’اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کو راولپنڈی میں ہونے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے ملک میں واقعی انتخابی مہم شروع ہو چکی ہے۔ اس جلسے سے پہلے انتخابی سرگرمیاں صرف صدر جنرل پرویز مشرف تک محدود تھیں۔ پچھلے چند ہفتوں میں پاکستان کے فوجی صدر نے مختلف شہروں میں پے در پے جلسے کر کے عوام سے اپنی حمایتی جماعت یعنی مسلم لیگ ( ق) کے لیے ووٹ مانگے۔ اس طرح کھل کر اپنے حمایتیوں کے حق میں جلسے کرنے پر ان پر تنقید بھی ہوئی لیکن بقول وزیر اطلاعات محمد علی درانی کے، پاکستان جیسے ملک کے صدر کو غیر سیاسی سمجھنا نادانی ہے۔ بہرحال صدر چونکہ ایک تو باوردی ہیں اور دوسرے پورے ملک کا انتظامی ڈھانچہ بھی ان کے ہاتھ میں ہے اس لیے ان کی تمام تر انتخابی مصروفیات کے باوجود بھی وہ تاثر پیدا نہ ہو سکا جو پیپلز پارٹی نے ایک جلسے سے کر دیا۔ اصلی سیاسی جلسوں کا ماحول ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے اب تک صرف صدر مشرف کے سرکاری جلسے دیکھے ہیں انہیں اس بات کا اندازہ ہفتہ کی رات ہوا ہو گا جب راولپنڈی کے لیاقت باغ کے آس پاس کے سارے علاقے نے ایک بڑی جلسہ گاہ کا روپ دھارا۔
لیاقت باغ کے آس پاس بڑے بڑے قدآور اشتہاروں پر پی پی پی کی رہنما بینظیر بھٹو اور ان کے پنجاب کے صدر شاہ محمود قریشی کے ساتھ ناہید خان کی تصاویر دیکھ کر پرانے جیالوں کا دل تو جلا ہو گا لیکن رات گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ بھی پارٹی ترانوں پر اسی بے خودی سے جھومتے نظر آئے جتنے کہ تازہ واردان۔ پھر صبح ہوئی اور شہر کے چاروں طرف سے چھوٹے چھوٹے قافلے جلسہ گاہ کی طرف امڈنے لگے۔ ان میں سے کوئی ایک قافلہ بھی اتنا بڑا نہیں تھا جسے دیکھ کر اہل سیاست کا خون جوش کھاتا یا کسی خفیہ ادارے کے اہلکار حرکت میں آتے۔ لیکن جب تمام کے تمام لیاقت باغ میں اکٹھے ہوئے تو سمجھ میں آئی کہ بظاہر بے سمت اور منتشر قیادت والی یہ جماعت پاکستان کے عسکری رہنماؤں کے لیے قریبا نصف صدی سے درد سر کیوں بنی ہوئی ہے۔ بےنظیر بھٹو کے بغیر اور موجودہ دور کی بے جان سیاست کے باوجود ہزارہا لوگوں کا جمع ہو کر بیک آواز ایک جلاوطن رہنما کی شان میں گیت گانا پاکستانی سیاست کا وہ جادو ہے جس کا توڑ جنرل ضیاء سے لیکر جنرل مشرف تک کسی کے پاس نہیں۔ اس کے سامنے کسی بھی ڈیل کی کیا حیثیت؟ بلکہ شام ڈھلے جھومتے ترانوں کی گونج میں یوں لگا جیسے عوامی سیاست کے جادو نے ڈیل کا منتر ہی پلٹ ڈالا ہو۔ جیالے ڈیل کے ذکر پر پشیمان نظر آنے کی بجائے اترا رہے تھے کہ اب بینظیر کو واپس آنے سے کون روک سکتا ہے۔ لگتا تھا انہیں ہر شرط قبول ہے بشرطیکہ ان کی رہنما واپس لوٹ آئیں۔ جیالوں کے اس رحجان کو شاید جلسے سے مخاطب قیادت نے بھی بھانپ لیا۔
شاہ محمود قریشی گرجے، ’بینظیر کو واپس آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔‘ یہ بات ہر مقرر نے دُہرائی۔ ہر دفعہ تالیوں کا ایک شور اُٹھا اور شاہ محمود کے عمومی طور پر سپاٹ چہرے پر بھی مسکراہٹ کھیلنے لگی۔ شروع سے لے کر آخر تک یہ وہ جلسہ تھا جو اقتدار میں رہتے ہوئے کوئی بھی رہنماء نہیں کر سکتا۔ تجزیہ کاروں کے لیے بھی یہ جلسہ کافی دلچسپ رہا۔ ظاہر ہے کے لوگوں کی تعداد پر کوئی اتفاق نہ ہو سکا اور دس ہزار سے لیکر پچاس ہزار تک کے مختلف اندازے ابھی تک زیر بحث ہیں۔ لیکن اس بات پر ہر کسی نے اتفاق کیا کہ پنجاب کی قیادت کے لیے شاہ محمود کا انتخاب جیالوں کو پسند آیا۔ ڈھیر ساری پنجابی برادریوں کی بنیاد پر کھڑی مقامی سیاست کے سرپنچ گجرات کے چودھریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ملتان کے شاہ محمود کی شخصیت جیالوں کے لیے دوہری کاٹ رکھتی ہے۔ جڑیں برادری سیاست میں ہونے کے باوجود شاہ محمود کے صوبائی ڈیل ڈول سے شاید ہی کسی کو انکار ہو۔وہ دیہی زندگی کی پیچیدگیوں کے ساتھ ساتھ شہری ماحول کے رنگ ڈھنگ بھی پہچانتے ہیں۔ گدی نشین ہیں اور پھر سونے پہ سہاگہ یہ کہ جیل بھی ہو آئے ہیں۔ جیالا اور کیا چاہے؟ دوسرا امر جو مبصرین کی دلچسپی کا مرکز رہا وہ جلسے میں کی جانے والی تقاریر کا محور تھا۔ صدر مشرف کی وردی کا ذکر ایسے ہوا جیسے خراب موسم کا ہوتا ہے۔ گویا موسم تو موسم ہے، اچھا یا برا ضرور ہو سکتا ہے مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ ہو ہی نا۔اس کا مطلب کچھ تجزیہ کار یوں نکالتے ہیں کہ پی پی پی اور مشرف حکومت میں ہونے والی ڈیل کے خدوخال وقت اور صورتحال کے ساتھ ساتھ بدل رہے ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ اب مسئلہ بےوردی یا باوردی صدر کا نہیں بلکہ بینظیر بھٹو کی واپسی کا ہے۔شاید اسی لیے صدر مشرف نے بھی لیاقت باغ کے جلسے سے ایک دن پہلے بڑے دو ٹوک الفاظ میں دہرایا کہ جلاوطن سیاستدان کسی صورت اگلے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔ ان کے اس بیان سے لیگی قیادت کی ڈھارس ضرور بندھی ہو گی لیکن پیپلز پارٹی کو شاید ہی کوئی دھچکا لگا ہو۔ ہو سکتا ہے ان میں کچھ دل ہی دل میں صدر کے اس بیان سے خوش بھی ہو رہے ہوں۔ اگر وہ یہ بیان نہ دیتے اور جلسہ بھی کامیاب ہو جاتا تو مسلم لیگ شاید وقت سے پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی۔ اور خراماں خراماں چلتا ہوا ایک دلچسپ سیاسی کھیل خواہ مخواہ بے یقینی کا شکار ہو جاتا۔ اس وقت پیپلز پارٹی ایسی بے یقینی کیوں چاہے کیونکہ اس کے لیے تو بقول غالب ’ اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے۔‘ اور ابھی اس بات کو چھوڑیے کہ برہمن وردی میں ہے یا بغیر وردی کے۔ |
اسی بارے میں فخراورعابدہ حسین پی پی پی میں 29 November, 2006 | پاکستان سیاسی اتحادوں میں نئی صف بندی کے اشارے26 December, 2006 | پاکستان عام انتخابات: اس بار کیا ہوتا ہے؟ 29 December, 2006 | پاکستان مشرف کی آئینی مشکلات01 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||