BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 16 January, 2006, 13:04 GMT 18:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی انٹرنیٹ پر کیا کرتے ہیں؟

انٹرنیٹ کیفے

انسانی تاریخ کا جائزہ لینے سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ انسان ہمیشہ نئی سوچ اور چیزوں کی جانب راغب رہا ہے اور اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس نے مختلف ایجادات کیں ہیں ـ انٹرنیٹ بھی ایک ایسی ہی ایجاد ہے جس نے انسانی طرز زندگی پر انقلابی اثرات چھوڑے ہیں۔

انیس سو ساٹھ اور سترکے عشرے میں امریکہ اور سویت یونین کے درمیان جاری اسلحہ کی دوڑ اور سرد جنگ کے نتیجے میں امریکہ کی ایک دفاعی تجربہ گاہ میں آرپانیٹ نامی ایک پروجیکٹ شروع ہوا جس کابنیادی مقصد جوہری جنگ چھڑ جانے کی صورت میں کمپیوٹر نیٹ ورک کےدرمیان ایک با اعتبارمواصلاتی نظام قائم کرنا تھاـ یہ تجربہ اپنے اصلی یا بنیادی دفاعی مقصد میں کامیاب ہو نے کی صلاحیت رکھتا تھا یا نہیں اس بحث سےقطع نظرہوکر اگر دیکھیں تو دراصل یہی آرپانیٹ موجودہ انٹرنیٹ اور ورلڈ وائڈ ویب کی ابتدائی شکل ثابت ہواـ آج انٹرنیٹ لاکھوں کمپیٹروں اور مختلف نوعیت کے مواد سے لدے کروڑوں ویب پیجزپر مشتمل ایک ایسے بڑےکمپیوٹر نیٹ ورک کی صورت اختیار کرچکا ہے جس سے کوئی بھی انٹر نیٹ کی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص اپنی انگلیوں کی ذرا سی جنبش سے معلومات کے ایک وسیع سمندر سے مستفید ہوسکتا ہے۔

News image
نیٹ کیفے مقبول
 گو ملک میں کارفرما بیشتر موبائل فون کمپنیاں موبائل فون کےذریعے بھی انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کر رہی ہیں تاہم ذیادہ تر پاکستانی انٹرنیٹ صارفین کے لیے سائبر کیفے، دفاتراور گھروں میں موجود کمپیوٹر انٹرنیٹ تک رسائی کا بڑا ذریعہ ہیں۔
ریبا شاہد

انٹرنیٹ پر چیٹ، ای میل، وا‎ئس اوور آئی پی وغیرہ جیسے مواصلاتی ذرا‏ئع کی بدولت دنیا نہ صرف سمٹ کر رہ گئی ہے بلکہ اس نے معلومات کی نشر واشاعت کے نظریے کو نئے طرز پر استوار کیا ہے۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کی آمد کو دس سال ہوگئے ہیں مگر صحیح معنوں میں عوام میں اس کی مقبولیت نوے کی دہائی کے آخر میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے نرخوں میں کمی کے بعد واقع ہوا۔ ملک میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تنظیم اسپاک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ کے چوبیس لاکھ سے زائد صارفین موجود ہیں۔ ان صارفین کی آن لائن مصروفیات دیگرسافٹ ویر اور بھارتی فلموں کےمقبول گانے ڈاؤن لوڈ کر نے سے لے کر چیٹنگ، ای میل، اور نئے دوستوں کی تلاش، تازہ ترین خبروں اور تعلیمی سرگرمیوں سے منسلک مواد کے مطالعے پر مشتمل ہیں۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کا رجحان
نومبر 2005 میں ملک کے ایک بڑے آئی ایس پی ’سائبر نیٹ‘ کے انٹرنیٹ صارفین کا رجحان۔

عدنان احمد خان ایم بی اے کے طالب علم ہیں اور روزانہ دو سے تین گھنٹے آن لائن دوستوں سے چیٹ کرتے اور گا نے سنتے گزارتے ہیں ـ وہ کہتے ہیں’رات کوجب نیند نہیں آتی تو چیٹ کر کے وقت اچھا گزر تو جاتا ہے تا ہم انٹر نیٹ کے بغیر میں اپنی پڑھائی جاری رکھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا ـ انٹرنیٹ سے نہ صرف کورس کی اسائنمنٹ اور مطالعے میں مدد ملتی ہے بلکہ ہمارےکورس کے تمام لیکچرز اور نوٹس ای میل کے ذریعے ہمیں ارسال کردیے جاتے ہیں۔‘

گو ملک میں کارفرما بیشتر موبائل فون کمپنیاں موبائل فون کےذریعے بھی انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کر رہی ہیں تاہم ذیادہ تر پاکستانی انٹرنیٹ صارفین کے لیے سائبر کیفے، دفاتراور گھروں میں موجود کمپیوٹر انٹرنیٹ تک رسائی کا بڑا ذریعہ ہیں۔

فاہد جو ایک نجی ادارے میں ملازمت کر تے ہیں اور گذشتہ ایک ماہ سے ذاتی کمپیوٹر خراب ہونے کی وجہ سے ای میل اور بیرون ملک مقیم رشتہ داروں اور دوستوں سے چیٹ کر نے کے لیے سائبر کیفے کا رخ کر نے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب چھٹی جماعت کے طالب علم ضمیر بھی ہیں جو گھر میں انٹرنیٹ کنکشن موجود ہو نے کے باوجود روزانہ دو سے تین گھنٹے سائبر کیفے میں چیٹ کرنے اور کمپیوٹر گیم کھلنے کے لیے آتے ہیں ـ وہ سائبر کیفے آنے کی وجہ یہ بتاتے ہیں ’گھر پر بڑے بھائی انٹرنیٹ استعمال نہیں کر نے دیتے اس لیے میں یہاں آجاتا ہوں۔‘

اس ہی طرح صحافی فیصل قریشی گذشتہ سات آٹھ سال سے انٹر نیٹ کا استعمال کرر ہے ہیں ـ گھر پر ڈائل اپ کنکشن اور دفتر میں براڈبینڈ موجود ہے ـ ہر صج ای میل چیک کرنے کے بعد خبروں ، شوبز اور فیشن سے متعلق ویب سائٹز کا جائزہ لیتے ہیں ـ گو فیصل قریشی اس بات سے متفق ہیں کے انٹر نیٹ خصوصًا ای میل نے فوری رابطہ ممکن کردیا ہے تاہم وہ چیٹ اور آن لائن دوستی کے بہ نسبت حقیقی میل جول اور تعلقات کو ترجیح دینا پسند کرنے ہیں۔

انٹرنیٹ سے مستفید ہونے والے لوگوں کا دائرہ صرف نوجوانوں اور پیشہ ور افراد تک محدود نہیں ہے۔

نادیہ سلیم ایک خاتون خانہ ہیں اور روزانہ ایک سے دو گھنٹے انٹرنیٹ پر صرف کرتی ہیں ـ وہ انٹرنیٹ پر صحت اور طب سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کے سکول کے پروجیکٹ کے لیے انٹرنیٹ سے مدد لیتی ہیں- اس کے علاوہ نادیہ آن لائن کتابوں کے اسٹور پر جاکر نئی کتابوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تو پسندکرتی ہیں مگرسکیورٹی کے خدشات کی وجہ سےانٹرنیٹ پر خریداری کر نے سے کتراتی ہیں اور ان کے خیال میں ’جو مزا خود اپنے ہاتھ سے چیز چننے میں ہے وہ آن لائن خریداری میں کہاں ؟‘
لٰہذا ایک طرح سے اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں انٹرنیٹ تین مقاصدکے لیے استعمال ہوتا ہے: تفریحی، تعلیمی اور مواصلاتی و معلوماتی۔

تاہم پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی ایک ایسی بڑی تعداد بھی موجود ہے جن کا رجحان فحش ویب سائٹس کی جانب نظر آتا ہے جیسا کہ ملک کے ایک بڑے آئی ایس پی سائبر نیٹ کے گذشتہ ایک ماہ میں صارفین کا انٹرنیٹ استعمال کر نے کے ڈیٹا سے ظاہر ہے۔

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
پاکستان میں انٹرنیٹانٹرنیٹ اور پاکستان
پاکستان میں انٹرنیٹ کے دس برس پر ایک نظر
سب میرین کیبل
پاکستان زیرِ سمندر کیبل کے نئے نظام سے منسلک
پاکستان پیچھے کیوں؟
آئی ٹی سیکٹر میں ترقی سست رفتار کیوں؟
اردو ویب سایٹآپ کی رائے
کیا انٹرنیٹ پر کنٹرول آپ کا ہونا چاہئے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد