دنیا کی سب سے بڑی سوفٹ وئیر کمپنی مائیکرو سوفٹ نے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت انڈیا میں اگلے چار برس میں وہ ایک اعشاریہ سات ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سرمایہ کاری سے ملک میں تین ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوگیں اور اس فیلڈ میں ریسرچ کے لئے مزید فنڈز دستیاب ہو سکیں گے۔ پچھلے ایک عشرے میں آئی ٹی سیکٹر میں انڈیا میں بڑے پیمانے پر ترقی ہوئی ہے اور تمام بڑی کمپنیوں نے سرمایہ کاری کی ہے لیکن اس سلسلے میں مقابلتاً ہمسایہ ملک پاکستان میں اتنی ترقی نہیں ہوسکی۔ آپ کے خیال میں اس کی کیا وجہ ہے؟ پاکستان میں آئی ٹی کے سیکٹر میں ترقی کے راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟ اب جبکہ آئی ٹی کا سیکٹر کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے لئے اہم بن چکا ہے پاکستان جیسے ممالک کس طرح مقابلے کی اس نئی فضا میں آگے بڑھ سکتے ہیں؟ اب یہ فورم بند ہو چُکا ہے، قارئین کی رائے اور ترجمے نیچے درج ہیں۔
احمد جمال شمسی، یو اے ای: ایک قوم کے طور پر ہم بددیانت لوگ ہیں۔ ہم صرف اپنے فائدے کے لیے دیانت دار ہیں۔ ہم دور اندیش نہیں، جو صرف عارضی مقاصد میں یقین رکھتے ہیں۔ ایک ملک کے طور پر ہم صرف اس وقت ترقی کر سکتے ہیں جب ہم اجتماعی دیانت داری پرعمل کریں۔ علیم اختر،گجرات: اس ملک میں آئی ٹی کی پستی کی سب سے بڑی وجہ کرپشن ہے۔ حکومت میں آئی ٹی سے متعلق نوکریوں میں نااہل لوگ بھرتی کیے جاتے ہیں۔ آپ بےشک آزما کر دیکھ لیں۔ کاشف بشیر، پاکستان: پچھلے انسٹھ سالوں کی آزادی میں پاکستان کا سربراہ کبھی سائنس گریجوایٹ نہیں رہا۔ سہیل مرزا، یو کے: ہم ابھی تک انگلش اور اردو میں ہی الجھے ہوئے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ آئی ٹی کی تعلیم پرائیویٹ سیکٹر کے ہاتھوں میں ہے جس کی وجہ سے یہ کافی مہنگی ہے۔ عبدالحفیظ، یو کے: لوگوں کو اس شعبے میں تربیت دلوانے کے لیے نوکریاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے تا کہ لوگ اس طرف مائل ہو سکیں۔ اس وقت اس انڈسٹری میں بڑی تعداد میں بےروزگاری ہے، اس وجہ سے لوگ اس طرف نہیں آ رہے۔ معیاری اور سستی ٹرینیگ کا حصول ممکن ہونا چاہیے۔ محمد راشد خان، بھوریوالا: میری رائے میں پاکستان میں بہت قابل لوگ موجود ہیں مگر یہاں پر پرچی سسٹم ہونے کی وجہ سے یا تو ٹیلنٹ مر جاتا ہے یا پھر مزید بڑھ نہیں پاتا ہے۔ اگر ہم اپنی سکولنگ ٹھیک کر لیں تو میرا خیال ہے کہ ہم کسی سے کم نہیں ہیں۔ صفدر عباس، کراچی: پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کا مختصر ہجم آئی ٹی شعبے کی زبوں ہالی کا اہم سبب ہے۔ جدید دور میں صرف وہی ملک ترقی کر سکتے ہیں جو آئی ٹی میں بہت آگے ہیں۔ اشرف، لاہور: پاکستان میں آئی ٹی کا ایک بھی بڑا سرمایہ دار موجود نہیں ہے۔ حکومت آئی ٹی کمپنیوں کو سپورٹ نہیں کرتی ہے۔ ذیادہ تر لوگ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں، جنہوں نے ملک واپس آ کر آئی ٹی کا بزنس شروع کیا ہے۔ حکومت کو اس سیکٹر کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے۔ فرخ نواز، ہری پور: ہماری کوئی بھی یونیورسٹی دنیا کی پہلی ہزار یونیورسٹیوں میں نہیں آتی ہے۔ سونے پہ سہاگہ کا کام دیتے ہیں یہ شارٹ کورسز والے سنٹر جنہوں نے ہر آدمی کو سرٹیفیکیشن دے دی ہے۔ سافٹ وئیر کو انڈسٹری کا درجہ بھی نہیں حاصل ہے اور سافٹ وئیر کوالٹی اشورنس پر بھی کام نہیں ہوتا۔ محمد یوسف، ملتان: کیا پاکستان کا یہی قصور کافی نہیں کہ وہ مسلمان ملک ہے۔ آپ صرف ایک مسلمان ملک کا نام بتا دیں جس میں یہ لوگ جاتے ہوں۔ کامران ندیم، راولپنڈی: ہمارے پاس بہت سی ڈگریاں اور سرٹیفیکیٹس ہیں لیکن ہم میں عملی تجربے اور وسیع سوچ کی کمی ہے۔ جبکہ بل گیٹس جیسے لوگوں کو صحیح کام کی ضرورت ہے۔ جو صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے پاس آئی ٹی کا مکمل اور پختا عملی تجربہ موجود ہوگا۔ سید ابو ریحان، کینیڈا: دنیا میں ہر چیز میرِٹ کی بنیاد پر چلتی ہے۔ آج انڈیا میں آئی ٹی کی ترقی کی وجہ وہاں کی حکومت کا میرِٹ پر چلنا ہے۔ مگر افسوس پاکستان میں میرٹ نام کی کوئی چیز نہیں، جس کے ہاتھ میں جو آ رہا ہے دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے۔ جو بہت افسوس کی بات ہے۔ جمال اختر خان، فیصل آباد: ہمارے ملک کی سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ جو بھی ذہین لوگ ہوتے ہیں باہر کا رُخ کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کی ہمارے ملک میں کوئی آئی ٹی کے خاص لوگ نہیں ہیں۔ سب کے سب باہر جا چکے ہیں اور باہر آئی ٹی کے بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہیں۔ محمد خان، امریکہ : میرے خیال میں ہمارے ملک میں غیر قانونیت اس کی ذمہ دار ہے۔ اس کی وجہ سے سرمایہ دار ہمارے ملک کا رخ نہیں کرتے۔ ہارون رشید، سیالکوٹ: میری رائے میں اس کی وجہ حکومتی حکمت عملی میں دیر، آئی ٹی سیکٹر میں ریگیولیشن کی غیر موجودگی، آئی ٹی کے اچھے اداروں کی کمی اور غلط پالیسیاں ہیں۔ آصف محمد، لاہور: یہ صرف خراب تعلیمی نظام کی وجہ سے ہے اور عالمی سطح پر آئی ٹی تعلیم بہت مہنگی ہے جس کی وجہ سے ہمارے آئی ٹی کے پروفیشنل ایڈوانس ٹیکنیکیں حاصل نہیں کر سکتے۔ ممتاز حسین بالتی ، پاکستان : یہاں میرٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جس کا بس چلے وہی سب کچھ ہے۔ عارف قریشی ، ٹنڈومحمد خان: پاکستان اس وقت آئی ٹی کے شعبے میں واقعی بہت پیچھے ہے کیونکہ ابھی تک کالج کی سطح پر آئی ٹی کو فروغ نہیں دیا جا سکا آگے کیسے دیں گے۔ خدا بھلاکرے ہمارے حکمرانوں کا وہ صرف دکھاوے کیلئے بہت کچھ کرتے ہیں لیکن عمل نہیں۔ہے۔ پاکستان میں اس لئے ترقی نہیں ہو سکتی کہ حکومت کو آئی ٹی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ امین اللہ شاہ ، پاکستان : ہم نے کئی شعبات مثلاً ؛ جھوٹ ، کرپشن ، بے انصافی ، لوٹا کریسی ، وزیروں مشیروں کی فوج ظفر موج ، وغیرہ میں دنیا کے ایڈوانس ملکوں کو مات دے دی ہے۔ ایک آئی ٹی کا شعبہ صحیح نہیں تو کون سی قیامت آ جائے گی۔ جب ہمارے حکمران ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے سے فارغ ہوں گے تو اس طرف توجہ ہو گی نا۔ شاھدہ اکرم ، یو اے ائی: آئی ٹی میں ترقی نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ معیارِتعلیم ہے۔ ہمارے ملک میں تعلیم کا معیار اس قدر کمزور ہے کہ بعض اوقات شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ طارق محمود ، فیصل آباد: ہمارے ملک میں انگلش ایک مضمون کے طور پر پڑھایا جا رہا ہے، جب تک انگلش ایک زبان کے طور پر نہیں پڑھائی جائے گی ملک کسی بھی شعبے میں ترقی نہیں کر سکتا۔ زکی حیدر ، فرانسن : آج کے مسلمان تعلیم پر کب توجہ دیتے ہیں۔ انڈیا کے آئی ٹی سیکٹر کے ہیرو تو غیرمسلم ہیں۔ ہمارا تو گزارا دوسروں کے کام کو چھاپنے سے ہو جاتا ہے جس کی موجودہ مثال گیارویں جماعت میں چھاپہ شدہ نظم کی اشاعت ہے۔ عامر عباسی ، یو اے ئی: اس کی سب سے اہم وجہ چھوٹے شہروں میں تعلیم کی کمی ہے اور حکومت بھی اس پر توجہ نہیں دیتی ہے۔ آ ئی ٹی بزنس کے لئے صحیح ماحول نہیں ہے۔ محمد عارف سعید نظامی ، جہانیاں: دوسرے سب شعبوں کی طرح آئی ٹی سیکٹر میں بھی یہودیوں کا قبضہ ہے اور یہودی کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ مسلمان کسی بھی شعبے میں ترقی کر سکیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی بہت تھوڑی آبادی انگلش زبان پر عبور رکھتی ہے۔ ایک اور وجہ سیاسی عدم استحکام بھی ہے۔ فاحر ، سرگودھا: ہمارے صدر صاحب کہتے ہیں کہ ان کو کمپیوٹر کی سدھ بدھ نہیں۔ یہی حال استادوں کا ہے۔ جس ملک کے سربراہوں کا یہ حال ہو اور استادوں کا، وہاں آئی ٹی کیا ترقی کرے گی۔ وہاں آئی ٹی کے لیے کیا پالیسیاں بنیں گی؟ احمد جمیل ترک ، لاہور: لاہور آئی ٹی پارک میں جن تین کمپنیوں کو لائیسنس ملا ان میں سے دو کسی فیڈرل سیکریٹری کے بیٹے کی تھیں، اور ایک صوبائی سیکریٹری کے کسی کی۔ ایسے لوگ آئی ٹی سیکٹر کی ترویج کیا کریں گے؟ شاہ دل جان گلبستی ، اسلام آباد: آئی ٹی کے شعبے کو سستا کر دینا چاہیے اور ملک چاہے دشمن ہی کیوں نہ ہو ان سے سبق سیکھنا چاہیے۔ صدر اور وزیراعظم کو چاہیے کہ تعلیم کو سستا کر دیں تاکہ غریب لوگ بھی اچھے سکولوں اور کالجوں میں پڑھ سکیں کیونکہ یہ ملک امیروں کا نہیں ہے۔ شکریہ خرم حبیب ، ڈینمارک: پاکستان کو اعلی معیار کی تعلیم، مستحکم سیاسی نظام، صحیح مذہبی تعلیم اور وقار پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ نعیم خان ، اسلام آباد: اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا تعلیمی نظام ہے۔ ہم جو نصاب پڑھتے ہیں وہ بہت پرانا ہوتا ہے۔ ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ جو سٹوڈنٹ بیرون ممالک بھیجے جاتے ہیں ان کے لیے نوکری کا انتظام کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ہم ان کو وہ سہولتیں نہیں دے سکتے جو انہیں بیرون ممالک میں میسر ہوتی ہیں۔ اس لیے آئی ٹی پروفیشنل باہر کے ملکوں میں ہی نوکری کرتے ہیں۔ عمران بشیر ، لاہور: انڈیا کی عوام اور حکومت اپنے ملک کو آگے لے جانے میں سنجیدہ ہیں۔ پاکستانی حکومت کے پاس اس پر غور کرنے کا وقت نہیں۔ شاید جنرل مشرف کے یونیفارم کے مسئلے کو حل کرنے کے بعد وہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے عمل کر سکیں۔ عمران بشیر ، لاہور: پاکستان میں کوئی سافٹ وئیر کمپنی آئی ٹی کے طالب علموں کو کوئی ایسے فوائد نہیں دیتی جن سے ان کی حوصلہ افزائی ہو۔ اسحاق ملک ، ملتان: انڈیا سو فیصد جمہوری ملک ہے اور پاکستان سو فیصد غیر جمہوری ملک، جس کو فوج نے گزشتہ تیس سالوں سے یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ایک غیر جمہوری ملک میں بھلا کون سرمایہ دار آئے گا۔ خالص جمہوریت آنے کا دور دور تک کوئی نشان نہیں۔ اس لیے ’نہ سو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی‘۔ آفتاب احمد رانا ، لاہور: میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان انڈیا سے پیچھے نہیں، گروتھ کی شرح انڈیا سے زیادہ ہے۔ ناصر ملک فیض ، یو اے ئی: پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر پیچھے رہنے کی وجہ تعلیمی اداروں کا ماحول ہے جو ٹیکنالوجی سیکھنے کے محدود مواقع فراہم کرتا ہے۔ حکومت بھی ٹیکنالوجی میں ترقی کی کوشش نہیں کر رہی۔ ہم عالمی معیار کے پروفیشنل پیدا نہیں کر رہے۔ عابد محمود ، بہاولپور انڈیا اور پاکستان میں ایک ہی نسل کے لوگ ہیں لیکن فرق آئی ٹی پڑھانے والوں اور حکومت کی پالیسیوں میں ہے۔ شجاعت علی ، امریکہ: ہم آئی ٹی یا کسی اور لائن میں ترقی کیوں نہیں کرتے؟ اس کی بڑی وجہ ہمارا فراڈ پن ہے اور تعلیمی معیار کی کمی ہے۔ جب یہ نوجوان نقل کر کے پاس ہوگا تو کیسے ترقی کرے گا۔ عاقب میاں، امریکہ: پاکستان میں کاپی رائٹ کی عدم موجودگی، خراب سیاسی حالات، کاروبار کے لیے رہنمائی کی عدم دستیابی اور فوج کا تسلط اس کی وجوہات ہیں۔ معید عالم، نامعلوم: اس لیے کہ پاکستان آئی ٹی کے تعلیم یافتہ لوگ پیدا کرنے کی بجائے جہاد کے متعلق تعلیم یافتہ لوگ پیدا کرنے پر توجہ دیتا رہا ہے۔ شاہد اقبال، لاہور، پاکستان: اس کی تین وجوہات ہیں جن میں حکومت کا دیر سے عمل، آئی ٹی کے لیے بہت تھوڑا بجٹ اورسہولیات کی کمی شامل ہیں۔ عمر فاروق، امریکہ: انڈیا میں انگریزی بہت عام ہے۔ اگر پاکستانی بھی اچھی طرح انگریزی بول سکتے تو ان کا انڈیا سے اتنا فرق نہیں ہوتا۔ عثمان اکرم، لاہور، پاکستان: ہمارے ہاں جب تک انٹرنیٹ کا قابل اعتماد نظام اور لوگوں میں آئی ٹی کی اہمیت کا شعور نہیں آتا اس وقت تک ہم اس سے مستفید نہیں ہو سکتے۔ ہم میں تحقیق کا فقدان ہے جس سے ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔ سہیل خان، امریکہ: اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ ہمارا تعلیمی نظام بہت پرانا ہے اور دوسری یہ کہ ہم اس پر کم پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارا خراب امیج بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔ سہیل سعید، مانچسٹر، یو کے: پاکستان میں ہر سطح پر لیڈرشپ کی کمی ہے جس کا زبردستی اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری لیڈر شپ کا اقبال کے الفاظ میں یہ حال ہے: جہاں میں اہل ایمان صورت خورشید جیسے ہیں اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے حنیف خان، اسلام آباد، پاکستان: اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کا تعلیمی نظام اس قابل نہیں ہے کہ اس شعبے میں ہنر مند افراد پیدا کر سکے۔ اکثر ایم اے پاس لوگوں کو بھی پتہ نہیں ہوتا کہ ونڈوز کے علاوہ اور بھی آپریٹنگ سسٹم ہیں۔ یہی حال اساتذہ کا ہے۔ عملی کام کے متعلق بہت کم سکھایا جاتا ہے۔ محمد فیصل، سرگودھا، پاکستان: بہت سی وجوہات ہیں۔ ان میں سے ایک گیارہ ستمبر کا واقعہ ہے جس نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آئی ٹی کی صنعت کو بھی تباہ کر دیا۔ اب حالات بہتر ہیں لیکن پھر بھی مغرب کے لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے ڈرتے ہیں۔ سید جاوید، امریکہ: ایک ایسے ملک میں جہاں انٹرنیٹ پر کریڈٹ کارڈ کا سسٹم تک نہیں چلتا ترقی کیسے ہوسکتی ہے۔ کوئی بھی فراڈ کرسکتا ہے اور قانون کا کوئی نظام نہیں ہے۔ اس سلسلے میں نئے قوانین کی ضرورت ہے۔ سید فیصل، امریکہ جب تک ہمیں وزارتوں میں موجود ’چوہدریوں‘ سے چھٹکارا نہیں ملتا ، یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ آپ مجھے بتائیں کہ اگر ہم آج کابینہ سے تمام وزیروں کو برخاست کردیں تو کسی کو پرائیویٹ سیکٹر میں نوکری ملے گی؟ کسی کو بھی نہیں۔ وہ لوگ جنہیں آئی ٹی کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں وہ اس سلسلے کیسے کچھ کرسکتے ہیں۔ رضوان الحق، پیرس آپ مجھے یہ بتائیں کہ پاکستان نے کس فیلڈ میں ترقی کی ہے۔ ہمیں اپنے سسٹم کو چینج کرنے کی ضرورت ہے اور جب تک یہ نہیں ہوگا کسی بھی فیلڈ میں ترقی نہیں ہوگی۔ آصف کمال، کراچی حکومت اس سلسلے میں کچھ کرنے کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ وہ ہمیں بس کاغذوں میں خوش رکھنا چاہتی ہے۔ محمد، لندن میں ایک پاکستانی ہوں جو لندن میں فائی نانس سیکٹر میں کام کررہا ہوں۔ پہلے میرا خیال تھا کہ انڈین بہت ہنرمند ہیں اور اسی لیے بڑی کمپنیاں انہیں موقع دیتی ہیں لیکن الحمداللہ پچھلے دو سال میں میں نے بہت سے پاکستانیوں کو انڈین سے زیادہ ہنر مند پایا ہے۔ میرے خیال میں بڑی کمپنیاں فوجی حکومت اور سیاسی غیر استحکام کی وجہ سے پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کرتیں۔ اس کے علاوہ انڈین لیبر پاکستانیوں کے مقابلے میں سستی بھی ہے۔ |