کالا پانی کے سو سال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سلسلہ وہیں سے جوڑتے ہیں جہاں سے ٹوٹا تھا۔ پہلے پہلے دل ٹوٹا( جب میرا یار ظفریاب مرگیا) پھر میرا کمپیوٹر اور پھر آپ سے محبت کا سلسلہ۔ آپ کو یاد ہو گا کہ تب کھوکھرا پار کی ٹرین کی سیٹی بجنا ہی چاہتی تھی۔ وہ راجہ والی ریل پھر سے چلنے لگی جو آخری بار آصف زرداری کے گھوڑے لادنے میں کام آئی تھی۔ اور اس سے کچھ دن پہلے جسونت سنگھ ہنگلاج کی تیرتھ کو پدھارے تھے (معاف کرنا یہ اردو میں ہندی کو ملانے کی گستاخی کر رہا ہوں۔ بہت سے یار لوگ اسے زم زم میں گنگا کا پانی ملانا نہ سمجھ بیٹھیں!) کیونکہ کراچی اور مکران کے بیچ اس مقام پر پاکستان بننے سے پہلے (جسونت سنگھ کے) ماں باپ جایا کرتے تھے۔ کاش نہرو اور جنا ح کے ماں باپ بھی کبھی ہنگلاج گئے ہوتے تو کیا خبر ہندوستان کا بٹوارہ شاید نہ ہوتا۔ آج کل جزیرہ انڈمان پر’ 'کالا پانی‘ جیل کی صد سالہ تقریبات منائی جارہی ہیں۔ اے برصغیر کی بلکتی آزادی، تیرے لیے کیسے کیسے لوگ کام آ گئے۔ ’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے، دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے‘گاتے ہوئے پھانسی کے پھندوں کو چومتے ہوئے کاکوری کے اسیر یا’ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی‘ اور وہ چائے اور وھسکی کا شوقین پیغمبرانہ پیشین گوئیاں کرتا ہوا ابوالکلام آزاد جس نے کہا تھا ’میں نہیں سمجھتا کہ مذہب کی بنیاد پر مشرقی اور مغربی پاکستان پچیس برس سے زیادہ عرصے تک متحد رہ سکتے ہیں‘۔ اب ابوالکلام آزاد جیسے مولوی کہاں؟ اب تو خود کش بمبار ہی ہیں یا میزائیل بنانے والا اس کا آدھا ہم نام سائنسدان بھارتی صدر۔ یہ عبدالکلام اور قدیر خان جیسے سائنسدان بھی تو ایک طرح کے بمبار ہی ٹھہرے اور کیا؟
سید مظفر علی، پاکستان: میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں کالا پانی کے سو سال مکمل ہونے پر! علی رضا، یوکے: شہباز بھٹہ، پاکستان: مہر افشین ، کویت: عفت سعید، پاکستان: جاوید سحر قریشی، نائجیر: نور احمد، حیدرآباد: شیما صدیقی، کراچی: اکبر، کویت: الطاف عباسی، مظفرآباد: بابر علی، رحیم یار خان: قاسم قاضی، لاہور، پاکستان: ثنا خان، پاکستان: مہر افشان، سعودی عرب: گل گرگیج، پاکستان: |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||