 |  جنرل مشرف کی ویب سائٹ |
پاکستان بھر میں گزشتہ پیر کی شب سے انٹرنیٹ اور بین الاقوامی ٹیلی فون سروس بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کے انجینئروں کے مطابق زیرِ سمندر انٹرنیٹ کے فائبر لِنک میں فنی خرابی ٹیلی مواصلات میں بڑے پیمانے پر تعطل کی وجہ ہے۔ پاکستان کے سرکاری ٹیلی مواصلات ادارے پی ٹی سی ایل کے سربراہ جنید خان کا کہنا ہے کہ زیرِ سمندر انٹرنیٹ کے فائبر لِنک میں فنی خرابی کی وجہ سے انٹرنیٹ اور بین الاقوامی ٹیلی فون سروس میں تعطل کو دور کرنے میں مزید تین سے چار دن لگیں گے کیونکہ اس خرابی کو دور کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات سے آنے والے بحری جہاز کو سمندر میں طوفان کی وجہ سے تاخیر ہو گئی ہے۔ انٹرنیٹ سروس میں تعطل کے سبب جہاں عام انٹرنیٹ صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے وہیں اس ٹیکنالوجی کی مرہونِ منت کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تنظیم اسپاک کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی پچاس کے لگ بھگ کمپنیوں کو روزآنہ ایک کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسوسی ایشن آف کال سینٹر آپریٹرز نے انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ کی ایک کمپنی بھارت میں اپنا کاروبار سمیٹ کر پاکستان میں سالانہ دس ملین ڈالرز کامعاہدہ کرنے والی تھی مگر بدھ کو انہیں مطلع کیا گیا ہے کہ پاکستان کے انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کی خبر کے بعد کمپنی نے اپنے فیصلہ پر نظرِثانی کر لی ہے۔ آپ پاکستان میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کی وجہ سے کیسے متاثر ہوئے ہیں؟ آپ کی نظر میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے کیا اثرات ہوسکتے ہیں، پاکستان پر یا دیگر دنیا پر؟ اگر یہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ امریکہ میں ہوا ہوتا جہاں ہر کام انٹرنیٹ کے مرہون منت ہے، تو اس کا کیا اثر ہوتا؟ آپ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟ آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں
طاہر چودھری، جاپان: انٹرنیٹ بھی کرکٹ کی طرح پاکستان میں مقبول ہوگیا ہے۔ ظاہر ہے حال بھی پاکستانی ٹیم جیسا ہوگا۔۔۔۔ سید یاسر علی گیلانی، لاہور: یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ خود بھی میرا تعلق الیکٹریکل انجینیئرنگ سے ہے اور میرے دوست احباب سبھی انٹرنیٹ کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ بیرون ملک فون کا بھی مسئلہ ہوا ہے۔ پہلی دفعہ پاکستان میں احساس کمتری ہوا ہے! قاسم محمد، ملتان: اگر یہ پرابلم امریکہ میں ہوا ہوتا تو دو گھنٹوں کے اندر امریکہ کے صدر پریس کانفرنس کال کرلیتے۔ کیوں کہ وہاں بزنس ورلڈ میں انٹرنیٹ ریڈ بلڈ سیل کی طرح ہے۔ اور پھر انہوں نے کہنا تھا کہ: ’امریکیوں پر پھر اسامہ کا حملہ ہوا ہے، اسامہ آپ کو نہیں چھوڑے گا!‘ لیکن پاکستان جیسے ملک میں ماسیز کو یہ معلوم بھی نہیں کہ انٹرنیٹ کا صحیح استعمال کیا ہے۔۔۔ ساجل احمد، لاس ویگاس: ارے بھئی پاکستان میں کمپنیز میں زیادہ سے زیادہ نقصان ہورہا ہوگا انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا۔ باقی رہی بات دوسرے لوگوں کی تو ان کو چیٹنگ پر آکر لڑنے کا موقع نہیں مل رہا ہوگا۔ پاکستان میں جو ریلیٹیوز ہیں ان سے تو فون پر آرام سے بات ہوجاتی ہے ۔ لوگ کمپیوٹر تو بس چیٹنگ کے لئے یوز کرتے ہیں۔ معلوماتی پروگرام کے لئے کون یوز کرتا ہے؟۔۔۔۔ محمد علی، لاہور: حادثے ہوتے رہتے ہیں۔ وہ ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔ لیکن بیوقوف لوگ کچھ سیکھتے نہیں۔ پاکستان میں ایسا پہلے بھی ہوا ہے۔ اب پھر ہوا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسا پھر سے ہوگا۔۔۔ خیستہ خان، کیلیفورنیا: یورپ امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک انٹرنیٹ کے ذریعے اپنا تجارتی اور مالی لین دین کرتے ہیں۔ اب تو ہم جیسے ترقی پزیر ملک بھی نیٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ حالیہ بلیک آؤٹ سے پاکستان کے تجارتی ساکھ کو بڑا دھچکا پہنچا ہے کیوں کہ ہمارا نیٹ سیسٹم قابل اعتبار نہیں رہا۔ اس سے پاکستان کو اربوں کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ یہ ہمارے لیڈرشِپ کے لئے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ تکلم بیگ، ٹورانٹو: جب انسان ایک سہولت کا عادی ہوجاتا ہے تو پھر اس سہولت کی محرومی سے اس کا متاثر ہونا لازمی ہے۔ پاکستان میں اس وقت انٹرنیٹ ابتدائی دور میں ہے جس میں اس قسم کے حادثات کا ہمیشہ اندیشہ رہتا ہے۔ امریکہ بھی خدا کی بنائی ہوئی دنیا کا ایک حصہ ہے، وہاں بھی آئے دن اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ پینٹاگن، ایف بی آئی اور ناسا کے کمپیوٹر بھی ان مسائل سے دوچار رہتے ہیں۔ چودہ اگست دو ہزار تین کا دن کوئی کیسے بھول سکتا ہے جب امریکہ اور کینیڈا کے بیشتر شہر تین دن تک تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ لوگوں نے فائبر لِنک کیبل کو تھامنے کے بجائے اگر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھاما ہوتا تو آج ہماری یہ حالت نہ ہوتی۔۔۔ محمد طارق، کینیڈا: ٹیکنیکل پرابلم کہیں بھی اور کسی بھی وجہ سے ہوسکتا ہے، جس طرح ایک سال پہلے کینیڈا میں بجلی فیل ہوگئی تھی۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس سے سبق سیکھا جائے اور آئندہ کے لئے اس طرح پلاننگ کی جائے کے یہ مسئلہ نہ ہو۔ مطیع اللہ حبیبانی، بدین: پاکستان میں انٹرنیٹ کے بلیک آؤٹ ہونے کی وجہ سے آئی ٹی انسٹی ٹیوٹ اور ان تمام لوگوں کو سخت دشواری کا سامنا ہوا ہے جو انٹرنیٹ سے وابستہ ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر اسی قسم کے واقعات ہوتے رہے تو پاکستان میں آئی ٹی کو بڑا نقصان پہنچے گا۔ اسی لئے پاکستان گورنمنٹ کو ایسے انتظامات کرنے چاہئیں کہ آئندہ ایسے کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جاسکے۔ عقیل سید، بھکر: ماضی میں پاکستان میں آئی ایس پیز نے ریڈنڈنٹ سیٹلائٹ کنیکشن کا استعمال ٹووے بینڈوِتھ کے لئے رکھا تھا۔ جب پی ٹی سی ایل اور گوپ نے پاکستان انٹرنیٹ ایکسچنج میں پیسہ انویسٹ کیا تو انہیں افسوس ہوا کہ آئی ایس پیز ایکسچنج کا استعمال نہیں کررہے تھے۔ اس لئے پاکستانی حکومت کی مدد سے پی ٹی سی ایل نے ایک قانون پر عمل کرائی جس کے تحت آئی ایس پیز کو ایکسنج کا استعمال اپلوڈ اسٹریم کے لئے اور اپنے سیٹلائٹ کا استعمال ڈاؤن اسٹریم کے لئے کرنا پڑا۔ اس قانون کی وجہ سے اور سیموے کیبل سیسٹم نے پاکستان کے مکمل انٹرنیٹ نظام کو ایک سنگل پوائنٹ آف فیلیور پر قائم کردیا۔ پی ٹی سی ایل کا اسمارٹ قدم؟ عبدالرحمان اورکزئی، دوحہ: ابھی تو زیادہ نقصان شاید نہ ہوا۔ مگر آئندہ کے لئے کچھ مناسب بندوبست کرنا چاہئے۔ محمد احمد مفتی، اونٹاریو: میرے خیال میں اس واقعے سے حکمرانوں کے گوڈ گورنینس کے دعوے کی قلعی کھل گئی ہے۔ حکومت کو دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے مواصلات کا ایک متوازی انتظام رکھنا چاہئے تھا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے محمکے نے کچھ عرصے پہلے فلیگ نام کے متوازی نظام مواصلات کا دعویٰ کیا تھا مگر اب یہ پتہ چلا ہے کہ یہ نظام اس کیبل کے ذریعے ہی تھا۔ جس ملک میں کوٹہ سیسٹم کے ذریعے لائق لوگوں کو ہر میدان میں باہر رکھا جاتا ہو وہاں یہ تو ایک معمولی واقعہ ہے۔ سجاد خان، یو اے ای: میرا دفتر پاکستان سے انٹرنیٹ کے ذریعے کام کرتا ہے، اس لئے میں کافی اپ سیٹ ہوں۔ آصف محمود، اسلام آباد: در اصل ہم پاکستانی عوام مختلف اشیاء کے شارٹیج کے کچھ اس طرح عادی ہوگئے ہیں کہ جب ہمیں کسی چیز کی شارٹیج کی اطلاع ملتی ہے تو وہ اب ہمیں ایک روٹین میٹر محسوس ہوتا ہے۔ اس نیٹ بلیک آؤٹ کی حیثیت بھی میرے لئے اس سے کچھ زیادہ نہیں ہے۔۔۔۔ فواد فراز، نیوجرسی: لوگ سمجھ رہے ہیں کہ پاکستان ایک بیک وارڈ ملک ہے، جہاں لوگ روٹی، کپڑے اور مکان کو ترستے ہیں۔ حالانکہ آج کا پاکستان انٹرنیٹ کو ترس رہا ہے۔ مجھے اپنے پاکستانی ہونے پر فخر سا ہورہا ہے آج۔ افشین علی، کراچی: میرے خیال سے یہ پاکستان کا پہلا مسئلہ ہے جس پے سارا ملک متحد نظر آرہا ہے۔ اللہ یہ اتحاد قائم رکھے۔ ریاض فاروقی، دوبئی: انٹرنیٹ چار پانچ دن سے کام نہیں کررہا ہے پاکستان میں اس کے کچھ فوری نقصانات ہیں جن کا تخمینہ لگایا جاسکتا ہے لیکن جو دور رس نقصانات ہیں وہ فوری نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں اور جن کا تخمینہ بھی ممکن نہیں ہے۔ مجھ کو اس کی کڑی اس واقعے سے ملتی نظر آرہی ہے جو انڈین کال سینٹر نے اپنی انفارمیشن مختلف کمپنیوں کو بیچی ہیں اور بہت ساری انٹرنیشنل کمپنیاں اپنے کال سنٹر سے منسلک بزنس پاکستان میں شِفت کرنا چاہتی ہیں۔ ناصر سعید، مانسہرہ: میں ایک ہی بات کروں گا، اگر کوئی بھی مسئلہ ہو چاہے نیٹ کا ہو یا اور کوئی، بس کیا حال ہوگا بتائیں نہیں۔۔۔ احتشام فیصل چودھری، شارجہ: وقت کے ساتھ بہت ساری کمپنیاں اپنا کاروبار انٹرنیٹ سے کرنا شروع کررہی ہیں۔ ان حالات میں پورے ملک کا کاروبار ایک کیبل کے حوالے کر دینا مناسب نہ ہوگا۔ پاکستان کو اپنے سیٹلائٹ جلد از جلد بناکر روانہ کرنے ہوں گے اور کیبل پر دارو مدار کم سے کم کرنا ہوگا۔ فرحان قاضی، ٹورانٹو: ہمارے پورے ملک کا کمیونیکیشن ایک کیبل پر مبنی ہے جو سیف نہیں ہے۔۔۔۔ فرخ سلیم عالمگیر: یہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا ڈیزاسٹر ہے۔ ایک ٹیکنالوجِسٹ کی حیثیت سے مجھے کہنا پڑتا ہے کہ پی ٹی سی ایل کو بیک اپ روٹس ہر وقت اپنے بیک اپ پاکٹ میں رکھنا چاہئے۔ پاکستان اب ویب پر مبنی زندگی میں داخل ہورہا ہے، اور انٹرنیٹ اس لائف اسٹائل میں اہم ہوگا۔۔۔۔ فرید اللہ، مردان: بس یہی کمی رہ گئی تھی جو زیرزمین کیبل نے پوری کی۔ نوید شہزاد، جدہ: ساری دنیا سے رابطہ منقطع ہونے والی کیبل ٹھیک نہیں ہوپارہی اور جھوٹ بول بول کر ساری نیشن کو بیوقوف بنایا جارہا ہے۔ بس تین دن بس دو دن، اور دوسری کیبل جو کہ ایمرجنسی بیسِس پر ڈالی بھی نہیں جارہی، جو کہ اکتوبر نومبر تک کمپلیٹ ہونی ہے، اس کو کتنا ٹائم لگے گا اور کیا پتہ وہ دوسری کیبل ویسے بھی فائبر آپٹِک نہیں بلکہ ڈنگ ٹپاؤ کیبل۔۔۔ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا! عامر خان، لاہور: میرے خیال میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ سے واضح ہے کہ کمیونیکیشن بیک اپ نہیں ہے۔۔۔۔ یاسر ایاز، بورے والا: ویل اس طرح سے تو گورنمنٹ کو لاس ہوتا ہے، نہ کہ نیٹ یوزرس کو ۔۔۔ اگر دیکھا جائے تو اچھا ہی ہے کہ کچھ دیر کے لئے سروس بہتر ہوجائےگی۔ اور ہاں یہ کافی اچھی بات ہوگی اگر ساتھ میں بلو سائٹس کے بارے میں بھی گورنمنٹ کوئی ایکشن لی جو کہ بری طرح سے پھیل رہے ہیں۔ او کے۔ نعیم سرور، الخبر: حیرانی کی بات ہے کہ پانچ یوزرس کا انفراسٹرکچر چلاتے ہیں اور ہمارے پاس ڈی آر پی یعنی ڈئزاسٹر ریکوری پلان کی بائبل موجود ہے اور پی ٹی سی ایل والے ملین یوزرس کو سروس دے رہے ہیں اور ان کے پاس ڈی آر پی نام کی کوئی چیز نہیں ۔۔۔۔ نیاز ہدیٰ، شیکاگو: کمیونیکیشن منسٹر، وزارت کے سیکرٹری، پی ٹی سی ایل کے چیئرمین اور اس بلیک آؤٹ سے متعلق تمام بڑے بیوروکریٹ کو ہٹایا جائے۔ ان میں سے کچھ ریٹائرڈ آرمی افسر بھی ہوسکتے ہیں۔ تاہم میں گارنٹی دیتا ہوں کہ ان میں سے کوئی بھی استعفیٰ نہیں دے گا۔۔۔ صالح محمد، راولپنڈی: انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے اس انسیڈینٹ سے یہ پتہ لگ گیا ہے کہ پاکستان کی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کس قدر قابل پیوپل کے ہاتھوں میں ہے۔ غضب خدا کا، ایک بیسِک کام، بیک اپ، بھی نہیں کرسکتے۔ چار دن تو کیا، دو گھنٹے کا بلیک آؤٹھ بھی کروڑوں، اربوں کا نقصان ہے، یہ تو چار دن سے بھی زیادہ ہوگئے۔ جنید خان صاحب نے اب تک ریزائین کیوں نہیں کیا؟ عمران حیدر بھٹی، لاہور: یہ کام پاکستان کی ہِسٹری کا برا ترین کام ہے۔ ہم لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ آنے والے وقت میں کیا ہوگا۔ چاند بٹ، جرمنی: یہ پاکستان جیسے ملک میں ہی ہوسکتا ہے۔ کسی دوسرے ملک میں ایسا ہوتا تو اربوں روپئے کے کیس رجسٹر ہوچکے ہوتے۔ نیوز کی پہلی خبر یہی ہوتی۔ اخباروں کی ہیڈلائن یہی ہوتی۔ لوگ نا اہلوں کے خلاف چیخ رہے ہوتے۔ حکومت لمحے لمحے کو حالات کی رپورٹ جاری کررہے ہوتے۔ تحقیقاتی کمیشن بیٹھ چکی ہوتی۔ پارلیمنٹرین شور کررہے ہوتے، کتنے انجینیئر نکالے جاچکے ہوتے۔۔۔۔ محمد یاسین، فیصل آباد: یہ مسئلہ تشویش کی باعث ہے۔ حکومت ِ پاکستان کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں روزانہ ملین اور بلین کا نقصان ہورہا ہے۔ ای کمرس، بینکِنگ سیکٹر، اور افراد بھی متاثر ہوئے ہیں۔ عثمان نعیم، لاہور: میں صرف اتنا کہوں گا کہ اس مسئلے کو جلدی حل کرنا سخت ضروری ہے کیوں کہ میرے لئے میرے بھائی سے بات کرنے کا یہ واحد راستہ ہے۔ شکریہ۔ شکیل احمد چودھری، لاہور: میں ایک آئی ایس پی میں نیٹورک انچارج ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ ہمارے یوزر کافی فرسٹریٹیڈ ہوئے ہیں۔ مجھے کافی شرمندگی ہے کہ اس بارے میں وزیر، صدر یا وزیراعظم کی جانب سے اب تک کوئی بیان بھی نہیں آیا ہے کیوں کہ انہیں کوئی فکر نہیں ہے چاہے کچھ بھی غلط ہوجائے۔ انہیں صرف تیل کی قیمت اور ٹیکس بڑھانا آتا ہے۔ مجھے پاکستانی ہونے پر شرم ہے۔ ناصر سندھو، کویت: میرا خیال ہے کہ اس کا زیادہ نقصان اوورسیز پاکستانیوں کو زیادہ ہوگا جو نیٹ سے اپنی فیملیز سے سستے میں رابطہ کرلیتے تھے۔ فون بہت مہنگا ہے۔ کاشف قمر، کراچی: انٹرنیٹ بلیک آؤٹ سے پاکستان کی انٹرنیشنل مارکیٹ میں کافی بدنامی ہوئی ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ پرابلمز سے نمٹنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے، اور شِپ بھی دبئی سے آرہا ہے جس اس پرابلم کو ٹھیک کرے گا۔ محمد رحمان، کرک: انٹرنیٹ ایک سستا اور اچھا نظام ہے لیکن پی ٹی سی ایل والے بالکل نااہل اور نالائق ہیں۔ وہ ہزاروں روپئے تنخواہ لیتے ہیں اور ان کو اپنی فالٹ کا پتہ نہیں چلتا، میرا بس چلے تو میں ان سب کو ایسی سزا دوں گا کہ یہ ساری عمر یاد رکھیں گے۔ عابد عزیز ملتان: آئی ٹی منسٹر اور ان کے مشیر کو سزا ملنی چاہئے اس بلیک آؤٹ کے لئے کیوں کہ ذمہ داری ان کی ہی ہے۔ تنویر احمد ٹینی، ڈیرہ غازی خان: پی ٹی سی ایل کو بیچ دیا گیا لہذا پرانے جو اب نکالے جائیں گے انہوں نے کچھ تو گڑبڑ کرنی تھی۔ ویسے بھی ہڑتالوں سے دال نہیں گلی، اللہ کرے ٹھیک کرنے میں مزید تاخیر نہ ہو۔ منظور اجان، خیرپور: ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ابھی تک انٹرنیٹ کا صحیح استعمال اور اس سے فائدہ اٹھانا یہاں کے عام لوگوں نے نہیں سیکھا ہے۔ اور یہ بحران بھی بہت تکلیف دہ ہے۔ نامعلوم: پی ٹی سی ایل کے لئے شرم کی بات ہے۔ اس کے پاس کوئی بیک اپ سیسٹم نہیں ہے۔ علی طاہر سید، کراچی: ٹیکنیکل پرابلمز کبھی ہوجاتے ہیں، صحیح ہونے کا انتظار کرنا چاہئے۔ ہوسکتا ہے کوئی ڈِپلومیٹِک پرابلم بھی ہو کیوں کہ ابھی کچھ دنوں پہلے ہی پی ٹی سی ایل کے شیئر فروخت ہوئے ہیں۔ اقبال درویش، فرینکفرٹ: جمال ناصر نے ایک بار کہا کہ اگر آپ کو دو مچھلیاں ایک ہی سمندر میں لڑتی ہوئی دکھائی دیں، تو سمجھیں کہ یہ سی آئی اے کا کام ہے۔ اس لئے پاکستان میں جو کچھ بھی ہورہا ہے اس میں آئی ایس آئی کا ضرور ہاتھ ہے، آئی ایس آئی بھی تو سی آئی اے کی الیجٹیمیٹ چائلڈ ہے؟ احمد کبیر، اسلام آباد: انٹرنیٹ نہ ہونے پر مجھے پروین شاکر کا ایک شعر یاد آرہا ہے: تو پاس نہیں ہے تو عجب حال ہے، دل کا یوں لگتا کہ کچھ رکھ کے کہیں بھول گئی ہوں۔ طارق محمود، کینیڈا: انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کی اہم بات یہ ہے کہ ایسے حالات میں سروس کی فراہمی جاری رہے۔ لیکن بدقسمتی سے پی ٹی سی ایل شاید اس طرح کا کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ بزنس کے جاری رہنے اور ڈِزاسٹر سے نمٹنے کے لئے کوئی پلاننگ نہیں کی گئی تھی۔ مجھے تعجب ہے کہ پی ٹی سی ایل جس کی قیمت کئی بلین ڈالر ہے، اس نے یہ اقدامات نہیں کیے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: میں سمجھتا ہوں کہ یہاں سے یہ اندازہ لگا لینا چاہئے کہ ہم میں اور مغرب میں کیا فرق ہے۔ یہاں پر جو لوگ نیٹ کیفے یا کال سنٹر کا چھوٹا موٹا کاروبار کررہے ہیں وہ سخت متاثر ہوئے ہیں۔ میں چکوال نیٹ یونین کا صدر ہوں اور یہ اچھی طرح فِیل کرسکتا ہوں کہ حالات کیا ہیں۔ ہمارے نیٹ صارفین پریشان حال ہیں، نیٹ کیفے کے مالکان پریشان ہیں کہ رینٹ کیسے پے کریں گے، فون اور الیکٹرِک کا بِل کیسے دیں گے۔ ثناء خان، پاکستان: چار دن ہوگئے ہیں لیکن اب تک یہ انٹرنیٹ کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ اگر یہ امریکہ میں ہوا ہوتا تو اسی وقت ہیلی کاپٹر دوڑے ہوتے یہ مسئلہ ٹھیک کرنے کے لئے۔ میں تو بہت متاثر ہوئی ہوں اس بلیک آؤٹ سے، میرے لئے انٹرنیٹ ہی ایک تفریح اور کام کی جگہ ہے۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: بس صرف اس بات کی کمی رہ گئی تھی، بجلی کی وجہ سے بلیک آؤٹ یعنی لوڈ شیڈِنگ اور دنیا بھر کے مسائل تھے جنہوں نے ہمارے ملک کو غیر رکھا تھا، اب رہی سہی کسر بھی پوری ہوگئی، ہم جیسے لوگ تو صرف تھوڑا سا متاثر ہوئے ہیں یعنی پاکستان میں بہن بھائیوں کی خیر خبر مل جاتی تھی، کوئی بھی اچھی بری خبر ہو فورا مل جاتی تھی وہ نہیں مل رہی۔ دیکھا جائے تو چھوٹی سی بات ہے لیکن چونکہ روزانہ بات کرنے یا چیٹ کرنے کی عادت ہوگئی تھی سو عجیب سا لگ رہا ہے، اصل مسئلہ تو پورے ملک کو درپیش ہے جس کا فی الحال کوئی حل ہوتا نظر نہیں آتا۔۔۔۔ خان ظفر افغانی، امریکہ: حکومت میں بیٹھے ہوئے وزیر صرف اپنے اوپر بجٹ کے رقوم لگاتے ہیں، ملک کی ترقی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو اب تک کسی نے پاکستان میں تسلیم ہی نہیں کیا ہے۔ تو ظاہر ہے یہی حال ہوگا جو اب ہوا ہے۔ سید ابرار حسین، کویت: میں تو صرف اس حد تک افیکٹ ہوا ہوں کہ پاکستان کال کرنے میں مشکل ہے۔ ساؤنڈ کلیئر نہیں۔ پاکستان میں انیس سو سینتالیں سے کنسٹی ٹیوشنل بلیک آؤٹ ہے۔ یہ اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ لوگ کہہ رہے ہیں اس سے انویسٹمنٹ افیکٹ ہوگی۔ میرے خیال میں سب سے زیادہ عام آدمی افیکٹ ہوگا۔ جو نقصان ہوا اگلے مہینے کے بِل میں ڈال کر عوام سے پورا کیا جائے گا۔ اگر پریسیڈنٹ بش کے دور میں امریکہ میں ایسا ہوا تو نائن الیون کی طرح ساری دنیا افیکٹ ہوگی۔ فرخ شہزاد، حفیظ آباد: یہ ایک مسئلہ ہے، اور اسے ایک حادثے کے طور پر لینا چاہئے۔ یہ صحیح ہے کہ ایک مسئلہ ہے، اسپیڈ پہلے کی طرح نہیں ہے، کم سے کم رپورٹِنگ صحیح ہونی چاہئے جہاں تک ممکن ہو۔ میں یہ کمینٹ ایک فون لائن کے استعمال سے بھیج رہا ہوں، اسپیڈ کافی بیٹر ہے جبکہ بی بی سی کی رپورٹ میں آج بھی کہا جارہا ہے کہ پی ٹی سی ایل کچھ نہیں کرپارہا اور عوام کو بڑے مشکلات کا پرابلم ہے براؤزنگ اور چیٹنگ میں۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ راحت ملک، راولپنڈی: اس طرح کا کوئی بھی معاملہ ہو تو ہمارے ملک کو خسارے کی کوئی پرواہ نہیں، ایک بندے کا پیٹ تو بھر جائے گا۔ اوجھڑی کیمپ والے واقعے سے کیا پاکستان غریب ہوگیا؟ جنگلوں سے لکڑ چراکر آگ لگادی جاتی ہیں کیا اس سے ہمارا ملک غریب ہوگیا؟ اگر انڈیا سے کمپنی پاکستان میں انویسٹمنٹ نہ کرے گی تو کیا پاکستان غریب ہوجائے گا؟ نہیں، بِگ گنز چاہتے ہی نہیں کہ پاکستان بڑھے اور پھولے۔ نورالاسلام شیخِ، ملیشیا: کبھی بجلی آؤٹ، کبھی گیس آؤٹ، کبھی چینی آؤٹ، انٹرنیٹ ہی بچا تھا سو وہ بھی آؤٹ۔ مجھے تو لگتا ہے کہ دن پاکستانی عوام کو بھی پاکستان سے آؤٹ کردیا جائے گا۔ شیر یار خان، سنگاپور: پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک کو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے متعلق تعطل جیسے واقعات کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ انٹرنیٹ میں تعطل کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، مگر کسی ملک نے بھی ابھی تک ایسے تعطل سے بچاؤ کی کوئی تدابیر نہیں اپنائی ہیں۔ ترقی پزیر ملکوں اور ترقی یافتہ ملکوں میں یہی ایک فرق ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کسی بھی مشکل کا حل پہلے سوچتے ہیں اور ترقی پزیر ممالک مشکل پڑنے کے بعد۔ ناگہانی حادثات سے بچنا کسی بھی ملک کے بس میں ممکن نہیں۔ پاکستان کے انٹرنیٹ بحران کو اس کے اقتصادی معاملات سے منسلک کرنا بالکل ناجائز ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک کسی بھی وقت اس طرح کے حادثات سے گزرتے ہیں تو کوئی بھی نہیں اچھالتا، مگر پاکستان جیسے ملکوں کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ کا تعطل کوئی مستقل طور کا نہیں ہے بلکہ ایک حادثہ ہے جو کہ امید ہے جلد حل ہوجائے گا۔ برطانیہ کے سرمایہ دار طبقوں کو معلوم ہے کہ کن حالات میں اور کس وقت کس ملک میں سرمایہ کاری کرنا ضروری ہے۔اس کے لئے کسی بھی وقت کے حادثے کو بہانہ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ ہر ملک کو انٹرنیٹ کے تعطل جیسے معاملات سے بچاؤ کے مناسب اقدامات کرنے چاہئے تاکہ موقع پرستوں کے اثرات سے اپنا دفاع کرسکیں۔ معید عالم، امریکہ: اس طرح کے اہم انفراسٹرکچر میں کوئی بھی سنگل پوائنٹ فیل ہونے کا چانس نہیں ہونا چاہئے۔ یہ ہر طرح پاکستانی حکومت اور پرائیوٹ آئی ایس پیز کی ناکامی ہے جو کہ صرف ایک فائبر لائن پر کام کررہی ہیں۔ نعیم الیاس سردارگڑھوالا، کراچی: میرے خیال میں اگر انٹرنیٹ کی یہی پوزیشن رہی تو ہمارے ملک میں نئی آنے والی فارن ملٹی نیشنل کمپنیاں جو کہ پاکستان میں انویسٹمنٹ پلان بنارہی ہیں شاید وہ اپنا پلان چنج کردیں اور ملک کو آنے والے زر مبادلہ سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اس طرح کے پرابلمز سے جو لوگ پریشان ہورہے ہیں وہ آئی ٹی ڈویژن، طالب علم، دفاتر، آن لائن سروسز، سب کو پریشانی ہورہی ہے۔ اس لئے ہمیں اس طرح کے تمام پرابلم کے لئے پہلے سے تیار ہونا چاہئے اور اس کو کوئی ایمرجنسی میں دوسرا راستہ چاہئے تاکہ آنے والے دنوں میں اس طرح کے پرابلم دوبارہ نہ پیدا ہو سکیں۔ اور یہ مسئلہ دنیا میں پاکستان پہ ایک برا تاثر چھوڑے گا اس لئے حکومت کو چاہئے کہ جلد از جلد اس مسئلے کو حل کرے۔ |