپ سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس خطے میں رہنے والے ٹھاکر سوڈہا ہیں جبکہ ان کی ذات کے دیگر پچانوے فیصد خاندان بھارت میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سوڈہا ذات کے ٹھاکر نہ اپنی اسی ذات میں سے شادی کرسکتے ہیں نہ اور نہ ہی اس میں بہن بیٹی کا رشتہ دے سکتے ہیں۔ سروپ سنگھ نے بتایا کہ ’ہم راٹھوڑ اور بھاٹی ٹھاکروں میں رشتے دیتے اور لیتے ہیں۔اس لیے ہمیں شادی کے لیے آج بھی بھارت جانا پڑتا ہے۔‘ ٹھاکر بہت سخت دل تصور کیے جاتے ہیں اور ان کے بارے میں مشہور ہے کہ اپنی بیٹی کے سسرال کا پانی بھی پینا اپنی شان کے خلاف تصور کرتے ہیں لیکن یہاں وہ سرحد کے اس پار بیائی ہوئی اپنی بیٹیوں اور بہنوں سے ملنے کے لیے ترستے ہیں۔ سروپ سنگھ نے بتایا کہ ان کی بہن کی سولہ سال قبل شادی ہوئی تھی، اس کے بعد وہ آج تک ان سے مل نہیں سکے ہیں۔ بہن راجستھان میں بیائی ہوئی ہے۔ کھوکھراپار سرحد کھلنے کے اعلان پر بعد تھر کے ٹھاکروں میں سب سے زیادہ خوشی پائی جاتی ہے مگر بھارتی حکومت کی جانب سے سرحدی علاقوں کے لیے ویزے نہ دینے کے اعلان نے انہیں کچھ اداس کیا ہوا ہے۔ جگمال سنگھ بتاتے ہیں کہ ہماری رشتیداریاں جودھپور، باڑ میر۔جیسلمیر میں ہیں جو سارے سرحدی علاقے ہیں۔اس فیصلے سے ان کے لیے دشورایاں پیدا ہوں گی۔ رگھویر سنگھ سوڈھو کے مطابق ٹھاکر میں جو غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ان کے لئے بھارت جانا اور وہاں رشتیداریاں کرنا مہنگا پڑتا ہے مگر اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے بھارتی ویزے کے لیے اسلام آباد کے چکر لگانے پڑتے ہیں اس کے بعد واہگہ بارڈر کے ذریعے جانا پڑتا ہے جس میں کئی روز لگ جاتے ہیں ہمیں راجستھان جانا ہوتا ہے جو یہاں سے صرف چند گھنٹوں کے سفر پر ہے مگر کئی روز لگ جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کھوکھراپار سرحد چالیس سال بند رہی ہے جبکہ واہگہ سرحد کچھ عرصے کے لیے بند کی گئی تھی۔ اس لئے وقت گزرنے سے صورتحل بہتر ہوگی۔ بھارت کے سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ جو بھی ٹھاکر کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں کہ حالیہ دورہ پاکسان کے بعد تھر کے ٹھاکروں نے بھی امیدیں وابستہ کی ہوئی ہیں۔ کنور ہمیر سنگھ نے بتایا کہ جسونت سنگھ کے بیٹے منویندر سنگھ باڑمیر سے دو نعروں پانی کی فراہمی اور سرحد کھولنے کے ذریعے کامیاب ہوئے ہیں نہیں تو مسلمان آبادی والے اس علاقے سے کانگریس کامیاب ہوتی رہی ہے۔ کنور ہمیر سنگھ کہتے ہیں کہ انہیں جسونت سنگھ نے بتایا کہ منویندر اگر واپس جیتنا چاہتے ہیں تو انہیں سرحد کھلنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی پڑےگی اور اس طرف جو لوگ ہیں ان کی بھی پاکستان کی طرف رشتے دار ہیں جن کی بھی خواہش ہے کہ سرحد کھل جائے۔ جبکہ سرحدی علاقوں کے ویزے کا مسئلہ بھی حل ہوجائےگا۔ ہمیر سنگھ نے بتایا کہ وہ وقت قریب ہے جب پاسپورٹ اور ویزہ آفیس بھی میرپورخاص میں قائم ہوجائے گا اور عوام کا عوام سے رابطہ آسان ہو جائے ہوگا۔ |
اسی بارے میں زیروپوائنٹ پر میلے کی تیاریاں17 December, 2005 | پاکستان تھر منصوبہ: لوگوں کےخدشات 01 June, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||