اک نا ممکن خواب کا خواب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ان دنوں برطانیہ کے تعلیمی حلقوں میں لیڈز یونیورسٹی میں روسی لسانیات کے استاد ڈاکٹر فرینک ایلس کا چرچا ہو رہا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر کمرہ جماعت میں نسل پرست خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی نیوز لیٹر میں ایک مضمون بھی لکھا ہے جس میں ذہانت کے نسل پرست نظریے بیل کرو تھیوری (Bell Curve Theory) کا دفاع کیا گیا ہے۔ اساتذہ اور طالب علموں کے شدید احتجاج کے بعد یونیورسٹی نے معاملے کی تحقیق شروع کر دی ہے۔ اس معاملے کا نتیجہ کچھ بھی ہو، یہ حقیقت واضح ہے کہ نوع انسانی کے بھیتر میں ابھی نسل پرستی کے جراثیم موجود ہیں۔ بعض حلقوں کے مطابق9/11 کے بعد پیدا ہونے والے عالمی ماحول میں مختلف گروہوں اور قوموں کے درمیان تفرقے اور منافرت کی خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ اس صورت حال میں 21 مارچ سے نسلی امتیاز کے خلاف مناۓ جانے والے عالمی ہفتے نے خاص اہمیت اختیار کر لی ہے۔ پہلے تو یہی دیکھ لیا جاۓ کہ 21 مارچ کا نسل پرستی سے کیا تعلق ہے۔ 1960 کا برس تھا۔ جنوبی افریقہ میں نسل پرست حکومت نے نت نئے قوانیں کی مدد سے سیاہ فام شہریوں کی زندگی حرام کر رکھی تھی۔ عوامی مقامات پر پینے کے پانی کی مختلف ٹونٹیوں اور ریلوے سٹیشن پر الگ الگ پلیٹ فارم جیسے علامتی مگر توہین آمیز اقدامات سے قطع نظر نسل پرستی پر مبنی سیاسی اور معاشی نظام کے نتیجے میں 20 فیصد سفید فام آبادی 87 فیصد زرعی رقبے پر قابض تھی۔
قومی آمدنی کا 74 فیصد حصہ سفید فام جیبوں میں جاتا تھا۔ طبی سہولتوں کا یہ عالم تھا کہ ہر 400 سفید فام باشندوں کے لیے ایک ڈاکٹر موجود تھا لیکن رنگدار آبادی کے لیے یہ تعداد بڑھ کر 44000 ہو جاتی تھی۔ رنگدار شہریوں کو اپنی مخصوص بستیوں سے باہر جانے کے لیے اجازت ناموں کا پابند کیا گیا تھا۔ 1960 کے ابتدائی مہینوں میں یہی اجازت نامے ایک بڑی احتجاجی مہم کا باعث بن گئے۔ رنگدار شہریوں کی جماعت پان افریقن کانگرس نے سفری اجازت ناموں کے خلاف 21 مارچ کو مظاہروں کا اعلان کیا۔ اس موقع پرٹرانسوال کے قریب شارپ ویل کے قصبے میں پرامن مجمع پر پولیس کی فائرنگ سے 69 افراد ہلاک ہو گئے۔
شارپ ویل کے قتل عام ہی سے نیلسن منڈیلا کی قیادت میں افریقن نیشنل کانگرس کی مسلح جدوجہد شروع ہوئی۔ شارپ ویل کے ظالمانہ واقعے کے خلاف دنیا بھر میں غم و غصے کی لہر پیدا ہوئی۔ چنانچہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1963 میں نسلی امتیاز کے خلاف اعلامیہ اور 1966 میں عالمی معاہدہ تشکیل دیا۔ اس موقع پر 21 مارچ کو نسلی امتیاز کے خلاف آگہی کا عالمی دن قرار دیا گیا تھا۔ نسل پرستی ایک ظالمانہ ناانصافی ہے۔ نسل پرستی انسانوں کو ان کی صلاحیت، شعور اور اہلیت کی بجاۓ مفروضہ پیداشی خصوصیات کی بنا پر ترجیح دیتی ہے۔ نسل پرست فلسفہ رنگ، قومیت ذات پات، عقائد حتٰی کہ جنس کی بنیاد پرانسانوں کی قسمت پر مہر لگا دیتا ہے۔نسلی امتیاز کی موجودگی میں انسانی مساوات، جمہوریت اور ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ امتیازی سلوک کی ہر شکل کا اصل مقصد کچھ گروہوں کے مخصوص مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ دنیا میں یہ روگ نیا نہیں۔ عرب فصاحت، عجمی تہذیب، منگول بہادری، انگریز کی فراست، جرمن ذہانت اور ترکی جلال کے دعوے پرانے ہیں۔ آج کی دنیا نشاۃ ثانیہ کی پیدا وار ہے۔ نشاۃ ثانیہ کا پودا سفید فام یورپ میں لگا تھا۔ سو کوئی چار سو سال تک دنیا میں سفید فام برتری کا ڈنکا بجا کیا۔ پھر انسان کے امکان نے انگڑائئی لی۔ بیسویں صدی پر نظر ڈالیں تو کون ہے جو اعلٰی اخلاقی اقدار اور انسانی یگانگت پر مبنی سیاست میں گاندھی جی، مارٹن لوتھر کنگ اور نیلسن منڈیلا کی گرد کو چھو سکے۔ مہاتما گاندھی ہی کی بات کرتے ہیں کہ مارٹن کنگ اور منڈیلا نے عدم تشدد اور بھائی چارے میں موہن داس کرم چند ہی سے فیض اٹھایا ہے۔ اب سے نوے برس پہلے ایشیا اور افریقہ کے وسیع خطوں پر نو آبادیاتی نظام مسلط تھا۔کالوں پر زمین تنگ تھی۔ ادب میں رڈ یارڈ کپلنگ سند تھا تو سیاست وائسراۓ کرزن کی رعونت کا نام تھا۔ متحدہ ہندوستان کی آبادی25 کروڑ اور خواندگی آٹھ فیصد تھی۔ جنوبی ہندوستان کے گاؤں صابر متی کے نیم برہنہ مدبر نے غیر مسلح اور مفلوک الحال ہجوم کو ساتھ لیا اور نمک کی مٹھی اس سلطنت پر پھینکی جہاں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور چڑیا پر نہیں مارتی تھی۔ آج دنیا کے ساٹھ ممالک میں چار ارب انسان آزاد ہیں کہ کسی نے ایک صدی پہلے مستقبل کی چاپ سن لی تھی۔ اس طرز سیاست کی عظمت نسلی بالادستی کے مقابلے میں انسانی مساوات کا جھنڈا بلند کرنے میں ہے۔ استعمار کی مخالفت کا درس دیا جاۓ لیکن نسل، جغرافیے اور عقائد کی بنیاد پر نفرت کی تعلیم نہ دی جاۓ۔
دوسری خامیوں کے علاوہ نسل پرستی میں یہ خامی بھی ہے کہ یہ اپنے اظہار کے لیے دوسروں کو برا کہنے پہ مجبور ہوتی ہے۔ آج کچھ حلقے نسل پرستی کے مقابلے میں گروہی شناخت کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن شناخت پر اعتدال سے بڑھا ہوا اصرار بھی تو نسل پرستی ہی کی ایک شکل ہے۔ ڈی این اے اور جین کے راز کھلنے سے معلوم ہو چکا ہے کہ انسان صلاحیت اور حقوق ہی میں مساوی نہیں، حیاتیاتی خدوخال بھی میں ایک جیسے ہیں۔ ایسے میں نفرت اور تفرقے کا نعرہ لگانے والے بھول جاتے ہیں کہ تہذیب اور تصادم دو متضاد اصطلاحات ہیں۔ یہ دلیل اور مکالمے کا عہد ہے۔ یہاں دیواریں اٹھانے کی نہیں، گرانے کی ضرورت ہے۔ پچھلے ہفتے لیڈز یونیورسٹی میں مظاہرین پروفیسر فرینک ایلس کو ملازمت سے برخاست کرنے کے نعرے لگا رہے تھے۔ ایک ایشیائی طالب علم مجمع سے الگ تھلگ کھڑا تھا۔ کسی نے پوچھا تم ادھر اکیلے کیوں کھڑے ہو۔ جواب ملا ۔ اکیلا تو نہیں ہوں۔ دیکھتے نہیں، گاندھی جی اور والٹیر میرے ساتھ کھڑے ہیں۔ (وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل برطانیہ میں بین الاقوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔) |
اسی بارے میں بنگلہ بھاشا اندولن: ڈھاکہ پہ کیا بیتی21 February, 2006 | قلم اور کالم خبر کا جبر04 February, 2006 | قلم اور کالم پاکستان: عورتوں کا دن 12 فروری کیوں؟12 February, 2006 | پاکستان ’بلوچ احساس مسترد نہیں کیا جا سکتا‘09 January, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||