پیپلز پارٹی کے احتجاج کا دوسرا دن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین پارلیمان نے جمعرات کو مسلسل دوسرے روز بھی اپنی ساتھی رکن قومی اسمبلی عذرا فضل پیچوہو پر مبینہ حملے کا مقدمہ درج نہ کیے جانے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کی کارروائی میں شرکت کے بعد پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی ایوان سے احتجاج کرتے ہوئے باہر چلے گئے جب کہ ایوان بالا یعنی سینیٹ کی کارروائی میں پیپلز پارٹی کے اراکین شریک ہی نہیں ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے اراکین نے بدھ کو بھی دونوں ایوانوں سے آصف علی زداری کی ہمشیرہ عذرا فضل پیچوہو پر مبینہ حملے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج نہ کیے جانے کے خلاف دونوں ایوانوں کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے ایک سرکردہ رہنما راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ دس فروری کو صوبہ سندھ کے شہر کوٹڑی میں صوبائی اسمبلی کے ایک حلقے کے ضمنی انتخابات کے موقع پر صوبائی وزیر الطاف انڑ اور ان کے محافظوں نے ان کی ساتھی خاتون رکن اسمبلی پر گولیاں چلائیں تھیں۔ پیپلز پارٹی کے مطابق جس گاڑی میں عذرا فضل سوار تھیں اس پر چار گولیاں لگی تھیں لیکن وہ گاڑی ’بلٹ پروف‘ تھی اس لیے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ ظفر اقبال وڑائچ نے قومی اسمبلی میں بدھ کو کہا تھا کہ پیپلز پارٹی نے مقدمہ درج کرنے کی تاحال درخواست ہی نہیں دی۔ وزیر کے مطابق مقدمہ پیپلز پارٹی کی درخواست پر درج ہوسکتا ہے یا عدالتی حکم پر۔ لیکن پیپلز پارٹی کے رہنما وزیر کے اس موقف کو رد کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ جب انہوں نے متعقلہ وزیر اور ان کے محافظوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی تو ضلع کوٹڑی کے پولیس سربراہ نے کہا کہ وزیر کا نام خارج کریں تو وہ مقدمہ درج کرنے کو تیار ہیں۔
موجودہ قومی اسمبلی کی مدت کے آخری یعنی پانچویں برس کا پہلا اجلاس شروع ہوتے ہی پیپلز پارٹی کے اراکین نے عذرا فضل اور شیری رحمٰن پر حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مقدمے درج کرنے کا مطالبہ کیا اور احتجاج کیا۔ ان کے بقول حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود جب مقدمات درج نہیں ہوئے تو انہوں نے بدھ سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ دونوں ایوانوں کی کارروائی میں صرف وقفہ سوالات میں حصہ لیں گے اور بعد میں اس وقت تک بائیکاٹ جاری رکھیں گے جب تک مقدمہ درج نہیں ہوتا۔ اتحاد برائے بحالی جمہوریت میں پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت مسلم لیگ نواز کے اراکین نے بدھ کے روز ابتدا میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا لیکن کچھ دیر بعد وہ ایوان میں واپس آگئے تھے۔ جمعرات کو مسلم لیگ نواز اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے حزب مخالف کے اراکین ایوان میں موجود رہے۔ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی سکریٹری اطلاعات شیری رحمٰن پر کراچی میں کچھ روز قبل جلوس میں شریک ایک خاتون نے حملہ کیا تھا۔ ایوان بالا سینیٹ کی کارروائی جمعرات کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی ہے لیکن قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح بھی ہوگا۔ ہائی کورٹ میں درخواست دائر ان کا موقف ہے کہ اس واقعے کے بعد انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوم سیکریٹری سندھ کو چاہیے کہ وہ ان کےلیے نجی محافظ اور اسلحے کے لائسنس جاری کرنے کے احکامات جاری کریں۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل بینچ نے جمعہ کو ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو طلب کرلیا ہے۔ | اسی بارے میں پی پی پی کا الیکشن کمیشن پر دھرنا14 February, 2007 | پاکستان ’خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت روکیں‘25 January, 2007 | پاکستان پولیس کا بینظیرکی حامیوں پر تشدد22 January, 2007 | پاکستان پی پی پی (ن) لیگ کواعتراض بتائے گی21 January, 2007 | پاکستان ’اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے‘15 January, 2007 | پاکستان وزیراعظم کے لیے امیدوار ہوں: بینظیر06 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||