’یاالہی مرگِ یوسف کی خبر سچی نہ ہو‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹی ایس ایلیٹ نے لکھا کہ ’اپریل ظالم ترین مہینہ ہے‘۔ فیض صاحب نے بھی کہا تھا، ’پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں‘۔ اس ظالم مہینے میں بھی ایک تاریخ خاص طور سے ظالم ہے۔ اپریل کی چار تاریخ کو کھلنے والے پھولوں میں لہو کا رنگ اور ظلم کی بو کیوں ہوتی ہے؟ اپریل کی چار تاریخ اور 1968 کا سال۔ امریکہ کے شہر میمفس میں پچھلی رات طوفان گھِر کے آیا تھا۔ باہر سڑک پر تیز ہوا کے جھکڑ دیواروں سے سر پٹک رہے تھے۔ پانی کی بوندیں چھتوں پر جلترنگ بجا رہی تھیں۔ میسن چرچ کے بڑے ہال میں مارٹن لوتھر کنگ جذبوں کی آنچ میں سلگتے لفظوں کے انگارے اگل رہا تھا۔ انجیل کے سادہ مگر معجزے کی حد تک پُراثر استعاروں میں گندھی ہوئی زبان، چھوٹے چھوٹے جملوں میں ایسے نشتر پروئے تھے کہ تین ہزار کا مجمع تڑپ تڑپ اٹھتا تھا۔ آبشار جیسی رواں خطابت میں آگے بڑھنے کی للکار بھی تھی، راہ کی مشکلات کی خبر بھی اور پہاڑی کے پار سُکھ کے گاؤں تک پہنچنے کی نوید بھی۔ اس رات مارٹن کنگ کے لب و لہجے میں استقلال اور گہرے اندوہ کا عجیب امتزاج تھا۔ شاید صرف انہیں معلوم تھا کہ یہ فی البدیہہ تقریر الوداعی پیغام بھی ہے۔ اگلی شام چھ بجے، چار اپریل، لورین موٹل کی بالکونی پر مارٹن لوتھر کنگ پہاڑی کے پار اُس وادی میں اتر چکا تھا ’کوئی جا کے جہاں سے آتا نہیں‘۔ گردن پر داہنی طرف رائفل کی گولی کا پھول کھلا تھا۔ انسانوں کے لیے آزادی، مساوات اور انصاف کا خواب دیکھنے والے نے آنکھیں موند لیں تھیں۔
اصل خبر سب سے آخر میں دی گئی۔ ’سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو آج علی الصبح راولپنڈی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔‘ اس خبر کے اندیشے میں لاکھوں آنکھیں کئی ہفتوں سے رت جگے کا شکار تھیں۔ ہزاروں سیاسی کارکن، طالب علم اور صحافی عقوبت خانوں میں بد ترین تشدد سہہ رہے تھے۔ بہت سوں نے احتجاج کرتے ہوئے خود کو شعلوں کی نذر کر دیا تھا۔ ہر طرح کی سیاسی سرگرمیوں پہ پابندی تھی۔ ہوا میں کوڑوں کی سرسراہٹ تھی۔ اخبارات پہ کڑی سنسر شپ تھی۔ دن چڑھتے چڑھتے گلی کوچوں میں چھوٹی چھوٹی ٹولیاں جمع ہونے لگیں۔ دبی دبی سرگوشیاں ہو رہی تھیں۔ اس روز پاکستان کے ان گنت گھروں میں چولہا نہیں جلا۔ ایک ان کہی دہشت تھی جو کواڑوں پہ برس رہی تھی۔ جیسے گھر میں موت واقع ہونے پر بچے سہم جاتے ہیں۔ ادبی جریدے فنون کا اگلا شمارہ شائع ہوا تو اس میں اختر حسین جعفری کی نظم ’نوحہ‘ چھپی تھی ۔ اردو ادب میں غالب نے میاں عارف اور اقبال نے داغ کے نوحے سے جو روایت شروع کی، اسے فیض نے کوئی درجن بھر نوحوں سے زندہ جاوید بنا دیا۔ مگر اختر حسین جعفری نے نوحہ تھوڑی لکھا تھا، گویا تلوار کے ظلم کی تاریخ کا استعارہ کاغذ پہ رکھ دیا تھا۔ تلمیحات کا خروش ایسا پُرتاثیر تھا کہ ضیا الحق نے اسی نظم کے مصرعے دہرا کے اہل قلم کانفرنس میں ادیبوں کی ’چھترول‘ کی تھی۔ اب نہیں ہوتیں دعائیں مستجاب اور آخری لائنیں اب سمیٹو مشک و عنبر اوریانا فلاشی سے بات کرتے ہوئے بھٹو نے اپنے مخصوص انداز میں کہا تھا، ’ہم نے سیاست اپنے دریاؤں سے سیکھی ہے۔‘ کیسا درست تجزیہ تھا۔ دریاؤں کی کیا خصوصیت ہے؟ یہی کہ جیسے بھی ہو پتھریلے پہاڑوں سے اپنی راہ نکالنا مگر موجوں کی الہڑ روانی برقرار رکھنا۔ سو اس کا پہلا حصہ بھٹو کی عملیت پسندی ہے اور دوسرا اس کی سیاست کا رومانی ڈھنگ۔
سیاست میں بعض دلائل کھوکھلے ہونے کے باوجود ریت کی بوریوں کی طرح مؤثر طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً پُرامن مقاصد کے لیے ایٹمی توانائی کا حق، دوسرے ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر احتجاج اور اپنے ملک میں قومی خود مختاری کا جواز وغیرہ۔ بھٹو کے خلاف مقدمہِ قتل کی دلیل بھی اسی طرح استعمال کی گئی۔ اس مقدمہ قتل کی قانونی حیثیت یہ ہے کہ ستائیس برس گزرنے کے باوجود پاکستان کی کسی چھوٹی یا بڑی عدالت میں آج تک نواب محمد احمد خان قتل کیس کی نظیر پیش نہیں کی گئی۔ سنہ 1860 میں قانون تعزیرات ہند کے نفاذ کے بعد سے سوائے بھٹو کے کسی کو اعانت جرم کے الزام میں موت کی سزا نہیں دی گئی۔ بھٹو سیاست دان تھا۔ سیاست دانوں سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔ بھٹو کی غلطیوں کی فہرست مختصر نہیں ہے لیکن سنہ 1977 میں اقتدار پر شب خون مارنے والے جنرلوں کو ان غلطیوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ دنیا بھر کے اسلحے، تابع فرمان انتظامیہ اور حکم کے غلام سیاستدانوں کی پوری حمایت کے باوجود 4 اپریل 1979 کی رات جنرلوں کے ہاتھ پاؤں اس لیے کانپ رہے تھے کہ بھٹو پاکستان کا آخری سیاستدان تھا جو عوامی مقبولیت کے بل پر فوج کے سیاسی عزائم کا راستہ روک سکتا تھا۔ ڈاکٹر اقبال احمد سیاسی تاریخ کی پیچیدگیوں کو سادہ لفظوں میں بیان کرنے کی خاص صلاحیت رکھتے تھے۔ 1988 میں امریکہ سے لاہور تشریف لائے۔ کسی مجلس میں ایک نوجوان بھٹو پر تنقید میں کچھ زیادہ ہی تلخ ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے دھیرے سے کہا ’مگر میرے بھائی، بھٹو صاحب نے بڑی بہادری سے جان دی‘۔ جدید عالمی تاریخ میں چلی کے صدر سلوا ڈور الاندے کے استثنا کے ساتھ یہ بات کتنوں کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ اسی کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ بھٹو صاحب کی مقبولیت پسند سیاست نے لوگوں کو ٹوٹی پھوٹی عوامی حکومت کے صرف پانچ سال چھ مہینے اور پندرہ دن دیے۔ عوام کی محبت نے تو ذوالفقار علی بھٹو کو صدیاں بخشی ہیں۔ چار اپریل کو جان دینے والےمارٹن لوتھر کنگ اور ذوالفقار علی بھٹو کی ذات میں بہت سے نکات مشترک تھے اور دونوں کی سیاست میں کئی زاویے مختلف بھی تھے۔ لیکن امریکہ اور پاکستان میں یہ فرق ہے کہ مارٹن لوتھر کنگ کی موت اس کے لوگوں کے لیے مرگ یوسف ثابت ہوئی اور بھٹو کی موت پاکستان کے عوام کے لیےمرگ امید ٹھہری۔ (وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل برطانیہ میں بین الاقوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔) |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||