جسونت سنگھ کی بھارت واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتیہ جنتا پارٹی کے نائب صدر جسونت سنگھ پاکستان کے آٹھ روزہ دورے کے بعد کھوکھرا پار کے راستے منگل کی دوپہر سوا تین بجے بھارت واپس روانہ ہوگئے۔ بھارت کے سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ پچاسی ارکان پر مشتمل ایک وفد کے ساتھ تیس جنوری کوموناباؤ کھوکھرا پار کے راستے پاکستان پہنچے تھے۔ پاکستان میں قیام کے دوران انہوں نے ہنگلاج یاترا کے علاوہ سندھ کے سیاسی رہنماوں اور حکومتی ارکان سے بھی ملاقات کی۔ جسونت سنگھ شیڈول کے باوجود پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح اور قلندر لال شہباز کے مزار پر نہیں جاسکے اور منگل کے روز اپنے ملک روانہ ہوگئے۔ سندھ کےسرحدی شہر عمرکوٹ میں روانگی سے قبل الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےجسونت سنگھ نے کہا کہ پاک بھارت دوستی قائم رکھنے کے لیے امن کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’سکھ، چین ، پیار اور محبت قائم رکھنے کے لیے آمدورفت کے تمام عوامی راستے کھلنے چاہئیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ کھوکھرا پاراور موناباؤ راستہ دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں سے کھلا ہے اور اب یہ مسقتل بنیاد پر کھلا رہے گا۔ جسونت سنگھ کا کہنا تھا کہ دونوں سرحدوں کے قریب رہنے والے لوگوں کو ویزا کے حصول میں سہولیات ملنی چاہئیں تاکہ سرحدوں کے دونوں اطراف رہنے والے لوگ اپنے رشتہ داروں سے مل سکیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ کھوکھراپار اور موناباؤ سرحد سے بس سروس بھی شروع کی جائے جو میرپورخاص سے اجمیر شریف تک چلائی جائیں۔ اپنے دورے کے بارے میں تاثرات بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا ’مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں کہیں اور نہیں اپنے ہی گھر آیا ہوں‘۔ عمرکوٹ کے شہریوں اور معززین نے انہیں اور وفد میں شامل لوگوں کو تحائف پیش کیے۔ اس موقع پر پاک بھارت دوستی کے نعرے لگائے گئے۔ | اسی بارے میں ’حکومتیں پیچھےرہ گئیں‘ 02 February, 2006 | پاکستان بھارتی وفد پاکستان پہنچ گیا30 January, 2006 | پاکستان براستہ کھوکھراپار پہلا بھارتی وفد 29 January, 2006 | پاکستان ’سیاست کیلیے نہیں زیارت کیلیے‘21 January, 2006 | انڈیا کھوکھرا پار پرقوم پرست ناخوش03 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||