BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 November, 2005, 12:10 GMT 17:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انٹرنیٹ، امریکہ اور حکومتی کنٹرول
نیویارک میں راولہ کوٹ کی ایک فیملی انٹرنیٹ پر زلزلے کی کوریج دیکھتے ہوئے
نیویارک میں راولہ کوٹ کی ایک فیملی انٹرنیٹ پر زلزلے کی کوریج دیکھتے ہوئے

تیونس میں ہونے والی کانفرنس میں باوجود کئی ممالک کی مخالفت کے امریکہ نے انٹرنیٹ پر عالمی طور اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی قرارداد منظور کروا لی ہے اور نیٹ ایڈریس کی مینیجمنٹ اب بھی کیلیفورنیا کی ایک کارپوریشن کے پاس رہے گی۔

کانفرنس میں چین اور ایران کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ پر ایک اقوامِ متحدہ کے تحت ایک عالمی ادارے کا کنٹرول ہونا چاہئے تاہم اس پر امریکہ کا مؤقف ہے کہ یوں غیرجمہوری ریاستیں ٹیکنالوجی میں ترقی کو روک کر انٹرنیٹ پر سینسر شپ عائد کرسکیں گی اس لئے وہ یہ کنٹرول اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے۔

تاہم انٹرنیٹ پر ایک تیسرا مؤقف نیٹ پر شروع کی جانے والی عوامی تحریکوں کا ہے کہ اس پر کارپوریشنز یا حکومتوں کے بجائے خود عوام کا کنٹرول ہونا چاہئے۔

آپ کس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں؟ کیا یہ کنٹرول ایک امریکی کارپوریشن، اقوامِ متحدہ، ہر ملک کی اپنی حکومت یا عالمی عوام کے پاس ہونا چاہئے؟ کیا امیر ممالک اور غریب ممالک میں انٹرنیٹ کی تقسیم منضفانہ ہے؟ کیا خود غریب ممالک کے اندر انٹرنیٹ تک سب کو برابر رسائی حاصل ہے؟ انٹرنیٹ پر آزادیِ اظہار اور معلومات تک سب کی رسائی کے حق کو کیسے یقینی بنایا جائے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


جواد یونس، لاہور، پاکستان
انٹرنیٹ پر یقیناً ایک بین الاقوامی ادارے کا اختیار ہونا چاہیے۔ عوامِ عالم کو چاہیے کہ امریکہ کی اس ہٹ دھرمی پر احتجاج کریں۔

محمد ارشد، کراچی، پاکستان
انٹرنیٹ کا استعمال ہر ملک کے پاس ہونا چاہیے۔

زیبی ندیم، کراچی، پاکستان
ایک عالمی ادارہ ہو جس میں امریکہ نہ ہو، یہ تھانیداری چلاتا ہے اس کو باہر ہونا چاہیے۔

آسی جعفری، انڈیا
دنیا میں تو اچھائی اور برائی کی طاقتیں ہیں۔ لیکن اس طرح ہر چیز تجارت میں شامل ہو جائے گی۔ یہ چیز عوام کے پاس ہی رہنی چاہیے۔

دانش ملک، میرپور خاص، پاکستان
کسی دوسرے ملک کے عوام کا تو پتا نہیں لیکن اگر پاکستان کے عوام کے پاس انٹرنیٹ کا کنٹرول ہو گا تو نیٹ کا بھی وہی حال ہو گا جو پاکستان کے سچے سیاستدانوں کا ہے۔

شاہدہ اکرم، یو اے ای
دنیا میں ہر ادارے اور ہر تنظیم کو نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اس وقت کی بڑی ضرورت انٹرنیٹ کا کنٹرول کسی ایک ملک کے پاس ہونا غلط ہے۔ کسی غیر جانب دار طاقت کو اس کا کنٹرول دینا ہی بہتر ہو گا۔

دلشاد حبیب، گجرات، پاکستان
بڑی عجیب بات ہے کہ جمہوریت کا سب سے بڑا دعوے دار ملک یہ کہہ رہا ہے کہ انٹرنیٹ کا کنٹرول عوام کے پاس نہیں بلکہ چند مخصوص لوگوں کے گروہ کے پاس ہونا چاہیے۔ لیکن اتنی عجیب بھی نہیں کیونکہ امریکہ کے عزائم تو پوری دنیا پر کنٹرول کرنے کے ہیں۔ انٹرنیٹ تو اب خالص عوامی استعمال کی چیز بن گیا ہے۔

فضل برہان، سوات، پاکستان
یہ تو ایک فطری عمل ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ جہاں عوام کی آزادی، بنیادی حقوق، سماجی اور معاشرتی ترقی ہوگی، وہی حکومتیں اور قومیں ترقی یافتہ ہوں گی۔ اسی ملک کا ان چیزوں پر کنٹرول کا دعوٰی درست ہو گا۔

جاوید سروٹھیا، امریکہ
انٹرنیٹ امریکہ سے شروع ہوا تھا۔ ایک پرائیویٹ کمپنی نے اس کی بنیاد رکھی تھی، اور اسکو چلانے والے بھی پرائیویٹ امریکی لوگ ہیں۔ اب وہ اس کو بہتر سے بہتر بنا رہے ہیں۔ بےشک انٹرنیٹ صرف امریکہ میں ہی استعمال نہیں ہو رہا لیکن اس کے لیے اس کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے کہ اس نے تمام ممالک کو یہ سہولت پیش کی۔

عالمگیر بیگ، سویڈن
میرے خیال میں انٹرنیٹ کا کنٹرول امریکہ کے پاس ہی ہونا چاہیے، کیونکہ انٹرنیٹ کی ایجاد امریکہ نے ہی کی تھی اور وہی اس کو بہتر طور پر سنبھال سکتا ہے۔

یاسر نوید، کشمیر
انٹرنیٹ پر امریکہ کی اجارہ داری ختم ہونی چاہیے۔ غریب ملکوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا امیر ملکوں کا۔

معصوم جان، راولپنڈی، پاکستان
اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان کے علاوہ بھی کسی ملک میں اجارہ داری ہے۔

ندیم فاروقی، کراچی، پاکستان
انٹرنیٹ پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ کسی کو اسے کنٹرول کرنے کا حق نہیں ہے۔ انٹرنیٹ انسانی دماغ کی مصنوعی قسم ہے اور اس پر سب کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع ملنا چاہیے۔ اس سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

ساجد شاہ، یو کے
دنیا آج بھی چانکیا کے اصول پر چل رہی ہے، یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔

منیرہ سلام، نئی دہلی، انڈیا
ہم تیسری دنیا والوں کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ ہم نہ تو خود کوئی ترقی سامنے لا سکتے ہیں، نہ ہی ہم ایمانداری سے مغرب کی ترقی کی نقل کر سکتے ہیں۔ ایسے میں صرف اندیشہ ظاہر کر کے دوسروں کی ایجادات پر رائے زنی کرنا بہت آسان ہے۔ رہی بات انٹرنیٹ کی تو اس پر اختیار اسی ملک کا ہونا چاہیے جس کی یہ ایجاد ہے۔

زبیر احمد، بلوچستان، پاکستان
میرے خیال میں انٹرنیٹ کا ایک عالمی ادارہ ہونا چاہیے جس میں ہر ملک کی نمائندگی ہونی چاہیے۔

جاوید بابا، چترال، پاکستان
آپ کو پتا ہے کہ انٹرنیٹ کا مطلب ہے انٹرنیشنل نیٹ ورک، تو پھر اس پر کسی ایک ملک کا کنٹرول کیوں ہو؟

محمد عارف، جہانیاں، پاکستان
میرے خیال میں اگر انٹرنیٹ پر امریکہ کا کنٹرول ہو تو دنیا میں عریانی اور فحاشی کا ایک نہ رکنے والا طوفان شروع ہو جائے گا۔ اگر کوئی عالمی ادارہ بنایا جائے تو اس میں مسلمان ملکوں کو بھی شامل کیا جائے جو امریکہ کبھی نہیں چاہے گا۔

کمال احمد، کراچی، پاکستان
صرف انٹرنیٹ ہی نہیں بلکہ سارے ذرائع مواصلات اس طرح ڈیزائن کیے گئے ہیں کہ کنٹرول ہمیشہ امریکہ کا ہی رہے گا۔ امریکہ کو ’سٹینڈ الون نیٹ ورکس‘ کے علاوہ تمام مواصلات تک رسائی حاصل ہے۔ نیٹ ورک میں گھسنے والے ہیکر کو بھی امریکہ اغوا کر لیتا ہے۔

خرم چودھری، امریکہ:
انٹرنیٹ چلانے کے لیے ایک بین الاقوامی ادارہ ہونا چاہیے۔ یہ کنٹرول کسی ایک ملک کے پاس ہونا صحیح نہیں ہے۔

ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان:
امریکہ ساری دنیا کا چودھری بنا بیٹھا ہے اور اب یہاں بھی وہ اپنی طاقت دکھا رہا ہے۔ اس کے لیے ایک آزاد ادارہ ہونا چاہیے جس میں دنیا کے مختلف ممالک رکن ہونگے۔

محمد عثمان الحق، لاہور، پاکستان:
میرے خیال میں ایک عالمی ادارہ برائے انٹرنیٹ بنایا جائے، جس میں دنیا کے تمام ملکوں سے رکن شامل کیے جائیں اور انٹرنیٹ کا کنٹرول اس کے ہاتھ میں دیا جائے۔

محمد زاہد خان، لاہور، پاکستان:
یہ کنٹرول میرے خیال سے کسی ایسے ادارے کے پاس ہونا چاہیے جس پر ساری دنیا کا یقین ہو۔

طارق عباسی، کراچی، پاکستان:
آج کل انٹرنیٹ بےقابو نظر آتا ہے کیونکہ اس پر آپ کسی بھی موضوع پر مواد دیکھ سکتے ہیں۔ میرے خیال میں ایک نگراں ادارہ ہونا چاہیے جو اخلاقی اور معاشی بنیادوں پر انٹرنیٹ کو چلائے۔ اقوام متحدہ اور امریکہ میں کوئی خاص فرق تو ہے نہیں، اس لیے کنٹرول امریکہ کی بجائے اقوام متحدہ کے پاس ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جس طر ٹیلی فون نظام ہر ملک کنٹرول کرتا ہے اسی طرح انٹرنیٹ کے لیے بھی نظام ہوا چاہیے۔

اعزاز سید، اسلام آباد، پاکستان:
کنٹرول کسی آزاد ادارے کو دینے کی بات الگ ہے، پہلے ہمیں یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ یہ کنٹرول امریکہ سے لینے کی بات آخر کیوں کی جا رہی ہے؟ اور اس کا جواب یہ ہے کہ عالمی عوام کا امریکہ پر سے بھروسہ اٹھ گیا ہے۔ انہوں خدشہ ہے کہ امریکہ ان کے بارے میں معلومات کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔ اس لیے میرے خیال میں انٹرنیٹ پر اقوام متحدہ کا کنٹرول ہونا چاہیے، کیونکہ وقت کے ساتھ اس ادارے کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔

صالح محمد، راولپنڈی، پاکستان:
میرے خیال میں انٹرنیٹ کے کنٹرول کا ایک بین الاقوامی ادارہ ہونا چاہیے، صرف امریکہ کا کنٹرول نہیں ہونا چاہیے۔ امریکہ پہلے ہی پولیس مین بنا ہوا ہے۔ انٹرنیٹ کے فوائد غریب لوگوں کو پہنچانا ضروری ہے۔

پٹھان خان، ٹورنٹو:
مجھے تو کوئی برائی نظر نہیں آتی۔ کیونکہ یہ لوگ اس کو دل لگا کر اور سسٹم کے تحت کر رہے ہیں۔ اگر پاکستان، انڈیا اور ایران وغیرہ کے حوالے کر دیا گیا تو اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر پاکستام میں اگر اخبار حکومت کے خلاف لکھیں تو ان کے اشتہار بند کر دیے جاتے ہیں۔ امریکہ جیسا بھی ہے ان کا میڈیا آزاد ہے۔

سیدل لونی، یو کے:
انٹرنیٹ دنیا بھر کے عوام کی ملکیت ہے، اس لیے اس پر کنٹرول کسی ایسے ادارے کا ہونا چاہیے جو کہ دنیا بھر کے عوام کے لیے احترام رکھتا ہو۔ ایسا صرف ایک ہی ادارہ ہے جس کا نام ہے اقوامِ متحدہ۔

اعظم خان، کشمیر:
اگر دنیا میں کسی ایک ملک کی ریاستی دہشت گردی قائم کرنا ہے تو کنٹرول اس کو دے دیں، اور پھر وہ بھی اس ملک کو جس کی مہربانیاں دنیا نے ہیروشیما، ویتنام، ابو غریب، افغانستان، فلوجہ اور فلسطین میں دیکھ لیں ہیں۔ میرے خیال میں انٹرنیٹ کا کنٹرول صرف عوام کو ہونا چاہیے۔

چندو راج، پاکستان:
انٹرنیٹ کا اختیار ملک کی حکومت کے پاس پونا چاہیے۔

شاہ زاد زمیر، عمان:
انٹرنیٹ پر کسی کا بھی کنٹرول نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ ایک معلوماتی، تعلیمی اور تفریحی نیٹورک ہے۔ انٹرنیٹ کو آزاد ہونا چاہیے۔ اگر اس پر بھی اخباروں یا ٹی وی یا لائبریری کی طرح کسی ڈکٹیٹر، حکومت یا ادارے کا کنٹرول ہو گیا تو جو لوگ انٹرنیٹ پر استفادہ کرتے ہیں، وہ کہاں جائیں گے؟ انٹرنیٹ ایک سستہ اور بہترین ذریعہ ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ لوگ اس کا غلط استعمال بھی کرتے ہیں۔

شاہ شفیق پرویز، پاکستان:
کنٹرول عالمی عوام کے پاس ہونا ضروری ہے۔ اقوام متحدہ اور امریکہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ امیر اور غریب ممالک کے درمیان انٹرنیٹ کی تقسیم منصفانہ تو نہیں لیکن پاکستان جیسے ملک میں تقریباً ہر کسی کی رسائی ممکن ہے۔

سجاد علی، متحدہ عرب امارات:
انٹرنیٹ ملکی سطح پر آزاد ہونا چاہیے۔ میرا مطلب ہے کہ ہر ملک کو اپنے ملک میں انٹرنیٹ پر کنٹرول ہونا چاہیے۔ اور تمام ممالک پر مشتمل ایک ادارہ ہونا چاہیے جس کے فیصلے سب کو قبول ہوں۔

حفیظ لغاری، متحدہ عرب امارات:
میرے خیال میں عام آدمی کو اس چیز سے کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہے۔ یہ اچھا رہے گا کہ اقوام متحدہ کے تحت ایک ادارہ بنا دیا جائے جس پر عالمی سطح پر انٹرنیٹ کو چلانے کی ذمہ داری ہو، تاکہ سب اپنا حق سمجھیں اس پر، نہ صرف امریکہ۔

سجاد علی، بھارت:
جب سے انٹرنیٹ کا سلسلہ شروع ہوا ہے تب سے دنیا بہت چھوٹی ہو گئی ہے۔ اس بات کا دارومدار ہر انسان پر ہے کہ وہ اس کا کتنا فائدہ اٹھاتا ہے۔

زلزلہ اور میڈیازلزلہ اور میڈیا
کیا آپ زلزلے کی کوریج سے مطمئن ہیں؟
کیا ہمیں اس کی شدت کا صحیح اندازہ ہے؟زلزلہ : آپ کی رائے
کیا دنیا کو تباہی کی شدت کا صحیح اندازہ ہے؟
کمپیوٹر آپ کی رائے
آپ کمپیوٹر کا استعمال کس لئے کرتے ہیں؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد