براستہ کھوکھراپار پہلا بھارتی وفد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی راجیہ سبھا میں حزب محالف کے رہنما جسونت سنگھ کی قیادت میں ایک وفد پیر کی صبح کو مناباؤ سے پاکستان پہنچ رہا ہے۔ چالیس سال کے بعد کھوکھروپار سے پاکستان کی حدود میں داخل ہونے والا یہ پہلا بھارتی وفد ہے۔ ادھر پاکستان اور بھارت میں کھوکھراپار۔ منا باؤ ریلوے روٹ کھولنے کے لیے اسلام آباد میں مذاکرات جاری ہیں۔ جہاں ایک معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے جس کے بعد توقع کی جاری ہے کہ فروری کے دوسرے ہفتے میں یہ ریلوے روٹ کھل جائےگا۔ سابق بھارتی وزیر خارجہ جسونت سنگھ کی قیادت میں بھارتی وفد بذریعہ سڑک پاکستان پہنچ رہا ہے۔ ایل کے اڈوانی کے بعد جسونت سنگھ بھارتی اپوزیشن کے دوسرے لیڈر ہیں جو سندھ کا دورہ کر رہے ہیں۔ پاکستانی محکمہ اطلاعات کے مطابق وفد صبح ساڑھے نو بجے مناباؤ سے کھوکھراپار پہنچے گا۔ جہاں سے بذریعہ روڈ کراچی کے لیے روانہ ہوگا۔ بھارتی قافلہ زیرو پوائنٹ سے کھوکھراپار براستہ چھور و عمرکوٹ، میرپورخاص پہنچےگا۔ جہاں ان کے اعزازمیں ایک استقبالیہ دیا جائے گا۔ وفد اسی افراد پر مشتمل ہے۔ جو دس جیپوں میں سوار ہیں اور ہر جیپ میں آٹھ لوگ سوار ہیں۔ یہ وفد اسی راستے سے آ رہا ہے جس راستے سے ریل گزرتی تھی۔ تھر ایکسپریس کے طے شدہ روٹ کے مطابق ٹرین کراچی، حیدرآباد اور میرپورخاص سے ہوتی ہوئی کھوکھراپار جائے گی جہاں سے زیرو پوائنٹ سے بھارتی حدود میں داخل ہوگی۔ پروگرام کے مطابق بی جے پی کے رہنما جسونت سنگھ حالیہ دورے کے دوران ہنگلاج بھی جائیں گے جہاں ہندو مذہب کی قدیم مندروں اور مقامات کی یاترا کریں گے۔ واضح رہے کہ سرحد کے دونوں اطراف لوگوں کے تعلقات ہیں جو انیس سو پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ کے بعد منقطع ہوگئے تھے۔ جس کے بعد یہ سرحد بند کردی گئی تھی۔ |
اسی بارے میں کھوکھرا پار ریل چار فروری سے20 January, 2006 | پاکستان کھوکھراپارموناباؤ ریل 1 فروری سے 06 January, 2006 | پاکستان کھوکھرا پار، منا باؤ ریل سروس05 January, 2006 | Debate کھوکھرا پار، مونا باؤ بات چیت04 January, 2006 | انڈیا زیروپوائنٹ پر میلے کی تیاریاں17 December, 2005 | پاکستان مونا باؤ، کھوکھرا پار ریل چلے گی؟26 November, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||