BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 March, 2006, 18:51 GMT 23:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کال ایل کی واپسی‘


میرا پسندیدہ کَومِک بک ہیرو ظالم نہ تو اڑ سکتا ہے اور نہ اپنے ہاتھوں سے اسٹیل موڑ سکتا ہے۔

سچ پوچھیے تو ایسے روایتی سپر ہیرو جو اڑتے بھی ہیں اور گولی سے بھی زیادہ تیز ہیں، مَن کو کچھ بھاتے نہیں۔ ہیرو تو وہ ہے جو کسی غیرفِطری طاقت کے بغیر کٹھن ترین حالات کا مقابلہ کرے اور صرف اپنی انسانی صلاحیتوں کے بل بوتے پر تمام روایتی سپر ہیروؤں کو پیچھے چھوڑ دے۔

پھر بھی، مجھے آنے والی فلم ’سوپرمین رٹرنز‘ کا بیچینی سے انتظار ہے۔ فلم کا ایک چھوٹا سا ٹریلیر دکھایا گیا ہے جس میں صرف مارلن برانڈو کی آواز سنائی دیتی ہے۔ سپرمین ون اور ٹو دیکھنے والوں کو یاد ہوگا کہ برانڈو نے سپرمین کے بدنصیب والد جور ایل کا کردار ادا کیا تھا۔ برینڈو تو خدا کو پیارے ہوگئے، لیکن جدید ٹیکنولوجی اور پرانے غیر استعمال شدہ مکالموں کو نئی فلم میں اس ہنر سے استعمال کیا گیا ہے کہ جورایل کی شکل میں ناظرین برانڈو کو جیتا جاگتا پائیں گے۔ لیکن تمام تر بیچینی اور سپرہیرو جنون کے باوجود مجھے یقین ہے کہ فلم مایوس کن ثابت ہوگی اور اس کے بہترین حصّے ہم ٹریلر میں دیکھ چکے ہیں۔ ذرا ٹریلر دیکھ کر ان مکالمات پر غور کیجیے:

’گو کہ تمہاری پرورش ایک انسان کی طرح ہوئی ہے، تم ان میں سے نہیں ہو۔‘

’وہ ایک عظیم لوگ ہو سکتے ہیں، کال ایل، وہ ہونا چاہتے ہیں۔‘

’بس ایک شمع کی کمی ہے جو انہیں راستہ دکھا سکے۔‘

’ان کی اچھائی کی استعداد: سب سے بڑھ کر یہی وجہ ہے کہ میں نے ان کے پاس تمہیں بھیجا ہے، اپنے اکلوتے بیٹے کو۔‘

کیسے پراثر الفاظ ہیں، بھلا ڈیڑھ دو گھنٹے کی فلم میں ایسی بات کہاں ہوسکتی ہے؟ سب سے اعلٰی تصویر تو وہ ہے جو انسان اپنے ذہن میں خود بنائے۔ ایسی تصویر کو حقیقی رنگ دیا جائے تو نتیجہ کبھی تسلّی بخش نہیں ہوتا۔ سپرمین کا کردار اتنا مقبول ہے کہ چند تصویروں سے ہی دیکھنے والا مضمون بھانپ لیتا ہے۔ غور کریں کہ ٹریلر میں کہیں بھی ’سوپر مین‘ نہیں کہا گیا۔

ٹریلر کی تصاویر حیرت انگیز حد تک جانی پہچانی ہیں۔ کَینساس کے مکئی کے کھیت اور ڈاک ڈبّے پر ’کینٹ‘ کا نام، ڈیلی پلَینِٹ اخبار کا دفتر، میٹروپلس کی اونچی چھت پر اپنے محبوب کا انتظار کرتی ہوئی لوئس اور سب سے بڑھ کر سوپرمین کے سینے پر پیوست لال اور پیلا ’ایس‘ کا نشان۔ میری نسل کا شاید ہی کوئی نمائندہ ایسا ہو جو اِس ’ایس‘ کو نہ پہچانے۔ بھلا کوئی فلم ان تصاویر سے بہتر کیسے ہو سکتی ہے؟

خیر چھوڑیئے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں ایک معمولی ہالی ووڈ فلم پر اتنا جذباتی ہوگیا لیکن میرا جنون فلم نہیں، سپرمین کی علامت ہے جو کسی بھی فلم سے بالاتر ہے۔

بقول شاعر:

میں صرف ایک انسان ہوں
ایک احمقانہ لال چادر میں
میں صرف ایک انسان ہوں
ایک خواب کی تلاش میں۔

آپ کی رائے

حسن بلوچ، اسلام آباد:
ضیاء صاحب، آپ نیو ورلڈ آرڈر کی روشنی میں دوبارہ ان مکالمات پر غور کریں، آپ کو سب سمجھ آجائے گی۔

محسن چوہدری، ساہیوال:
ارے بھائی یہ بھی ایک طریقہ ہے پیسے کمانے کا کہ پرانی چیز کو پالش کرکے نئی کردو۔

مہر افشاں ترمذی، سعودی عرب:
کوشش تو بہت کی مگر بات کہہ نہ پائے۔

اپنا اقتباس ہمیں بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
ضیا احمد کا بلاگضیا احمد کا بلاگ
’ مصنف تو کاہل اور مدیر چست‘
ضیا احمد کا بلاگضیا احمد کا بلاگ
’کیا پیرس میں کینگرو ہوتے ہیں؟‘
کالا پانی جیل، جزائر انڈمانحسن مجتٰبی کا بلاگ
برصغیر کی آزادی اور کالا پانی کے100 سال
وسعت بلاگوسعت بلاگ
’پتھر تلے کراہنے والے مرد کا عالمی یوم کب؟‘
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد