BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 21 February, 2005, 14:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلا (گ) کی سیاست

News image
انٹرنیٹ پر سیاست: قانونی یا غیر قانونی
انٹرنیٹ پر بلاگ لکھنے والے افراد کا ایک گروپ ان دو ایرانی بلاگرز کی رہائی کے لئے ایک تحریک کا آغاز کرہا ہے جو ایران کی جیل میں قید ہیں۔

انٹرنیٹ پر بلاگ یا ایک قسم کی ڈائری کے ذریعے دنیا بھر سے لاکھوں افراد ہر روز مختلف موضوعات پراپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ خیالات کئی ریاستوں یا گروہوں پر تنقید کے باعث تنازعات بھی پیدا کردیتے ہیں، خاص طور پر ایسے ممالک میں جہاں آزادیِ اظہار پر پابندیاں عائد ہیں یا وہ محدود ہیں۔

انٹرنیٹ خود اپنے دفاع کی کوشش
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انٹرنیٹ سے براہ راست متعلق کسی معاملے پر خود انٹرنیٹ پر ہی ایک تحریک کا آغاز ہورہا ہے۔

یوں تو بلاگ کا کلچر دیکھتے ہی دیکھتے انٹرنیٹ پر دیوانگی کی حد تک مقبول ہوگیا ہے اور ایک امریکی تحقیقی ادارے کے مطابق ہر چھ سیکنڈ بعد انٹرنیٹ پر ایک بلاگ لکھا جاتا ہے لیکن پچھلے چند ماہ سے خاص طور پر ایران سے بہت بڑی تعداد میں بلاگ لکھے جارہے ہیں۔ یہ بلاگ ایران میں جاری سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

شاید اسی لئے پچھلے چند ہفتوں سے ایران میں کئی ایسی بڑی ویب سائٹس کے خلاف کارروائی کی جارہی ہیں جس میں لوگ آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایران میں حال میں دو بلاگر مجتبٰی سمینزاد اور عرش سگارشی کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اب انٹرنیٹ پر دنیا بھر سے بلاگ لکھنے والے افراد کے ایک گروپ نے منگل بائیس فروری کو ’مجتبٰی اور عرش کی رہائی‘ کا دن بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ایک ماہ پہلے وجود میں آنے والے اس گروپ کا نام ’کمیٹی برائے تحفظِ بلاگرز‘ ہے اور یہ تمام بلاگرز سے اپیل کررہی ہے کہ بائیس فروری کے دن وہ اپنی ویب سائٹس کو مجتبٰی اور عرش کی رہائی کے لئے وقف کردیں۔

ویسے تو انٹرنیٹ کو سیاسی تحریکوں میں کارکنوں کو متحرک کرنے، فنڈز اکھٹے کرنے یا پھر سیاسی خیالات کا پرچار کرنے کے لئے بہت کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے لیکن ایک طرح سے دیکھا جائے تو یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انٹرنیٹ سے براہ راست متعلق کسی معاملے پر خود انٹرنیٹ پر ہی ایک تحریک کا آغاز ہورہا ہے۔

یعنی انٹرنیٹ کا وسیلہ پہلے آزادیِ اظہار کا ایک ایسا نیا ذریعہ بن کر سامنے آیا جس پر کسی ریاست کے قوانین یا کسی فوج کی عملداری نہیں اور جب ریاست نے اس وسیلے کو بھی زیر کرنے کی کوشش کی تو خود انٹرنیٹ سے اس کے خلاف آواز بلند ہورہی ہے۔

انٹرنیٹ اور سیاست کے اس عجیب اور دلچسپ ملاپ پر آپ کیا سوچتے ہیں؟ انٹرنیٹ کا ایک کثیر جہتی وسیلے کے طور پر ابھر کر سامنے آنا اور آزادیِ اظہار کے لئے ایک نیا ذریعہ بننا؟ آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کی نظر میں کیا مجتبٰی اور عرش ایک نئی سیاسی جنگ کے اولین سپاہی ہیں؟ کیا ریاست کو انٹرنیٹ پر قوانین لاگو کرنے کا حق ہے؟

آپ کی رائے

آپ اس مضمون پر اپنے خیالات تفصیل سے ہمیں اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhej سکتے ہیں

آصف احمد صدیقی، کراچی:
انٹرنیٹ کے مثبت استعمال سے تو کسی کو انکار نہیں ہے۔ پابندی ان چیزوں پر ہونی چاہیے جو ہماری سماجی اور مذہبی اقدار سے متصادم ہوں۔ آزادیِ اظہار کہیں سے بھی منفی نہیں۔ پریشر کوکر پر وزن رکھنے سے پریشر وقتی طور پر تو نکلنا بند ہوجاتا ہے لیکن اس کے بعد کوکر پھٹ جاتا ہے۔

فضل سبحان جان:
آزادی انسان کا بنیادی حق ہے لیکن اتنی بھی آزادی نہ ہو کہ انسان وطن، مذہب اور اپنے رسم ورواج سے بغاوت پر اتر آئے۔ آج کل جو مغرب کی زبان بولے صحیح، جو اپنی بولے غلط۔ امریکہ کے خلاف بات کرے تو دہشت گرد اور اگر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف لکھے تو ٹھیک۔ اگر کوئی ایسے لوگوں کو روکے تو آزادی آزادی کی چیخیں نکلتی ہیں۔

شہزاد ضمیر، اردن:
میری رائے میں انٹرنیٹ پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی کیونکہ آپ ایک ویب سائٹ کو بلاک کریں گے تو دس نئی ویب سائٹس کھل جائیں گی۔ انٹرنیٹ پر پابندی کا خیال ہی بچگانہ ہے۔ ویب پر جب کسی چیز پر پابندی لگتی ہے تو اتنا ہی اس کے بارے میں تجسس پیدا ہوتا ہے اور پھر لوگ اظہار کے نئے راستے ڈھونڈھ لیتے ہیں۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد:
ہم ابھی تک یہ سوچ رہے ہیں کہ کس چیز پر پابندی ہونی چاہیے، کس پر نہیں۔ اگرچہ غلط صاف نظر آتا ہے مگر ہم اس پر پابندی نہیں لگاسکتے کیونکہ اچھائی اور برائی دونوں دنیا میں موجود رہتے ہیں۔ انٹرنیٹ اب ہر رنگ و نسل کا کلچر بن گیا ہے۔ اگر ہم کسی چیز کو روکتے ہیں تو اس کے چاہنے والے اس کی گہرایی میں مزید جانے کو تیار ہوجاتے ہیں۔

یوسف، ساہیوال:
انسان لفظ ہی محبت کرنے والے کا ہے اور کوئی کسی سے اس وقت نفرت کرتا ہے جب اس کا حق مارا جائے: قصہ ہے کہ ایک بادشاہ کی حجامت بناتے ہوئے نائی نے کیا دیکھا کہ بادشاہ کے سر میں سینگ ہیں۔ اس نے یہ بات بادشاہ کو بتائی تو بادشاہ نے کہا کہ اگر تم نے یہ بات کسی کو بتائی تو تمہارا سر قلم کردیا جائے گا۔ نائی نے یہ بات کچھ عرصہ تک تو راز رکھی لیکن اس کا پیٹ ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ جب اس کی طبیعت خراب ہونے لگی تو اس کی بیوی نے کہا کہ تم جنگل میں جاکر یہ بات کسی درخت کو سنا آؤ۔ نائی نے ایسا ہی کیا لیکن جنگل میں کٹائی ہورہی تھی۔ اس درخت کو کاٹ کر اس کے ساز بنائے گئے۔ جب یہ ساز بادشاہ کے دربار میں بجے تو وہی صدا نکلی کہ بادشاہ کے تو سر پر سینگ ہیں۔ بادشاہ نے نائی کوبلوا کر اس کا سر قلم کردیا۔ بات یہ ہے کہ اگر ایک نہ بولا تو وہی بات کوئی اور کہہ دے گا۔ بات کہنے کا سب کو حق ہونا چاہیے۔

محمد سہیل، بدایوں، انڈیا:
انٹرنیٹ اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اس پر پابندی کچھ سمجھ نہیں آتی۔ ہاں بیہودہ مواد پر پابندی ہونی چاہیے۔ ایرانی حکومت کو چاہیے کہ وہ عام آدمی کو نہ صرف اپنی بات کہنے کا حق دے بلکہ ان کی بات سن کر ان تکالیف دور کرے۔ اس سے صرف ایرانی حکومت کی بدنامی ہوگی اور یہی امریکہ چاہتا ہے۔ اگرچہ باقی ممالک میں بھی عام آدمی کی آواز کو دبایا جاتا ہے لیکن اگر یہ مسلمان ممالک میں ہو تو اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جن سے دنیا بھر میں ان کی ساکھ گر رہی ہے۔

انکار کی آزادی
 اللہ نے انسان کو اس حد تک آزاد مخلوق پیدا کیا ہے کہ وہ چاہے تو اللہ کی ذات سے بھی انکار کردے۔ اس آزادی کا تقاضا ہے کہ انسان کو دوسروں کی آزادی کا احترام کرتے ہوئے آزادی کے ساتھ اپنی بات کہنے کا پورا پورا حق حاصل ہو۔
افضال احمد، جہلم

افضال احمد، جہلم:
اللہ نے انسان کو اس حد تک آزاد مخلوق پیدا کیا ہے کہ وہ چاہے تو اللہ کی ذات سے بھی انکار کردے۔ اس آزادی کا تقاضا ہے کہ انسان کو دوسروں کی آزادی کا احترام کرتے ہوئے آزادی کے ساتھ اپنی بات کہنے کا پورا پورا حق حاصل ہو۔ جب بھی انسان کے اس بنیادی حق کو کسی آمر نے غصب کرنے کی تو انسان کی اس بنیادی فطرت نے اسے مجبور کردیا کہ وہ پابندی کی تمام زنجیروں کو توڑ کر اپنی بات کہنے کا حق حاصل کرے۔ اگر انسان کو بات کہنے کی آزادی حاصل نہ ہو تو وہ گھٹ کر مر جائے گا کیونک یہ اس کی فطرت ہی کے خلاف ہے۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
انسان کو اظہارِ رائے کی آزادی ملنی ہی چاہیے اور میں اس میڈیا کی وساطت سے عرش اور مجتبیٰ کی رہائی کی پرزور اپیل کروں گی۔ ہمیں ان بلاگر ز کی مدد کرنی چاہیے لیکن ہم کیا کسی کی مدد کرسکتے ہیں کہ ہمارے بلاگرز تو خود خاموش ہیں یا کردیئے گئے ہیں۔ ہمارے بلاگ لکھنے والو، بھائی کچھ نہیں کہے گا کوئی آپ کو، واپس آجاؤ۔

جبار عارف محمد عارف، دھوڑو نارو سندھ:
اپنے خیالات کا اظہار کرنا ہر انسان کا بنیادی اور جمہوری حق ہے۔ میں مجتبیٰ سمینزاد اور عرش سگارشی کی رہائی کے حق میں ہیں۔ انٹرنیٹ اب دنیا میں انقلاب لانے میں اہم کردار ادا کرےگا۔ اس انٹرنیٹ کی جنگ کے یہ دونوں اولین ہیرو ہیں، انٹرنیٹ پر سیاسی اظہار کا راستہ دکھاکر انہوں نے بڑا کام کیا ہے۔ یہ ایک اچھے عمل کا آغاز ہے۔

یاسر جادون، ڈنمارک:
ایرانی حکومت کو چاہئے کہ اتنا شور مچا مچا کہ بلاگ پر پابندی لگانے کی بجائے خاموشی سے بلاگرز کو خاموش کردے، بالکل ویسے ہی جیسے بی بی سی والوں نے کیا ہے: دعوتِ بلاگ تو ہے مگر بلاگ نہیں! (ہم بلاگ کی پابندی سے اشاعت کی کوششیں کررہے ہیں، تاخیر کے لئے معذرت: ایڈیٹر)

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی نئی پیشکش ’بلاگ‘بلاگ۔۔۔۔
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی نئی پیشکش
بلاگ کی کامیابی
امریکی عوام میں بلاگ کی مقبولیت
مقبول ترین لفظ
’بلاگ‘ 2004 کا مقبول ترین لفظ
خلیجِ فارسگوُگل بمباری
خلیج فارس کو خلیج عرب نہ کہیں: ایران
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد