اندھے بیل سے عقیدت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جانور پالنے کا شوق تو کافی لوگوں کو ہوتا ہے لیکن مذہبی فریضہ سمجھ کر کسی معذور جانور کو پالنے کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔ امرت لال نامی شخص پاکستان کے غریب ترین علاقوں میں شمار ہونے والے ضلع تھرپارکر کے رہائشی ہیں اور وہ اپنے علاقے میں ایک ’اندھے بیل‘ کو پالنے کی وجہ سے دور دور تک جانے جاتے ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے تو امرت لال استاد ہیں لیکن ان کی وجہ شہرت ’اندھے بیل‘ کو پالنا ہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ برہمن ہیں اور اپنے عقیدے کی وجہ سے اندھے بیل کی پرورش کو ایک فریضہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کا بیل سن انیس سو پچاسی میں اپنی پیدائش کے گیارہ ماہ بعد اندھا ہوگیا تھا۔ امرت لال کے مطابق اس معذور بیل کو ان کے اہل خانہ اپنا ایک فرد تسلیم کرتے ہیں اور اس کا مکمل خیال کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگر ان کا یہ بیل اندھا نہ ہوتا تو وہ اسے کھیتی باڑی کے لیے استعمال کرتے اور اپنا گزر بسر کرتے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں وہ اسے قصابوں کو بیچ سکتے ہیں لیکن برہمن ہونے کے ناطے وہ ایسا نہیں کرسکتے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بیل ان کے اہل خانہ کے تمام افراد سے اتنا مانوس ہوچکا ہے کہ ان کی آوازوں پر وہ کھڑا ہوجاتا ہے اور بیٹھ بھی جاتا ہے۔ امرت نے کہا کہ بارش کے موسم میں یہ بیل انہیں بہت پریشان کرتا ہے اور زمین پر پاؤں مارتا رہتا ہے جو بقول ان کے ’ملا پ‘ کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بیل کا اندھا پن ختم کرنے کے لیے کافی علاج بھی کروایا ہے لیکن تاحال ان کی کوششیں کارگر ثابت نہیں ہوئیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||