پیپلز پارٹی: انقلاب سے احتساب تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ ایک ٹانگہ پارٹی تو نہیں بلکہ ایک ریل گاڑی ہے جسپر دوست اور دشمن کی تمیز کے بغیر لوگ سوار ہوتے اور اترتے ہیں۔ ایک ایسی پارٹی جس میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل ٹکا خان بھی تھے تو کمیونسٹ پارٹی کے سابق سیکرٹری جنرل جام ساقی بھی ہیں۔ اعتزاز احسن بھی ہیں تو مبین پھلپوٹو بھی اور شیری رحمان بھی۔ ایک ایسی پارٹی جو پاکستانی اقتدار اور منظر نامے پر آتی تو مجرے کرتی ہے اور جاتی ماتم کرتی ہے۔ چھنانن چھن چھن چھنا چھنا نن چھن پائل باجے، یا حسین وائے حسین۔ ہے ری سیاست تو بھی ایک عجوبہِ روزگار پختہ عمر نائکہ ہے جس سے نفرت کرنے والے بھی ایک دفعہ ساتھ سونے کی خواہش ضرور رکھتے ہیں۔ نومبر انیس سو سڑسٹھ میں لاہور میں قائم ہونے والی یہ پاکستان کی سیاسی جماعت اب انتالیس برس کی ہوچکی ہے۔ پاکستان اور پاکستان سے باہر انیس سو ساٹھ کی یاد گار و ہنگامہ خيز دہائي میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور حالات ایوب خان سے ناراض ہوکر مستعفی ہونیوالے وزیر خارجہ بھٹو کیطرف سے ایک نئي سیاسی پارٹی بنانے کے قطعاً موافق وموزون تھے۔ ہندستان پاکستان جنگ کے خاتمے پر تاشقند معاہدے پر پاکستانی عوام کا ردعمل، ایوب خان کی آمریت کیخلاف چھوٹے بڑے سیاسی گروپوں، پارٹیوں ، طالبعلموں اور مزدوروں کی بڑھتی ہوئی بے چینی اور ابھرتی ہوئی تحاریک، مہنگائي اور ریاستی جبر، ون یونٹ کی عوامی سطح پر مخالفت، پاکستان سے باہر عرب اسرائیل جنگ، ویتنام جنگ اور اسکا امریکہ اور دنیا بھر میں ردعمل، بائيں بازو سمیت نت نئے سیاسی اور سماجی نظریات، بھٹو کے اپنے آبائی صوبے سندھ اور مشرقی بنگال میں اٹھتی ہوئي قوم پرستانہ طلبہ اور متوسط طبقے میں لہر، یہ ایسی باتیں تھیں جس نے ایوب خان کے گورنر نواب امیر محمد آف کالاباغ سے ڈر کر یورپ نکل جانے والے سندھی نوجوان وڈیرے ذوالفقار علی کو لوگوں کی زبان میں ’بھٹو ساڈا شیر اے‘ بنا دیا۔
لیکن یہ سابق پاکستانی سفاتکار اور سوشلسٹ سوچ رکھنے والے جے اے رحیم تھے جنہوں نے بھٹو کی پارٹی کا منشور (جس پر کبھی عمل نہیں ہوا) لکھا۔ ایک سخت روایتی پاکستانی معاشرے میں بھٹو نے سوشلزم وہ بھی اسلامی کے نعرے کو لوگوں میں ’روٹی کپڑا اور مکان‘ کے پرکشش نعرے میں خوب بیچا۔ یہ سندھی میراثی اور مارکس کا ملاپ تھا جو پاکستانی سیاست کو پہلی بار چودھری کے ڈیرے اور وڈیرے کی اوطاق، خان اور ملا کے حجرے سے نکال کر بھاٹی چوک، لیاقت پارک، ککری گراؤنڈ میں لے آیا۔ یہ وہ دن تھے جب ایوب خان کی ڈر سے بھٹو کے جاگیردار اور وڈیرے دوست اسکی میزبانی سے اپنے ہوٹل اور گھر چھوڑ کر بھاگ جاتے۔ لیکن قاضی فیض محمد، امداد محمد شاہ اور تالپور برادران جیسے لوگ اسکے میزبان بنے۔ شيخ رشید، ڈاکٹر مبشر حسن، خورشید حسن میر، معراج محمد خان، غلام مصطفی کھر، ملک معراج خالد، حیات محمد خان شیرپاؤ، تالپور برادران ، ممتاز بھٹو، عبدالحفیظ پیرزادہ، اداکار طارق عزیز، مخدوم طالب المولیٰ، حنیف رامے، میاں محمود علی قصوری یہ بھٹو کی پیپلز پارٹی کی ٹرین پر سوار ہونیوالے والے پہلے لوگ تھے جن میں سے اکثر اسکے تاسیسی اجلاس میں بھی شریک تھے۔ بھٹو کی اس پارٹی کے نام پر پہلے بھی سر شاہنواز بھٹو، غالباً میاں افتخار الدین اور جی ایم سید نے بھی انیس سو پچاس کی دہائی میں پپیپلز پارٹی قائم کی تھی۔
’لاڑکانے سے لیڈر نکلا حیدری ہتھیار لیے میرپور ماتھیلو کے ایک مقامی لوک فنکار علی گل مہر نے ان دنوں میں یہ کلام کہا تھا۔ لیکن بھٹو کی نئی پارٹی میں معراج محمد خان اور طارق عزیر جیسے لوگوں کا نعرہ تھا ’انتخابات نہیں انقلاب‘ یا ’پرچی نہیں برچھی‘، جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کے مشہور ہالا کنونشن میں بھٹو کی موجودگي میں کافی ہنگامہ ہوا تھا۔ ب بھٹو نے ان جوشیلے مقرروں کی تقریریں سنی اور جواب میں اپنی تقریر میں کہا تھا ’میں تم لوگوں کے باپ ماؤزے تنگ سے چین میں ملا ہوں۔ آپ لوگ نہیں جانتے امریکہ کتنا طاقتور ہے وہ بلوچستان میں گوریلا لڑائي کو سیٹلائیٹ کے ذریعے دیکھ رہا ہے۔‘ اسی ہالا کنونشن میں نوجوانوں نے وڈیروں اور جاگیرداروں کی پیپلز پارٹی میں شمولیت پر اعتراض کیا تھا جو انہی دنوں میں تھوک کے بھاؤ اپنے ’ہزاروں ساتھیوں، قبیلے اور ڈھوروں ڈنگروں و مرغوں! کے ہمراہ جیسے اعلانات کیساتھ پیپلز پارٹی میں شامل ہورہے تھے۔ ’نوابشاہ اور مورو میں جاگیرداروں کے عورتیں بھی کسانوں کی عورتوں کیساتھ کپاس چنیں گی‘ یا ’اقتدار میں آنے پر میرے وزیر لیاری کی گلیوں میں جھاڑو دیں گے‘ یا ’ملیں مزدوروں کی زمینیں کسانوں کی‘ جیسی بھٹو کی تقریریں اور نعروں نے انکی پارٹی کو پاکستان کے لوگوں میں انتہائي مقبول بنا دیا تھا۔ ملاؤں کی اس پروپیگنڈا اور ان پر کفر کی فتوؤں کے باوجود کہ ’سوشلزم کا مطلب بہن کی شادی بھائي کیساتھ‘۔ تھری پیز (پی پی پی) کا نام سن کر ’کوئی جل گیا تو کسی نے دعا دی‘۔ کسی نے اسے ’پلاٹ پرمٹ پارٹی کہا تو کسی نے ’پیو اور پلاؤ پارٹی‘۔ انیس سو ستر کے انتخابات کے نتائج میں پیپلز پارٹی تب کے مغربی پاکستان میں سب سے اکثریتی پارٹی بنکر جیت کر آئي تھی۔ لیکن انیس سو ستر کے انتخابات سے لیکر آج تک پیپلزپارٹی (باوجود اسکی ضیاءالحق کی گیارہ سال آمریت سے بڑی لڑائي لڑنے کے) نام نہاد احتساب کی تلوار کے سائے میں فوجی جنرلوں سے اقتدار کی رسائي کیلیے ساز باز کرنے میں ہی مصروف کار نظر آئی ہے۔ | اسی بارے میں ہیرو اور اینٹی ہیرو06 January, 2006 | قلم اور کالم ’یاالہی مرگِ یوسف کی خبر سچی نہ ہو‘04 April, 2006 | قلم اور کالم سیاسی انتقام کا فائن آرٹ 28 November, 2004 | قلم اور کالم وہ چپ لگی ہے !04 April, 2004 | قلم اور کالم بھٹو کا عدالتی قتل؟30 January, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||