’اپنا بلاگ کسی اور سروس پر لے جاؤں گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چند دن پہلے بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے لیے ریبا شاہد نے مجھ سے رابطہ کیا۔ میں بہت خوش ہوا کیونکہ بی بی سی اردو کے ویب سائٹ سے ہی صحیح معنوں میں ٹیکسٹ پر مبنی اردو ویب سائٹ کا رواج چلا۔ ویب پر میری مصروفیات میں کوئی دن ایسا نہیں ہوتا جب میں اس ویب سائٹ کو نہیں کھنگالتا۔ یہ میرے لیے ایک اعزاز کی بات تھی۔ ریبا کے سوالات کے جوابات بھیجنے کے بعد میں اس کے شائع ہونے کا منتظر تھا کہ مجھے پتا چلا کہ میں خود اپنا ہی بلاگ پڑھ نہیں سکتا۔ میں نے اسی وقت ایک اور آئی ایس پی بدلی مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ میں نے دوسرے بلاگ پڑھنے کی کوشش کی تو کوئی بھی ایسا بلاگ نہیں کھل رہا تھا جو بلاگر کی مفت بلاگنگ سروس پر ہوسٹ کیا گیا ہو۔ بلاگر بلامبالغہ انٹرنیٹ پر مفت بلاگنگ سوفٹوئیر اور ہوسٹنگ فراہم کرنے والی دنیا کی سب سے اہم اور مقبول سروس ہے۔ میں نے اپنے دوستوں سے پوچھا تو پتہ چلا کہ ان میں سے کوئی بھی بلاگ اسپاٹ پر رکھا گیا بلاگ نہیں کھول پارہا۔ اسی دوران مجھے ریبا کا پیغام ملا جس میں پاکستان میں بلاگنگ پر اس آرٹیکل کا لنک بھی تھا جو بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر شائع ہوا تھا۔ اس آرٹیکل کے چھپتے ہی صرف چند گھنٹوں میں میرے بلاگ پر ٹریفک میں غیرمعمولی اضافہ ہوا لیکن ٹریفک کی آمدورفت چیک کرنے والی سروس ایک گھمبیر کہانی سنارہی تھی۔ اس ٹریفک میں پاکستان سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد دو فیصد سے بھی کم تھی۔ اگلے چند گھنٹوں میں اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ پاکستان سے انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی اکثریت میرے بلاگ سمیت بلاگ اسپاٹ پر رکھے گئے لاکھوں بلاگ پڑھنے سے محروم ہوگئی ہے۔
یہ میرے لیے بڑا صدمہ تھا۔ گرچہ بی بی سی کی سائٹ سے میرے بلاگ پر آنے والوں کے تبصرے بہت حوصلہ افزا تھے لیکن میرے خیال میں جن لوگوں کو میرا بلاگ زیادہ پڑھنا چاہئیے تھا ان کی اکثریت اب اسے پڑھنے سے قاصر تھی۔ وہ بی بی سی پر ریبا کا کالم تو پڑھ سکتے تھے لیکن میرا بلاگ نہیں پڑھ سکتے تھے۔ اسی دن میں نے ایک ای میل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے کمپلین سیکشن کو روانہ کی اور اس کی کاپیاں مختلف شہروں میں ان کے افسران کے ای میل پتوں پر بھی روانہ کی۔ میں نے کئی ایک پاکستانی بلاگروں کو ای میل بھیجیں اور مختلف آن لائن فورمز پر اس بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا۔ میں نے اپنی آئی ایس پی کو فون کیا تو انہوں نے اس بارے میں مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔ دو دن گزر گئے اور مجھے پی ٹی اے سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ پاکستانی بلاگروں اور آن لائن فورم پر پتہ چلا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی اکثریت اسی صورتحال سے دوچار ہے۔ جب میں اردو بلاگنگ کا راک اسٹار بننے کا سپنا دیکھ رہا تھا عین اس لمحے کسی نامعلوم ہاتھ نے ان کا گلا گھونٹ دیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بلاگ اسپاٹ تک پاکستانیوں کی رسائی مشکل ضرور ہوئی ہے ناممکن نہیں۔ چند ایسی ویب بیسڈ سروسز موجود ہیں جو پروکسی فراہم کرتے ہوئے تمام بلاگ اسپاٹ بلاگز کو قابل رسائی بنادیتی ہیں۔ میں اس بارے میں اپنے بلاگ کے قارئین کو آگاہ کرچکا ہوں کہ وہ کس طرح میرے بلاگ کو گوگل کے ٹرانسلیشن ٹول کو استعمال کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ اپنی آراء بھی بھیج سکتے ہیں۔ یہ ڈر تو ہے کہ کہیں سرکاری کارندے اسے بھی ناممکن نہ بنادیں لیکن اگر ایسا ہوا تو میں اپنا بلاگ کسی اور سروس پر لے جاؤں گا اور جب وہ بھی بند ہوجائے گی تو کسی اور سروس پر۔ اظہار رائے پر جو پابندیاں اور قدغنیں پاکستانی معاشرے میں عائد ہیں انٹرنیٹ ان کا توڑ ہے۔ ہم پاکستانی چاہے اپنے معاشرے میں شخصی آزادیاں ممکن بنانے میں ناکام ہوگئے ہوں لیکن ہم بلاگستانی انٹرنیٹ پر اظہار کی آزادی کو کچلنے کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور جدوجہد کریں گے۔ کیونکہ فیض کہہ گئے ہیں:
آپ اپنی رائے اردو یا رومن اردو میں بھیج سکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ہم بلاگستانی27 February, 2006 | پاکستان پاکستانی انٹرنیٹ پر کیا کرتے ہیں؟16 January, 2006 | Debate انٹرنیٹ، امریکہ اور حکومتی کنٹرول16 November, 2005 | Debate ذرائع ابلاغ پر آپ کا اعتماد26 July, 2005 | Debate بلا (گ) کی سیاست21 February, 2005 | Debate انٹرنیٹ پر کنٹرول کس کا؟17 December, 2003 | Debate | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||