حالیہ برسوں میں ریڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ نے بروڈکاسٹِنگ کی دنیا میں ایک انقلاب پیدا کردیا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ مختلف ذرائع ابلاغ ایک ہی خبر کی کوریج مختلف طریقے سے کرتے ہیں۔ ساتھ ہی مقامی میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا کے کوریج میں فرق بھی دیکھا جارہا ہے۔ میڈیا کے صارفین کا اعتماد تمام ذرائع ابلاغ پر یکساں نہیں ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملکی یا غیرملکی میڈیا میں لوگوں کی دلچسپی میں بھی اضافہ ہوا ہے ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ ہمارے قارئین کن ذرائع ابلاغ پر اعتماد زیا دہ کرتے ہیں۔ سی این این، جیو ٹی وی، پاکستان ریڈیو یا ٹی وی، بی بی سی ویب سائیٹ ، ریڈیو یا ٹی وی، اسٹار نیوز، آج تک، وغیرہ وغیرہ۔ آج میڈیا کے صارفین کو مختلف زبانوں میں ہزاروں ذرائع ابلاغ تک رسائی ہے۔ خبروں کے لئے آپ کی پسندیدہ ویب سائیٹ کون ہے؟ کس زبان میں ہے؟ کس میڈیا گروپ پر آپ کا اعتماد زیادہ ہے؟ کون سا ریڈیو آپ سنتے ہیں؟ کون سا ٹیلی ویژن نیٹ ورک آپ کے لئے مقبول ہے؟ میڈیا پر اعتماد کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے؟ اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو ہمارا نمبر ہے: 00447786202200 یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
جاوید، جاپان: میں تو صرف یہ کہوں گا کہ بش، بلیئر، بن لادن، شیرون، ان سب سے زیادہ خطرناک ہے کہ یہ تو بم دھماکوں اور جنگوں سے ایک ہی بار ختم کرتے ہیں جبکہ میڈیا بچ جانے والوں کو تڑپا تڑپا کر مارتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ بات بی بی سی والوں کو زیادہ اچھی نہ لگے مگر ہر انسان آزاد ہے تو اس کی آزادانہ رائے کو سننے کی ہمت سب میں ہونی چاہیے۔  | اعتماد اور کنفیوژن  مجھے میڈیا پر اعتماد ہے لیکن کبھی کبھی یہ کنفیوژ کر دیتے ہیں۔  عابد عزیز، ملتان |
عابد عزیز، ملتان: میرا سب سے پسندیدہ چینل بی بی سی اور پھر اے آر وائی ہے اور پسندیدہ ویب سائیٹ بی بی سی اردو ڈاٹ کام ہے جسے میں دن میں کئی بار وزٹ کرتا ہوں۔ مجھے میڈیا پر اعتماد ہے لیکن کبھی کبھی یہ کنفیوژ کر دیتے ہیں۔ رحمت زادہ، متحدہ عرب امارات: امریکی میڈیا اپنی حکومت کی طرح پروپیگنڈا کرتا ہے جبکہ بی بی سی اور دوسرے ذرائع ابلاغ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں۔ چارو ناچار ہم اس جھوٹ کو سنتے اور زہر کو ہضم کرتے رہتے ہیں۔ خالد ملک، چکوال: میں تقریباً آٹھ گھنٹے روزانہ نیٹ استعمال کرتا ہوں اور خبروں کے لیے پسندیدہ تو بی بی سی اردو ڈاٹ کام ہی ہے کیونکہ یہ حقیقت سے قریب ترین ہوتی ہے۔ تازہ ترین خبر شائع کرنے میں بھی پہلا نمبر ان ہی کا ہے۔ عبدل اللہ لغاری، دبئی: بی بی سی پر اعتبار کیا جا سکتا ہے مگر کچھ تحفظات کے ساتھ۔ میں بی بی سی ریڈیو اور ٹی وی پسند کرتا ہوں۔ ہاں اب بی بی سی ٹی وی کو بھی اردو سروس شروع کر دینی چاہیئے۔۔۔ طاہرہ عثمان، پاکستان: پسندیدہ اخبار: نوائے وقت۔ پسندیدہ چینل : اے آر وائی ون۔ پسندیدہ ویب سائٹ : بی بی سی اردو ڈاٹ کام۔ کیونکہ یہ دوسروس کی طرح حکومت کے چمچے نہیں ہیں۔ راجہ یونس، سعودی عرب: ایک وقت تھا کہ امریکی صدر کی موت کی خبر بر صغیر میں تین ماہ بعد پہنچی تھی اور اب یہ عالم ہے کہ آپ براہ راست ہر ایک خبر تک رسائی رکھتے ہیں۔ میڈیا نے بہت کام کیا ہے اور اس سے اگر کچھ مسائل پیدا ہوئے ہیں تو بہت سارے مسائل کے حل کی صورت بھی نکلی ہے۔ ہم بہت چھوٹے تھے جب ہمارے ابو جان بی بی سی ریڈیو سنا کرتے تھے، اور آج ہم ہیں کہ عراق میں تھے تو بی بی سی اردو سروس ایک عادت تھی، پھر پاکستان میں تھے تو بی بی سی ایک ضرورت بن گئی اور اب یہاں سعودی عرب میں ہیں تو بی بی سی ریڈیو کے ساتھ ساتھ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے بغیر اپنا دن ادھورا سا لگتا ہے۔ شاہ ور اکبر، پاکستان: حالات کچھ ایسے ہیں کہ کسی ایک سورس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ایک ہی خبر کو توڑ مروڑ کر مختلف چینلز سے پیش کیا جاتا ہے۔۔۔اور جو خبر آپ تک پہنچتی ہے اس کی آپ اپنے طور پر تردید یا تصدیق بھی نہیں کر سکتے۔ ریاض حسین ملک، اٹلی: روزنامہ جنگ میرا پسندیدہ اخبار ہے۔ مجھے بی بی سی ٹی اور ریڈیو بہت پسند ہے۔ بی بی سی ہر خبر بہت دیانت داری اور سچائی کے ساتھ پیش کرتا ہے اور اس نے عراق اور افغانستان میں ہونے والی جنگوں کی خبریں ہم تک پہنچانے میں بہت ہی اہم کردار ادا کیا ہے۔ محمد باقر علی، دبئی: میں بی بی سی اردو اور جنگ کی ویب سائٹس پڑھتا ہوں۔ یہ دو ویب سائٹس کسی بھی موضوع پر اطلاعات کے لیے نہایت ہی اچھی ہیں خاص طور پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام۔ اس کے علاوہ میں بی بی سی اردو، ہندی اور فارسی کی ریڈیو نشریات بھی باقاعدگی سے سنتا ہوں۔ میں ٹی وی پر خبریں دیکھنا پسند نہیں کرتا کیونکہ وہ ایک ہی خبر کو بار بار دکھاتے ہیں جس کی وجہ سے آپ کو اس خبر کے بارے میں سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان: میرے پسندیدہ ٹی وی چینلز : اے آر وائی ورلڈ، جیو، آج ٹی وی، بزنس پلس، بی بی سی ورلڈ، سی این این۔ میں صرف ایف ایم ریڈیو سنتا ہوں اور جہاں تک ویب سائٹس کا سوال ہے تو بی بی سی اردو ڈاٹ کام، جنگ ڈاٹ کام، نوائے وقت ڈاٹ کام اور سی این این لااٹ کام مجھے پسند ہیں۔ لیکن میں کسی بھی خبر پر زیادہ اعتماد نہیں کرتا ہوں جب میں اس پر ڈبیٹس یا کوئی کرنٹ افیئرز کا پروگرام نہ دیکھ لوں۔ اس لیے میں عوامی رائے کو بھی دیکھتا ہوں جیسے بی بی سی اردو پر ’آپ کی آواز‘ پیج ہے۔ حفیظ اللہ خان، سرحد: میں زیادہ طور پر جنگ کو پڑھتا ہوں اور اس سے متاثر بھی ہوں کیوں کہ یہ تازہ ترین خبریں مہیا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ بی بی سی اردو کی ویب سائیٹ پر ضرور آتا ہوں جکہ سچائی میں ممتاز مقام رکھتی ہے۔ امین اللہ شاہ، پاکستان: بی بی سی اردو سب سے زیادہ پسندیدہ ویب سائیٹ ہے، کہیں کہیں تو ڈنڈی مارنے کا گمان ہوتا ہے لیکن بحیثیت مجموعی بی بی سی کا اسٹنڈرڈ اپنی مثال آپ ہے، نوائے وقت پسندیدہ اخبار ہے اور بہت حد تک حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے، جہاں تک پاکستانی ٹی وی ریڈیو کا تعلق ہے، سننے کو دل ہی نہیں کرتا کیوں کہ وہ صرف حکومت کی جھوٹی تعریفیں کرنے کے علاوہ کچھ نہیں دکھاتا/سناتا۔ قیصر، بیجنگ: بی بی سی میرے نزدیک کافی قابل اعتماد میڈیا ہے اس لئے میں بی بی سی اردو روزانہ کئی دفعہ وزِٹ کرتا ہوں۔ بھارتی میڈیا تو بالکل ہی پروپیگنڈا میڈیا ہے۔ بی بی سی نیوز چینل بھی مجھے بہت پسند ہے۔ جبران ظفر، لاہور: بی بی سی والوں پر تھوڑا اعتبار تھا مگر اب اندازہ ہورہا ہے کہ میں ہی غلط تھا۔ اور اب کسی پر بھی اعتبار نہیں، بی بی سی والے بھی اپنی مرضی کی خبریں دیتے ہیں اور اگر کوئی انسان جس کا تعلق ان کی مرضی کے مسلک سے نہیں اس کی جان بھی جائے پرواہ نہیں کرتے۔ اظفر خان، ٹورانٹو: میرے خیال میں میڈیا میں مینیپولیشن بہت زیادہ ہے۔ کئی اخبارں کو پڑھ کر ہی آپ حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں یا پھر نہیں بھی پہنچ سکتے ہیں۔ میں بی بی سی اردو پڑھتا ہوں اور بی بی سی نیوز پڑھ کر بی بی سی اردو کی کمی پورا کرتا ہوں۔ کبھی محسوس کرتا ہوں کہ بی بی سی اردو میں ایسے مخصوص لوگ بیٹھتے ہیں جو خبروں کو اپنے حساب سے موڑتے توڑتے رہتے ہیں۔ میں ڈان کبھی نہیں پڑھتا ہوں، گمر اس کی ساری خبریں لفٹ لی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ کسی اور کا ترجمان لگتا ہے۔ مزےدار خبروں کے لئے میں سماچار ڈاٹ کام روزانہ پڑھتا ہوں۔ یاسر نقوی، کراچی: بی بی سی سے رشتہ تو بہت پرانا ہے لیکن آج کل سب کچھ ہونے کے باوجود بی بی سی ہی ہے جس پر اعتماد ہے اور شاید رہے گا۔ نغمانہ نیازی، اسلام آباد: پاکستانی ٹی وی ریڈیو کو سننا وقت ضائع کرنے والی بات ہے۔ البتہ بی بی سی اردو سن کر مزہ ہی آجاتا ہے، بی بی سی کو اپنا اسٹنڈرڈ بہتر کرنے کے لئے مسلمانوں کو اتنا ہی مقام دینا ہوگا جتنا دوسرے مذاہب کو، تاکہ بی بی سی پر جانبداری کا داغ نہ لگنے پڑے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: سچی بات تو یہ ہے کہ ہم کو تو صرف اور صرف بی بی سی پر اعتماد ہے اور جو نیوز بی بی سی پر آتی ہیں ان کی کاپی پھر پاکستان بھر کے اخبارات شائع کرتے ہیں، بی بی سی اردو میری پسندیدہ ویب سائیٹ ہے جبکہ بی بی سی اور سی این این۔۔۔ (واضح نہیں) سید قمر عباس، بھکر: بی بی سی کا معیار موجودہ ذرائع ابلاغ میں شاندار ہے لیکن اس میں مغرب کو افضلیت اور مسلمانوں کو کمتر قرار دینے والی کبھی کبھی بو آتی ہے۔۔۔۔۔ پرویز بلوچ، بحرین: میں پہلے بی بی سی ریڈیو پر خبریں سنتا تھا، اب خبروں کے لئے روازانہ بی بی سی اردو کا ویب سائیٹ دیکھتا ہوں، ٹی وی پہ جیو ٹی وی دیکھنا پسند کرتا ہوں، باقی مقامی خبروں کے لئے پاکستان کے مختلف اردو اخباروں کے ویب سائیٹ دیکھتا ہوں، اب خبر ایک ہوتی ہے مگر میڈیا والے اس کو اپنے زاویے سے دیکھتے ہیں۔۔۔ بیجل سندھی، لاڑکانہ: میں بہادر سندھی میڈیا کو پسند کرتا ہوں: عومی آواز، جاگو، کاوش، عبرت، سندھ ٹی وی، کے ٹی این وغیرہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو اور انگلِش زبان کی میڈیا پاکستان میں پاکستان کی مظلوم قوموں کے خلاف غیرجانبدار نہیں ہے۔ ان ذرائع ابلاغ میں کام کرنے والے صحافی پنجابی اور مہاجر ہیں جو سندھی قوم کے مسائل کی طرف سنجیدہ نہیں ہیں۔ فیاض محمد خان، کراچی: میرے خیال میں بی بی سی اردو بیسٹ ویب سائیٹ ہ اور بی بی سی لندن ریڈیو پروگرام کی اردو خبریں بہت اچھی کوشش ہے۔ لیکن بی بی سی ون سائڈیڈ پروپیگنڈا ہے اور اینٹی مسلم کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں بی بی سی کا بہت بڑا کردار ہے۔ میاں عقیل اختر، یو کے: نیوز کے لئے بی بی سی بیسٹ ہے، یہ سچی خبر دیتی ہے۔ میں بی بی سی نیوز پر اعتماد کرتا ہوں۔ میں جب بھی انٹرنیٹ کھولتا ہوں پہلے بی بی سی اردو کی ویب سائیٹ پر جاتا ہوں۔ میں اسکائی نیوز اور بی بی سی نیوز دیکھتا ہوں۔
|