پروفیسر فرینک کی ’فرینک‘ باتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اصل اور نقل پٹھان کی تکرار پر ہی پریشان مت ہوں۔ یہ کچھ بھی نہیں۔ لیڈز میں تو ایک پروفیسر صاحب نے اس سے بھی بڑا جھگڑا شروع کر دیا ہے۔ جمعرات کو لیڈز یونیورسٹی کے طلبہ اور دیگر افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور وہ مظاہرہ ایک پروفیسر کے خلاف تھا۔ پروفیسر صاحب کا نام ہے فرینک اور ان کے خیالات بھی کافی ’فرینک‘ ہی ہیں۔ فرینک صاحب روسی اور سلاونک سٹڈیز کے استاد ہیں اور ان کا کسی جہادی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے۔ مسئلہ وہاں پر کھڑا ہوا جب فرینک صاحب نے اپنے ’فرینک‘ خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ کالے لوگ اور خواتین جینیاتی طور پر ہی کمتر ہیں۔ ان کے بقول رچرڈ ہرنسٹین اور چارلز مورے کی 1994 میں شائع ہونے والی کتاب ’The Bell Curve‘ (دی بیل کرو) کی وہ تھیوری بالکل درست تھی جس میں کہا گیا تھا سفید فام لوگ سیاہ فام لوگوں سے زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔ انہوں نے لیڈز کے ایک اخبار کو یہ بھی بتایا کہ عورتیں مردوں جیسی عقل نہیں رکھتیں۔ فرینک صاحب نے سب کچھ اپنی عقل و دانش کے بل بوتے پر کہا اور اس کو آزادئ اظہار کا تڑکا بھی لگایا۔ فرینک صاحب بھی بس ’فرینک‘ ہی ہیں۔
دفتری کام میں کے سلسلے میں لیڈز میں ایک دن گزار کر آج واپسی ہوئی۔ مجھے برطانیہ کے سارے شہر تقریباً ایک سے لگتے ہیں۔ ایک سی عمارتیں، ایک سی صفائی، ایک سی گندگی اور ایک سے اور ایک ہی نام کے سُپر سٹورز۔ بس کئی جگہ لوگ اپنی مشترکہ کوششوں سے ان شہروں کو مختلف بنا دیتے ہیں۔ زبان کے ڈائلیکٹس سے یا اپنے رہن سہن سے۔ لیڈز کے تھامس ڈمبی کالج میں کئی پاکستانیوں اور پاکستانی نژاد برطانوی باشندوں سے ملا۔ گفتگو کا محور سب کا گھوم پھر کر پاکستان ہی تھی۔ ’اگر میں پاکستان سے نہیں آیا تو میرے ماں باپ پاکستان سے آئے اور اگر میں اردو پڑھ نہیں سکتا / سکتی تو وہ ضرور پڑھ سکتے ہیں۔ پر میں سمجھ ضرور لیتا/لیتی ہوں، گھر میں ماں باپ بولتے جو ہیں‘۔ وہاں کے لوگوں سے کچھ اس طرح کی ہی باتیں ہوئیں۔ ایک دلچسپ خان صاحب سے بھی ملاقات ہوئی جو پیشے سے سائکولوجسٹ تھے۔ انہوں نے کئی مزیدار باتیں کیں۔ دو قابلِ ذکر ہیں۔ ایک تو انہوں نے بی بی سی ایشیا نیٹ ورک سے گلہ کیا کہ وہ پشتو میں پروگرام پیش کیوں نہیں کرتے۔ اور دوسرا انہوں نے دو پٹھانوں کی گفتگوں سنائی۔ گفتگوں کچھ اس طرح سے ہے۔ ’ایک پٹھان دوسرے پٹھان سے تکرار کر رہا ہوتا ہے کہ تم اصل پٹھان نہیں ہو۔ کئی جغرافیائی اور لسانی مثالوں کے علاوہ وہ دلیل دیتا ہے کہ اگر تم اصل خان ہوتے تو خود کو پٹھان نہیں بلکہ پختون کہتے‘۔ پٹھان یا پختون آگے بڑھیں اور اصل بات بتائیں۔
شاہد اقبال، دیر، پاکستان: عبدالوحید خان، برمنگھم: عارف زمان، اسلام آباد: حلیم یار اورکزئی، ہنگو: عبدالعلیم، جاپان: مزمل شیخ، پاکستان: عبدالوحید خان، برمنگھم: |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||