BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 October, 2005, 16:28 GMT 21:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ اور ذرائع ابلاغ کا کرادر

جنوبی ایشیا میں تاریخ کے بدترین زلزلے کو آئے ہوئے آج سترہ دن گزر چکے ہیں۔ جہاں اس زلزلے کو ایک بہت بڑے انسانی سانحے اور موجودہ دور کی شاید سب سے بڑی امدادی کارائیوں کی ناکامی اور کامیابی کے لیے یاد رکھا جائے گا وہاں اس سانحے کی میڈیا کوریج کے لیے بھی۔

ملکی ذرائع ابلاغ کے علاوہ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کے نمائندے زلزلے سے متاثرہ علاقے سے مسلسل خبریں پہنچا رہے ہیں۔

آپ زلزلے کی خبروں سے کیسے باخبر رہ رہے ہیں؟ متاثرین کی حالت اور مشکلات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں ذرائع ابلاغ کا کردار کیسا ہے؟ کیا میڈیا متاثرین کے احساسات کی صحیح عکاسی کر رہا ہے؟ اس حوالے سے بی بی سی اردو کی کوریج کے بارے میں آپ کے کیا تاثرات ہیں؟ کیا زلزلے پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی موجودہ کوریج برقرار رہنی چاہئے؟ یا ان صفحات پر دیگر خبروں کی جگہ بڑھا دی جانی چاہئے؟

آپ بائیں ہاتھ پراس موضوع پر ووٹ بھی دے سکتے ہیں۔

آپ کی رائے

آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو براہِ مہربانی اس کے آخر میں اپنا اور اپنے شہر کا نام لکھنا نہ بھولیے۔ ہمارا نمبر ہے:00447786202200



منیر حسین، سلام آبادت پاکستان:
مجھے یقین ہے کہ آپ میری رائے شائع نہیں کریں گے، لیکن پھر بھی اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے لکھ رہا ہوں۔ افسوس بی بی سی نے ہمیشہ کی طرح ایک متعصب اور پاکستان مخالف کوریج دی ہے۔ آپ کی ایک ایک رپورٹ لوگوں کے حوصلہ پست کرنے والی تھی، خاص کر ان لوگوں کے لیے جو مالی مدد کرنا چاہتے تھے یا رضاکار بن کر جانا چاہتے تھے۔ آپ نے پاک آرمی کے امدادی کاموں پر لوگوں کے ذہنوں میں شک پیدا کیا۔ کیونکہ سب نے دیکھا کہ پاک آرمی انتھک کام کر رہی ہے، اور ہم نے خود دیکھا۔ جب کہ مقامی دیسی میڈیا اے آر وائی، جیو وغیرہ نے بہت اچھا اور مثبت کام کیا کہ ان کی کوریج زیادہ بہتر اور حوصلہ افزا تھی۔

فرخ، لاہور، پاکستان:
میں تقریباً روز بی بی سی پڑھتا ہوں۔ لیکن اب تک یہ صحیح نہیں بتا سکے کے مرنے والوں کی تعداد کتنی ہے۔ میری التجہ ہے کہ براہ مہربانی پوری خبریں دیں۔

محمد وقاس، پاکسان:
میری رائے میں یہ جو کوریج ہو رہی ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔ یہ صرف تصویر کا ایک پہلو دکھا رہی ہے یعنی وہ صرف یہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امداد نہیں ملی، بلکہ انہیں یہ بھی دکھانا چاہیے کہ کن کن کو امداد مل چکی ہے تاکہ امداد دینے والوں کو بھی پتہ چلے کہ ان کی بھیجی ہوئی امداد لوگوں تک پہنچ رہی ہے، تاکہ وہ زیادہ امداد دینے کی کوشش کریں۔

احمد شاہ، پشاور،پاکستان:
میں بی بی سی کی کوریج سے بالکل مطمئن نہیں ہوں کیونکہ بی بی سی زلزلے کا ہر پہلو سیاسی نظر سے بیان کرتا ہے۔ یہ ایک سانحہ ہے، اس میں سیاست کی کوئی جگہ نہیں۔ بی بی سی کی یہ کوشش ہے کہ پاکستانی عوام میں حکومت کے خلاف نفرت پیدا کی جائے۔ یہ وقت شکایات کا نہیں بلکہ دکھی انسانیت کی مدد کرنے کا ہے۔

عبد الرب، نامعلوم:
پاکستانی مقامی ٹی وی چینلوں نے بہت ہی اچھے طریقے سے حقائق عوام تک پہنچائے جبکہ بین الاقومی میڈیا کا کردار ان سے بہت کم رہا۔

بابر ہارون، ابو ظہبی:
میں دراصل مانسہرہ کا رہنا والا ہوں۔ میرے گاؤں کا نام عطر شیشا ہے اور یہ مانسہرہ اور بالاکوٹ کے درمیان واقع ہے۔ اس علاقے کی کوریج کے لیے میں بی بی سی کا شکر گزار ہوں۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس زلزلے میں میرے گھر والے بچ گئے۔

عابد الرحمان، برطانیہ:
میڈیا نے زیادہ کوریج امیر لوگوں کی کی۔ یا پھر جہاں پر کوئی حکومتی اہلکار ہوتا تھا، وہاں کی ہے۔۔۔

حفیظ الرحمان، نیو زیلینڈ:
میرے خیال میں بی بی سی میں کچھ ایسے لوگ بیٹھے ہیں جو دراصل پاکستان کے لیے منفی سوچ رکھتے ہیں، اسی لیے ان کی کوریج ایسی تھی۔ جبکہ پاکستانی قوم کے احساسات اور اس زلزلے پر ان کا رد عمل مثال بن گیا ہے۔ اور اس پر مجھے فخر ہے۔

تاثیر پپو، جنوبی کوریا:
آپ نے بہت اچھی کوریج کی ہے۔ ملک سے باہر آپ نے ہم کو حالات سے باخبر رکھا۔

نزاکت علی، سندھ، پاکستان:
اتنی اچھی کوریج دینے پر میں بی بی سی کا بہت بہت شکر گزار ہوں۔ میں سمجھتا ہوں جب تک متاثرہ علاقہ بی بی سی کی خبروں میں رہے گا وہاں کام ہوتا رہے گا اور حکومت کی دلچسپی برقرار رہے گی۔ بہتں شکریہ۔

نجف علی شاہ، پاکستان:
بی بی سی ریڈیو کی کوریج قابل تحسین رہی تاہم بی بی سی ٹی وی کی کوریج کم تھی۔

علی، نامعلوم:
ایک بات دیکھنے میں آئی ہے، وہ یہ کہ برطانیہ نے اپنی خبروں میں بہت کوریج دی بنثبت دوسرے یورپی ممالک اور امریکہ کے۔ اس سے پتہ چلتا ہے جیسے برطانیہ صحیح دوست کا حق اداد کر رہا ہے۔ جو ہمارا ساتھ دیں گے، ہم انہیں نہیں بھولیں گے۔

عمر حیات، چین:
زلزلے سے تباہ حال انسانوں کا واحد سہارہ بی بی سی ہے۔ اسے بند کر کے لوگوں کو بے رحم حکمرانوں کے سامنے نہ پھینکا جائے۔

سید نقوی، لاہور، پاکستان:
باقی سب تو ٹھیک ہے مگر باتوں باتوں میں میڈیا حکومت کو زلیل کرتا ہے، یہ غلط ہے۔

عثمان اکرم، لاہور، پاکستان:
میرے خیال میں بی بی سی سے اچھی کوریج اس آفت کی کسی اور نے نہیں کی۔

اخلاق رسول، مظفرآباد، کشمیر:
اٹھارہ دن گزرنے کے باوجود زلزلے سے بری طرح متاثرہ وادیِ نیلم امداد کے انتظار میں ہے۔ سب سے گنجان آباد یونین کونسل باڑیاں، جو کہ وادیِ نیلم کےلئے بنیادی گزرگاہ ہے،زلزلے سے اتنی بری طرح تباہ ہوئی ہے کہ صرف چیلیانا گاؤں میں ملبے سے 510 لاشیں ملیں ہیں۔ سید گاؤں میں 2273 گھر تباہ ہو گئے ہیں۔ وادی کی بڑی سڑک کے بند ہو جانے کی وجہ سے سارہ علاقہ خوراک کی کمی کا شکار ہے۔ ھزاروں لوگ بے گھر ہیں اور موسمِ سرما آ رہا ہے۔ یہاں سے پیدل مظفر آباد جانے میں تین سے چار دن لگتے ہیں۔ وادی کے دو لاکھ لوگوں کو خوراک اور رہائش کی اشد ضرورت ہے۔

اعجاز شفیع: کراچی: پاکستان
بی بی سی ، براہِ مہربانی پاکستان کی فوج اور عوام کی جانب سے کی جانے والی بحالی کی کوششوں کے بارے میں ہمیشہ برا تاثر نہ دیا کریں۔ یہ پاکستان میں آنے والا سب سے بڑا بحران ہے اور آپ لوگ صرف تاریک پہلو پیش کر رہے ہیں۔ لوگوں کی کوششوں اور جذبات کے بارے میں آپ نے ایک بھی خبر نہیں دی۔۔۔۔

خلیل چغتائی: ابو ظبہی
میرے خیال میں بی بی سی ایک ایسی ویب سائٹ تیار کر سکتا تھا جس میں کوہ پیمائی کا شوق رکھنے والے رضا کار جی پی ایس(GPS) کی مدد سے لوگوں کی تعداد اور ضروریات کا تعین کرتے۔ میرے خیال میں GPS ان دنوں بہت سستی ہے۔

تلاوت بخاری: اسلام آباد: پاکستان
ہم تو زلزلہ زدہ علاقہ میں رہتے ہیں اس لئے سب کچھ دیکھ اور محسوس کر رہے ہیں۔ مجھے تو حیرانگی ہوتی ہے اور شرم بھی آتی ہے جب ہمارے حکمران جو کچھ عرصہ پہلے اپنے خزانے بھرے ہونے کی ڈینگیں مارتے تھے اب متاثرین کی مدد کے لئے عالمی برادری سے بھیک مانگ رہے ہیں مگر پھر بھی یہ سیاست بازی سے باز نہیں آئے۔

محمد طفیل: بنکاک: تھائی لینڈ
این جی اوز اتنی خاموش کیوں ہیں؟ بی بی سی کو اسے دیکھنا چاہیے۔ این جی اوز کتنی ہیں اور اب تک انہوں نے کیا کردار ادا کیا ہے؟ مجھے تو نظر نہیں آیا۔ بی بی سی کی کوریج تسلی بخش رہی۔براہِ مہربانی متاثرین ِزلزلہ سے ان کی زندگی کے اس مشکل وقت میں توجہ نہ ہٹائیے گا۔

نبیل رضا: لاھور: پاکستان
اس بڑے زلزلے میں ذرائع ابلاغ کے کردار واضع کرنا آسان نہیں ہے اور یہ سچ ہو گا اگر میں کہوں کہ اس مرحلے پر ان کا کردار بہت اہم ہے۔ ایک طرف انہوں نے ایسے لوگوں کو ڈھونڈھا ہے جن تک کوئی نہیں پہنچا تھا۔ لیکن دوسری جانب میڈیا لوگوں کی محرومیوں سے کھیل رھا ہے اور ایسے مسائل اور حقائق کو ابھار رہا ہے جو ضابطہِ اخلاق کے خلاف ہیں۔

عبدالاسلام: تیمر گرہ: پاکستان
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بی بی سی ڈاٹ کام فوج پر بے جا تنقید کرتے ہیں۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ یہ کتنے بے خبر لوگ ہیں۔ پاکستان کو آج تک فوج نے جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا کسی اور نے نہیں کیا۔ ملک کے دو ٹکڑے کئے۔ ایم کیو ایم کو پیدا کیا۔ کرپٹ سیاستدانوں کو مسلط کیا۔ اسلام کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نامعلوم:
نامعلوم:
نامعلوم:

بی بی سی اردو اور انگریزی، دونوں کی کوریج بہت اچھی رہی، مگر بین الاقوامی میڈیا نے اس طرح کوریج نہیں کی جس طرح سونامی کے بعد کی گئی تھی۔

امجد اقبال، لاہور، پاکستان:
میرے خیال میں یہ عمل جاری رہنا چاہئے، کیونکہ جب لوگ میڈیا پر حالات کو دیکھتے ہیں تو پھر مدد کے لیے سامنے آتے ہیں۔ اگر میڈیا نے یہ عمل بند کر دیا تو سب بھول جائیں گے کہ آٹھ اکتوبر کو کیا ہوا تھا۔

سلیم مرزا، لاہور، پاکستان:
آپ کی کوریج بہترین ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میڈیا کوریج کی وجہ سے کئی جانیں بچی ہیں۔ میڈیا نے حکومت پر دباو بنائے رکھا۔ میں آپ کے نامہ نگاروں کو سلام کرتا ہوں جو ان مشکل حالات میں ایسے دشوار گزار علاقوں سے رپورٹیں بھیج رہے ہیں۔ جیو اور اے آر وائی جیسی نجی چینلوں کی کوریج اچھی تھی، البتہ پی ٹی وی کے لیے یہ نہیں کہا جا سکتا۔

عبدل رزاق، صوبہ سرحد:
سب خراب ہے۔ سمجھ نہیں آتا کون غلط ہے کون صحیح۔ صرف اللہ ہی جانتا۔

عمران غفور، کوئٹہ:
پہلے تو میں ان تمام افراد تک اپنا سلام پہنچانا چاہتا ہوں جو اس مشکل وقت میں متاثرین کی مدد کر رہے ہیں۔ اور کیا بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر زلزلوں کی مختصر تاریخ وضح کی جا سکتی ہے؟

محمد عمران بھٹی، سرگودھا:
بہت افسوس کی بات ہے کہ حکومت الائی کے مسئلے کو سیاسی شکل دے رہی ہے، جب کہ ہزاروں لوگ مر رہے ہیں۔ حکومت کو جلد از جلد اور سنجیدگی سے الائی کا مسئلہ حل کرنا چاہیے۔

نامعلوم:
تم بھی بچھڑو گے تو میرے پاس کیا رہ جائے گا۔۔۔
براہ مہربانی اسے جاری رکھئے۔ بی بی سی خبروں کا ایک پر اعتماد ذریعہ ہے۔ دیگر ذرائع تو حکومت کے کنٹرول میں آ چکے ہیں۔

سجال احمد، امریکہ:
پتے نہیں آپ میری رائے شائع بھی کریں یا نہیں، پر ایک بات ضرور کہوں گا کہ میری رائے آپ کے بارے میں تھوڑی سی بدل گئی ہے۔ میرا مطلب ہے بہتر ہو گئی ہے۔ جتنی آپ لوگوں نے اچھی کوریج کی، اتنی تو پاکستان میں جنگ نیوز پیپر نے بھی نہیں کی۔ اور نوائے وقت تو بس اپنی ہی تعریفوں میں مصروف ہے۔ یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ اس مشکل وقت میں امریکی اور برطانوی لوگوں نے بھی ساتھ نہیں دیا، پاکستان کو اتنی امداد نہیں دی جتنا کہ حق بنتا تھا۔ اس مشکل وقت میں ہمیں دعاوں اور امداد کی ضرورت ہے، نہ کہ ان لوگوں پر تنقید کی جو وسائل کم ہونے کے باوجود بھی کام کیے چکے جا رہے ہیں۔ آپ لوگوں کو فوج پر تنقید چھوڑ کر آفت زدہ افراد کی مدد کرنی چاہیے۔

نوید اوان، کینیڈا:
بی بی سی کی زلزلے پر کوریج ٹھیک ٹھاک ہے مگر اسے اور بڑھانا چاہیے۔

محبوب خان، اسلام آباد، پاکستان:
یہ تو ماننا پڑے گا کہ اس آفت کے بارے میں آگاہی پھیلانے میں میڈیا کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ جب کوئی خبر بی بی سی پر شائع ہوتی ہے تو اس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ اپنی کوریج کو جاری رکھیں۔ اب تک کا آپ کا کام قابل تعریف ہے۔

فرید اللہ، مردان، پاکستان:
جہاں تک پاکستانی میڈیا کا تعلق ہے تو یہ لوگ وہاں جاتے ہیں جہاں صدر اور وزیر اعظم جاتے ہیں۔ جبکہ بی بی سی اردو سروس سے ہم مطمئن ہیں، لیکن وہ بھی صرف پچیس فیصد ہی دکھا رہے ہیں۔

ریاض فاروقی، دبئی:
جو لوگ اس علاقے میں نہیں ہیں ان کے لیے معلومات کا واحد ذریعہ میڈیا ہی ہے اور پاکستانی کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کوئی مصیبت آئی ہے اور لوگوں کو اس کے بارے میں کم از کم تیس فیصد تو پتہ چل گیا ہے۔ اس سے پہلے تو یہ عالم تھا کہ مصیبت آئی اور بس ایک خبر آ گئی کہ یہ ہوا ہے۔ اس کے بعد کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اب حالات تبدیل ہو گئے ہیں۔

عاصم سعید، لاہور، پاکستان:
یہ تو نیگٹو رپورٹنگ ہے، یعنی منفی رپورٹنگ۔ بی بی سی ہمیشہ حکومت پاکستان اور فوج کو نشانہ بنانے کے لیے موقع کی تلاش میں ہوتا ہے۔

محمد حنیف، جھنگ، پاکستان:
میرے خیال میں میڈیا اپنی ذمہ داری اچھے طریقہ سے پوری کر رہا ہے۔ الائی کے بارے میں جو معلومات بی بی سی کے ذریعے ملیں وہ واقعی قابل ذکر ہیں۔ اگر میڈیا اتنی کوریج نہ دیتا تو دنیا الائی جیسے دشوار گزار علاقے سے بے خبر ہی رہتی اور وہاں کی بے آثرہ عوام تک امداد نہ پہنچ پاتی۔۔۔

محمد شفیق، شیخوپورا، پاکستان:
جہاں بی بی سی اردو سروس اور دیگر نجی پاکستانی چینل زلزلے کے متاثر علاقوں کی خبریں دے رہے ہیں اور ان کی وجہ سے دور دراز علاقوں تک امدادی کارکن پہنچ رہے ہیں، وہاں پاکستان ٹیلی وژن کا کردار صرف یہ ہے کہ ہر خبر، فیچر، ٹاک شو فوج سے شروع اور فوج کی تعریف پر ختم ہوتی ہے۔ زلزلہ زدگان کی کوریج سے زیادہ پرویز مشرف اور فوج کی کوریج کی جاتی رہی ہے جیسے جو بھی رلیف آپریشن ہو رہا ہے صرف آرمی کر رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔

سلیم رضا، برطانیہ:
بی بی سی کوریج حقیقت پر مبنی رہی ہے۔ پاکستان کی حکومت کو چاہیہ کہ اسے سمجھے اور اس پر عمل پر عمل کرے۔ پلیز پلیز اسے جاری رکھیں۔

انجم ملک، جرمنی:
اس مشکل وقت میں روم جل رہا ہے اور سیاستدان بانسری بجا رہے ہیں۔ میں اس توسط سے یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ انگلینڈ کی ٹیم کو پاکستان کے دورے پر بلا کر قوم کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔

خرم شرافت، مونٹریال، کینیڈا:
آپ کی کوریج کی وجہ سے ہم جیسے لوگوں کو حالات کی شدت کا اندازہ ہوا ہے۔ بہت اچھے، اسے جاری رکھیں۔

جمیل مقصود، برسلز، بلجیم:
یہ واحد راستہ ہے ہمارے لیے جس سے ہمیں کشمیر کے حالات کا پتا چل رہا ہے۔

عطا جمیل، سعید آباد، پاکستان:
میڈیا ان جگہوں کی خبر دے رہا ہے جہاں سرکاری لوگ جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں جائیں جہاں کوئی نہیں جا رہا۔ میں تو میڈیا سے مطمئن نہیں ہوں۔

عدنان ملک:
بی بی سی کا شکریہ کہ آپ نے زلزلے کی پوری پوری کوریج کی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بی بی سی پر زیادہ خبریں فوج کے خلاف نظر آئی ہیں۔ آرمی ہمارے ملک کا واحد ادارہ ہے جو ایک منظم طریقے سے کام کرتا ہے۔ باقی تمام ادارے بدانتظامی کا شکار ہیں۔

احمد خان، امریکہ:
بی بی سی کی ویب سائٹ تازہ ترین اور پر اثر کوریج کر رہی ہے۔ یہ سونامی سے بڑا حادثہ ہے لیکن امریکی میڈیا کو اس کی بالکل سمجھ نہیں ہے۔ ان کا رویہ نہایت ظالمانہ ہے اور لا پرواہی پر مبنی ہے۔

فتح اللہ فضل حمید، شارجہ:
زلزلے کی کوریج کرنے والی ٹیم نے محنت کی ہے لیکن اصل متاثرین تک کم پہنچ پائی ہے۔

جمیل جلو، پاکستان:
بی بی سی ریڈیو اور ویب سائٹ نے تو ہمیں جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ میں کہنا چاہوں گا کہ اردو ڈاٹ کام کے صفحات اسی طرح رہنے چاہئیں۔ اللہ بھلا کرے بی بی سی والوں کا۔

جاوید اقبال، چکوال:
بی بی سی نے گزشتہ اٹھارہ دنوں میں ہر لمحے عوام کو باخبر رکھا ہے اور میں نے اس دوران بہت معلومات حاصل کی ہیں۔

حمیداللہ نیازی، بیجنگ، چین:
میرا خیال ہے اس زلزلے کی کوریج پر میڈیا کو خراج تحسین پیش نہ کرنا
ناانصافی ہوگی۔ میڈیا ہر جگہ حکومت سے پہلے پہنچا۔ پلیز کوریج کو اسی طرح جاری رکھیں ورنہ لوگ اور حکومت متاثرین کو بھول جائیں گے۔ میڈیا کا متاثرین پر یہ ایک احسان ہوگا۔

عثمان شاہ، کراچی:
پاکستان ٹیلی ویژن کا کردار بہت اچھا تھا۔

جبار راؤ، پاکستان:
بی بی سی کی کوریج قابل تعریف ہے لیکن آپ کے تبصرے اور تجزیے پڑھنے اور سننے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ بی بی سی پر انڈین لابی کا قبضہ ہے۔ میری گزارش ہے کہ بی بی سی کی غیر جانبداری کی روایت کو قائم رکھا جائے۔

نعیم چوہری، کینیڈا:
کینیڈا اور امریکہ میں بی بی سی، جیو اور اے آر وائی ہی زلزلے کی خبروں کے ذریعے ہیں کیونکہ امریکی اور کینیڈین میڈیا تو کچھ بھی نہیں دکھا رہا۔

فائزہ وسیم، امریکہ:
آپ ٹھیک کام کر رہے ہیں لیکن جیسا کہ میری بہن کہتی ہیں کہ میڈیا وہ بیان نہیں کر سکتا جو لوگوں پر گزر رہی ہے۔ ایک تصویر لوگوں کی حالت کا مکمل احاطہ نہیں کر سکتی۔ میرا خیال ہے میڈیا پوری کوشش کر رہا ہے لیکن بی بی سی فوج پر تنقید ہی کرتی رہی ہے۔ ہاں بی بی سی کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ میں تنقید تو کر رہی ہوں آپ پر لیکن یہ بھی مسئلے کا حل تو نہیں ہے۔

میرا خاندان سن سینتالیس میں بہت کرب سے گزرا تھا۔ میرے دادا اور میرے انکل مارے گئے تھے جبکہ میرے والد اور ان کی بہن بری طرح زخمی ہوئے۔ میرے والد اپنے آخری سانس تک اس سانحے کو نہیں بھلا پائے بلکہ میں تو کہوں گی ان کا دکھ ان کی تمام اولاد میں منتقل ہو گیا ہے۔

مجھے نہیں پتا اس سانحے کے شکار لوگ آنے والے سالوں میں اسے بھول پائیں گے۔ یہ ایک عظیم سانحہ ہے ان کے لیے جو زندہ بچ گئے۔ ان کے لیے ہمیں امید کی شمع جلائے رکھنا ہے۔

متاثرین کے انٹرویو
 انہیں چاہیے کہ گاؤں گاؤں جا کر متاثرین کے انٹرویوں کریں تا کہ وطن سے دور کشمیریوں کو بھی اصل حالات کا اندازہ ہو۔
خواجہ کبیراحمد بانڈے

خواجہ کبیر احمد بانڈے، بلجیم:
بی بی سی کا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ بلکہ انہیں چاہیے کہ گاؤں گاؤں جا کر متاثرین کے انٹرویوں کریں تا کہ وطن سے دور کشمیریوں کو بھی اصل حالات کا اندازہ ہو۔

اکرام بشیر، کینیڈا:
اللہ آپ کو اس انسانی خدمت کا اجر دے۔

عقیل اکرم، کینیڈا:
میڈیا کا کردار زبر دست رہا ہے کیونکہ میڈیا کی وجہ سے ان علاقوں میں امداد پہنچی جہاں شاید کبھی نہ پہنچتی۔

سجاد رضوی، نارفوک، امریکہ:
میڈیا نے کوئی مثبت رول ادا نہیں کیا۔ بس پریشانی ہی پھیلی ہے۔ اگر آپ بی بی سی کو ہی دیکھ لیں تو ایسا لگتا ہے کوئی اپوزیشن کا آدمی بول رہا ہے۔ مجھے تو بی بی سی مشرف، پاکستان، حکومت پاکستان اور آرمی کی مخالف نظر آتی ہے۔ حسرت ہی رہی کہ بی بی سی کی ویب سائٹ پر کسی کی تعریف سنوں۔ مجھے لگتا ہے کہ میرا نقطہ نظر شائع نہیں ہو گا۔

ساجد شاہ، بلفاسٹ، برطانیہ:
بہت شاندار رپورٹنگ تھی میڈیا کی۔ میڈیا کی کوریج کی وجہ سے امدادی کارروائیاں منظم ہو رہی ہیں۔ براہ مہربانی یہ جاری رکھیں۔

محمد منصف خان، لائبیریا:
میرا خیال ہے اسے جاری رکھیں کیونکہ بے یارومددگار متاثرین کے لیے میڈیا کی کوریج بہت مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

سید زیدی، امریکہ:
سی این این کو تو جیسے یاد ہی نہیں کہ اتنا بڑا زلزلہ آیا تھا۔مسلمانوں سے دشمنی اپنی جگہ لیکن انسانیت تو نہیں چھوڑنی چاہیے۔ کینیڈا کے چینل چودہ نے بہت پر اثر پروگرام پیش کیا تھا امداد اکٹھا کرنے کی غرض سے۔ دعا ہے کہ امداد متاثرین تک پہنچ جائے۔

کریم خان، کینیڈا:
لوگ بی بی سی کو سنتے اور دیکھتے ہی نہیں بلکہ اعتبار بھی کرتے ہیں۔ گزارش ہے کہ اس مصیبت کے وقت میں زلزلہ زدگان کی مدد سے ہاتھ نہ کھینچیں۔

چوہدری عظمت،گوجرانوالہ:
یہ کوریج برقرار رہنی چاہیے بلکہ مزید ہونی چاہیے تاکہ بین الاقوامی امداد بڑھ سکے اور لوگوں کی تکالیف کم ہوں۔

محمد صدیق، امریکہ:
بہت اچھی ہے مگر صرف بی بی سی اور پاکستانی میڈیا پر۔

چاپلوس خبریں
 بی بی سی اردو کے لوگ صرف وہ بات لکھ اور بتا رہے ہیں جس سے چاپلوسی کی بُو آتی ہے۔ بی بی سی اب پی ٹی وی کا بھائی بنتا نظر آرہا ہے۔
چاند بٹ، جرمنی

چاند بٹ، جرمنی:
سب سے زبردست کردار پاکستان کے سرکاری ٹی وی کا ہے جو متواتر صدر پاکستان کے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے لوگوں کا شجر نصب بتاتا رہا لیکن عوامی جذبات کی ترجمانی کا کام کا سرے سے پتا ہی نہیں۔ یہ وہ میڈیا ہے جو عوام کے خون پر چلتا ہے اور عوام ہی کو دھوکا دیتا ہے۔ صرف جیو ہی عوام کو اصلی حال دکھا رہا ہے مگر وہ بھی پرائم منسٹر ہاؤس کے اردگرد کا حال دکھا کر ہی کام چلا رہے ہیں۔ باقی پاکستانی چینل چندہ لے کر دعا مانگ رہے ہیں۔

بی بی سی اردو کے لوگ صرف وہ بات لکھ اور بتا رہے ہیں جس سے چاپلوسی کی بُو آتی ہے۔ بی بی سی اب پی ٹی وی کا بھائی بنتا نظر آرہا ہے۔ سار کا سارا میڈیا ڈرپوک ہے۔

امجد جمیل، لاہور:
بلاشبہ یہ میڈیا ہی تھا جس نے دنیا تک اس تباہی کی تفصیلات پہنچائیں ورنہ حکومتی مشینری تو سوئی پڑی تھی۔ جنرل صاحب کو بھی اسی وجہ سے ٹی وی پر آ آ کر معذرت کرنا پڑی۔ بی بی سی کو شاباش جوالائی جیسے علاقے میں رُک کر رپورٹنگ کر رہے ہیں اور متاثرین کے حالات ہم تک پہنچا رہا ہے۔

عون علی، لاہور:
کچھ لوگ تنقید کر رہے ہیں کہ پاکستانی میڈیا نے مرنے والوں کی تصاویر کیوں دکھائیں لیکن تمام لوگ غیر ملکی میڈیا کی تعریف کر رہے ہیں۔ سچ ہے کہ اگر میڈیا نہ ہوتا تو ہم تک کبھی بھی حقائق نہ پہنچتے۔ میڈیا کو اتنا ہی ہوشیار اور ذمہ دار ہونا چاہیے جس کا مظاہرہ اُس نے اس دفعہ کیا ہے۔

عبدالمجید قریشی، ایبٹ آباد:
ویسے بی بی سی اردو کی سروس بہت اچھی ہے لیکن مزید کوشش کرنی چاہیے خاص طور جھوٹی افواہوں کی تردید کا بھی کچھ بندوبست ہونا چاہیے کیونکہ اس کی وجہ سے لوگوں میں بہت بے چینی پھیل جاتی ہے۔لوگ جیو چینل کے حوالے سے بتاتے پھر رہے ہیں کہ فلاں تاریخ کو پھر زلزلہ آئے گا۔ براہ مہربانی آپ اس قسم کی افواہوں کو ختم کرنے کے لیے اپنے وسائل کام لائیں۔

آصف محمود میاں، لاہور:
میڈیا نہ صرف متاثرین کے جذبات کی ترجمانی کر رہا ہے بلکہ عوام کی بھی ترجمانی کر رہا ہے۔ بی بی سی اردو جتنا جلدی ہو سکے دوسری خبروں کو بھی جگہ دے۔ باقی دنیا کو یہی کہنا ہے کہ جاگتے رہنے حکومت پر نہ رہنا کیونکہ اُن کے وسائل بہت کم ہیں۔

احمد عبداللہ، اسلام آباد:
این جی اوز کی امدادی کارروائیوں کی کوریج مناسب نہیں۔ اسے بہتر کرنے کی کوشش کریں۔

وقاص احمد، لاہور:
میرے خیال میں کوریج کچھ خاص نہیں ہے۔

عمر خان، فلیڈیلفیا، امریکہ:
آج تک جو دنیا بھر سے اور خاص طور پر امریکہ میں رہنے والے پاکستانیوں نے دل کھول کر عطیات صدر کے فنڈ اور دوسرے اداروں کو دیے ہیں، یہ سب میڈیا کا کمال ہے جس نے دن رات محنت کی اور تازہ ترین صورت حال سے سب کو باخبر رکھا۔

سحر نایاب، کینیڈا:
پاکستنی میڈیا حکومت کے ڈر سے کچھ بھی صحیح طرح نہیں پیش کرتا اور سی این این اور دیگر امریکی چینل اس سانحے کو چھوٹا سمجھ کر بھولتے جا رہے ہیں۔ بی بی سی پر کوریج کو جاری رکھنا چاہیے یہ ہمارے لیے تازہ ترین خبروں کا واحد ذریعہ ہے۔

ندیم رحمٰن ملک، پاکستان:
میں زلزلے کے پہلے دن سے ایک اردو سروس میں کالم لکھ رہا ہوں لیکن صحیح بات ہے کہ جو کوریج بی بی سی اردو کی وہ کسی اور کی نہیں البتہ بعض مضامین مسلسل دھرائے جا رہے ہیں جو نہیں ہونا چاہیے۔

آصف ملک، پیرس:
مجھے خوشی ہے کہ آپ ہر متاثرہ جگہ تک پہنچے اور متاثرین کی آواز لوگوں تک پہنچائی۔ امید ہے آپ نے جو کام شروع کیا ہے، جاری رکھیں گے۔

افتخار احمد، ناگری بالا گاؤں، پاکستان:
آپ نے درست کام کیا، اسے جاری رکھیں۔

میرے احساسات
 سرکار کی کوششوں پر تنقید کا حق آپ کو حاصل ہے لیکن کسی بھی صحافی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایک پوری قوم اور مصیبت میں مبتلا متاثرین کا مذاق اڑائے اور میں آپ کے ایسے تمام فیچرز کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔
طارق عباسی، کراچی

طارق عباسی، کراچی:
میڈیا نے بہت کچھ کیا ہے اور دنیا کی توجہ تباہی کے اتنے بڑے پھیلاؤ کی طرف مبذول کروائی ہے جس پر سرکار پردہ ڈالنا چاہ رہی تھی۔ تاہم میں آپ کی توجہ ایک اہم امر کی طرف بھی دلوانا چاہتا ہوں۔ سرکار کی کوششوں پر تنقید کا حق آپ کو حاصل ہے لیکن کسی بھی صحافی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایک پوری قوم اور مصیبت میں مبتلا متاثرین کا مذاق اڑائے اور میں آپ کے ایسے تمام فیچرز کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ یہ رائے نہیں شائع کریں گے لیکن میرے لئے اپنے احساسات پہنچانے ضروری ہیں۔

ثاقب رضوان شاہ، میانوالی:
بی بی سی ریڈیو اور بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی کوششیں قابلِ تعریف ہیں کہ میری بی بی سی سے یہ توقع ہے کہ وہ سو فیصد سچ سامنے لائیں گے۔

کامران سعید، سعودی عرب:
زلزلے کے متاثرین پر کوریج بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ ابھی تک ہزاروں لوگ بغیر خیموں، ادویات، غذا اور طبی اور دیگر امداد کے بغیر وہاں پڑے ہیں۔ خدارا انہیں بھولئے گا نہیں اور اس کام کو جاری رکھئے۔

اسلم شاہین اعوان، مانسہرہ:
دوسرے عالمی میڈیاز کا رویہ اس زلزلے پر انتہائی منفی ہے اور اب یہ خبروں سے غائب ہوچکا ہے تاہم بی بی سی مقامی میڈیا سے بھی بہتر طور پر یہ کوریج کر رہی ہے۔ اس کوریج کو بڑھانا چاہئے، یہ یقیناً متاثرین کی مدد بھی ہوگی اور دوسرے میڈیا کے چہرے سے نقاب ہٹانے کا کام بھی کرے گی۔

انجم ملک، جرمنی:
بی بی سی وہ واحد ادارہ ہے جسے پاکستانی سرکار ڈرا یا دھمکا نہیں سکتی۔ لوگوں کو جو آزادیِ تحریر کہیں بھی میسر نہیں۔ یہی بی بی سی کی مقبولیت کا راز ہے۔

صابر خٹک، کوہاٹ:
زلزلے کے سترہ دن بعد باقی میڈیا والے تو خاموش ہوگئے ہیں مگر بی بی سی اردو اور چند مقامی ٹیوی چینل شانہ بشانہ چل رہے ہیں۔ بہت بہتر ہوگا اگر آپ اس کی کوریج جاری رکھیں۔

ہارون رشید، سیالکوٹ:
یہ آزاد میڈیا ہی تھا جس نے پوری دنیا کو اس سانحے کی اصل حقیقت سے آگاہ کیا ورنہ پاکستان کا سرکاری چینل تو اسے معمولی زلزلہ قرار دے رہا تھا اور صرف این ڈبلیو ایف پی کا نام لیاگیا۔ میڈیا نے تو اپنا کردار ادا کردیا لیکن شاید دنیا وہ کردار ادا نہیں کر سکی جو اسے کرنا چاہئے تھا۔

آصف ججہ، ٹورنٹو:
بی بی سی نے اسے اچھی طرح کور کیا اور دنیا اور حکومت کو جگانے کی کوشش کی۔

امجد علی اعوان، راوالپنڈی:
میڈیا اس سانحے اور حاص طور پر امدادی کاموں کی اصل حقیقت سے پردہ اٹھانے میں ناکام رہا کہ طاقتور لوگ امداد کا اصل حصہ لے گئے اور غریب دیکھتے رہ گئے۔

نصیر عباسی، اسلام آباد:
بہت سے علاقے ابھی تک امداد سے محروم ہیں۔ بی بی سی کے نمائندوں کو ان کی آواز امیر حکومتوں، خاص طور پر یورپ اور امریکہ میں موجود پاکستانیوں تک ضرور پہنچانی چاہیے۔

جواد یونس، پنجاب یونیورسٹی، لاہور:
بی بی سی نے اچھی کوریج کی لیکن میرے خیال میں اس میں ابھی بھی مزید بہتری ہوسکتی ہے۔ اس کوریج کو بڑھانا چاہئے کیونکہ مقامی لوگوں کے تاثرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی تک تباہی مکمل صورت سامنے نہیں آئی۔
جاوید اقبال، برسلز:
میں تو بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے گزارش کروں گا کہ کوریج کی یہ سطح برقرار رکھیں۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو کشمیر سے دور ہیں باخبر رہنے کا یہی سب سے آسان اور بہتر طریقہ ہے۔

وہ جو ہمیں بھول گئے
 یہاں سی این این اور فوکس تو جیسے زلزلے کو بھول ہی گئے ہیں۔ کچھ پتہ نہیں چلتا کہ پاکستان میں کیا ہورہا ہے۔ ان حالات میں کوئی بھی اور خبر ان خبروں کے سامنے وزن نہیں رکھتی، اس لئے یہ کوریج برقرار رکھنی چاہئے۔
فرحان مشتاق، امریکہ

فرحان مشتاق، امریکہ:
میں بی بی سی کی کوریج سے بہت مطمئن ہوں جبکہ کوئی بھی نیوز چینل اتنی تفصیل سے خبریں نہیں پہنچا رہا۔ میں شمالی امریکہ میں رہتا ہوں اور یہاں سی این این اور فوکس تو جیسے زلزلے کو بھول ہی گئے ہیں۔ کچھ پتہ نہیں چلتا کہ پاکستان میں کیا ہورہا ہے۔ ان حالات میں کوئی بھی اور خبر ان خبروں کے سامنے وزن نہیں رکھتی، اس لئے یہ کوریج برقرار رکھنی چاہئے۔

اظہر بٹ، یو اے ای:
جی بالکل، بہت مطمئن ہیں۔ اللہ بھلا کرے میڈیا کا جنہوں نے اس خبر کو اس قدر تفصیل سے لوگوں تک پہنچایا جس سے دلوں میں اللہ کا ڈر پیدا ہوا اور متاثرین کی مدد کا جذبہ آیا۔ میری رائے میں اس کی جتنی زیادہ کوریج ہو، اتنا ہی اچھا ہے۔

محمد شاہوار، لاہور:
امدادی کاروائیاں کرنے والے کارکنوں کے بعد اس زلزلے پر سب سے زیادہ قابلِ تعریف صحافیوں کی کوششیں ہیں۔ بی بی سی کی یہ روایت رہی ہے کہ یہ بعض اوقات خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے لیکن اس زلزلے کے دوران اس نے متاثرین کے جذبات کی صحیح عکاسی، حکومتی عہدیداروں کی غفلت اور امدادی کارکنوں کا حوصلہ بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

رابعہ ارشد، ناروے:
ہم تو اس قدر دور ہیں لیکن پھر بھی بی بی سی کی وجہ سے ہم سب جان پائے ہیں۔ میں تو کہوں گی کہ اسے اور بڑھایا جائے اور حکومت کا بھانڈہ پھوڑنے کے لئے متاثرین کے زیادہ سے زیادہ انٹرویو کرنے چاہئیں۔

ذیشان افضال چوہدری، پاکستان:
اس زلزلے کی کوریج پر میڈیا کا کردار قابلِ تعریف ہے۔

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
ووٹ
403 Forbidden

Forbidden

You don't have permission to access /cgi-bin/vote.pl on this server.

نتائج عوامي رائے کي سو فيصد نمائندگي نہيں کرتے

66زلزلے پر آپکی رائے
امدادی کارروائیوں کی رفتار پر آپکا ردًِ عمل
66آپ کی رپورٹ
زلزلے کے متاثرین کن حالات میں رہ رہے ہیں؟
66زلزلہ : آپ کی رائے
کیا دنیا کو تباہی کی شدت کا صحیح اندازہ ہے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد