BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 February, 2007, 12:51 GMT 17:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سینیٹ اور قومی اسمبلی سے بائیکاٹ

ڈاکٹر عذرا فضل
ڈاکٹر عذرا فضل آصف علی زرداری کی بہن ہیں
پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین پارلیمان نے بدھ کو اپنی ساتھی رکن قومی اسمبلی عذرا فضل پیچوہو پر مبینہ حملے کا مقدمہ درج نہ کیے جانے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی اور میاں رضا ربانی نے سینیٹ میں بدھ کو احتجاج کیا اور کہا کہ دس فروری کو صوبہ سندھ کے شہر کوٹڑی میں صوبائی اسمبلی کے ایک حلقے کے ضمنی انتخابات کے موقع پر صوبائی وزیر الطاف انڑ اور ان کے محافظوں نے ان پر گولیاں چلائیں تھیں۔

ڈاکٹر عذرا فضل آصف علی زرداری کی بہن ہیں۔

پیپلز پارٹی کے مطابق جس گاڑی میں عذرا فضل سوار تھیں اس پر چار گولیاں لگی تھیں لیکن وہ گاڑی ’بلٹ پروف‘ تھی اس لیے ان کی جان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ ظفر اقبال وڑائچ نے قومی اسمبلی میں کہا کہ پیپلز پارٹی والوں نے مقدمہ درج کرنے کی تاحال درخواست ہی نہیں دی۔ ان کے مطابق مقدمہ پیپلز پارٹی کی درخواست پر درج ہوسکتا ہے یا عدالتی حکم پر۔

پیپلز پارٹی کے رہنما وزیر کے اس موقف کو رد کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ جب انہوں نے متعقلہ وزیر اور ان کے محافظوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی تو ضلع کوٹڑی کے پولیس سربراہ نے کہا کہ وزیر کا نام خارج کریں تو وہ مقدمہ درج کرنے کو تیار ہیں۔

موجودہ قومی اسمبلی کی مدت کے آخری یعنی پانچویں برس کا پہلا اجلاس شروع ہوتے ہی پیپلز پارٹی کے اراکین نے عذرا فضل اور شیری رحمٰن پر حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مقدمے درج کرنے کا مطالبہ کیا اور احتجاج کیا۔ ان کے بقول حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود جب مقدمات درج نہیں ہوئے تو انہوں نے بدھ کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

اتحاد برائے بحالی جمہوریت میں پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت مسلم لیگ نواز کے اراکین نے بھی ابتدا میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا لیکن کچھ دیر بعد وہ ایوان میں واپس آگئے۔

یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیری رحمٰن پر کراچی میں کچھ روز قبل جلوس میں شریک ایک خاتون نے حملہ کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد