محمد اسد، کراچی، پاکستان: انٹرنیٹ بلاشبہ ایک زبردست ایجاد ہے۔ اور انفارمیشن کے آسانی سے حصول کا اس سے بہتر کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔ لیکن یہ ہماری بدنصیبی ہے کہ ہم اس کو صیح استعمال نہیں کرتے۔ ہمارا زیادہ تر رجحان فحش سائیٹس یا چیٹنگ پر لگتا ہے۔ اگر پاکستانی صیح طرح اس کا استعمال شروع کردیں تو اس سے نہ صرف ہمارا اپنا فائدہ ہے بلکہ ملک و قوم کا بھی فائدہ ہےاور وقت کی بھی بچت ہو جو ایک بار ضائع ہو گیا تو واپس نہیں آتا۔ فدا حسین، دمام، سعودی عرب: حقیقت یہ ہے کہ انٹرنیٹ کا جو جتنا فائدہ اٹھا سکتا ہے وہ اٹھاتا ہے کیوں کہ اس میں پوری دنیا کی معلومات ہے۔ جو چاہے وہ معلومات ملتی ہے۔ میں پاکستان میں اپنی فیملی سے روزانہ چیٹ کرتا ہوں جس سے پردیس میں اچھا وقت گزرجاتا ہے اور فیملی کی خیریت کا بھی معلوم ہوجاتا ہے۔ پہلے تو خط و کتابت میں ہی وقت لگتا تھا۔ انٹرنیٹ ایسی چیز ہے جو انسان کی سوچ سے بھی بڑھ کر ہے اور جہاں تک فحش ویب سائیٹس کی بات ہے تو یہ اپنے اوپر منحصر ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ کون سی چیز ہمارے لیے اچھی ہے اور کون سی بری جس سے اخلاق پر اثر پڑتا ہے۔ سمیع، پشاور، پاکستان: انٹرنیٹ بہت اچھی چیز ہے مگر اس کو صیح استعمال کرنا چاہیےاور بہت سی ایسی سائیٹس ہیں جو اسلام اور پاکستان کو بھی بدنام کر رہی ہیں۔ برائے مہربانی ایسی سائیٹس کو بند کرنا چاہیے۔ واجد علی، اسلام آباد، پاکستان: میں آپ سے صرف اتنا پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا فحاشی کی ویب سائیٹس ایک اسلامی ملک میں چلنی چاہئیں یا نہیں؟ ہماری حکومت اس بارے میں کچھ نہیں کرتی۔ کیا اسلام اس اجازت دیتا ہے؟ شکیل احمد، قصور، پاکستان: یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کیا پڑہیں۔ میں خبروں اور انفارمیشن کی سائیٹس پر جاتا ہوں جہاں سے مجھ کو بہت معلومات ملتی ہے۔ اوسام چوہان، ہری پور، پاکستان: مس ریبا، مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہورہا ہے کہ دوسرے لوگوں کی طرح آپ نے بھی آئی ایس پیز کے حوالے سے کہا ہے کہ 45 فیصد افراد انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں مسائل کی وجاہات کے ساتھ ساتھ ہم کو اس کا حل بھی تلاش کرنا ہوگا کیوں کہ یہ ہماری آنے والی نسل کے لئےایک بڑا مسئلہ ہے۔ اظہر راشد آرائیں، سیالکوٹ، پاکستان: آپ کی تحقیق بالکل درست ہے اور میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں۔ احمد سعید چشتی، پاکستان: انٹرنیٹ ایک اچھی چیز ہے لیکن بدقسمتی سے جہالت کی وجہ سے پاکستان میں اس کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ نیٹ صرف پاکستان میں ہی غلط استعمال ہو رہا ہے۔ کیوں کہ جتنی بھی فحش اور غلط سائیٹس ہیں وہ پاکستان میں نہیں بنتیں۔ بلکہ یہ ان ملکوں میں بنائی جاتی ہیں جن میں کمپیوٹر کی تعلیم زیادہ ہے۔ کم عمر یا کم تعلیم یافتہ ہی اس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ مثبت مقصد کے لیے نیٹ استعمال کرتے ہیں۔ اسداللہ بلوچ، تربت، پاکستان: ایک بلوچ ہونے کے ناطے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ انٹرنیٹ سے بلوچ جدوجہد کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ محمد یوسف، ملتان، پاکستان: دیکھیں ہماری عوام کے ساتھ ساتھ حکومت وقت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ فحش سائیٹس پر پابندی لگائیں۔ جو میرے خیال میں کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ پاکستان میں نیٹ استعمال کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو انگریزی نہیں جانتی لیکن وہ فحش سائیٹس کا ایڈریس معلوم کر لیتی ہے۔ میں آئی ایس پیز کی رپورٹ سے متفق ہوں۔ عبدالطیف عباسی، رحیم یار خان، پاکستان: انٹرنیٹ پر فحش سائیٹس اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکے دیکھتے ہیں اور وہ خراب ہو رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ سارا وقت انٹرنیٹ پر ضائع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی تعلیم پر بھی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔اب تو ہر شہر کی گلی میں انٹرنیٹ کیفے کھل گئے ہیں جہاں صرف دس روپے دے کر فحش سائیٹس دیکھتے ہیں۔ لہذا ہماری حکومت کو چاہیے کہ ان نیٹ کیفے کو بند کرے۔ دوسرا یہ کہ تمام فحش وئیب سائیٹس پر پاکستان میں پابندی لگائی جائے۔ ویسے تو انٹرنیٹ ایک اچھی چیز ہے لیکن پاکستان میں اس کا استعمال الٹا ہو رہا ہے۔ اگر اس سے صیح کام لیا جائے تو یہ ہمیں بہت اچھی انفارمیشن مہیا کرتا ہے۔ حافظ سیف عمران، کراچی، پاکستان: میں نے انٹرنیٹ کے بارے میں کافی سوچا ہے۔ میرے خیال میں نیٹ کا استعمال صرف کام کے لیے کیا جانا چاہیے تاکہ اس کا استعمال مثبت مقاصد کے لیے کیا جائے نہ کہ خراب کاموں کے لیے۔ امین، ناظم آباد، پاکستان: میرے خیال میں زیادہ تر پاکستانی انٹرنیٹ کا استعمال کام اور مطالعہ کے لیے ہی کرتے ہیں۔ سالح محمد، راولپنڈی، پاکستان: جس ملک کے پینتالیس فیصد عوام فحاشی کی ویب سائٹس دیکھنے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوں، اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔ خدا را کچھ تو خدا کا خوف کریں؟ فاروق خان، سویڈن: میں انیس سو اٹھانوے سے انٹرنیٹ کا استعمال کر رہا ہوں۔ یہ بہت ہی فائدہ مند چیز ہے اور اس کی مدد سے ساری دنیا آپ کی انگلیاں پر رہتی ہے۔ اگر آپ کسی بھی موضوع پر معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انٹرنیٹ سے اچھا اور کوئی ذریعہ نہیں۔ اس کے علاوہ یہ ایک ہی ایسا میڈیا ہے جس میں پاکستانی اور مسلمان اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ نامعلوم، منڈیلہ، پاکستان: ہم کبھی انٹرنیٹ کا استعمال نہیں کریں گے۔۔۔ وسیع خان، ڈیرہ غازی خان، پاکستان: میں انٹرنیٹ پر زیادہ انفارمیشن اور سافٹ وئیر کی تلاش میں رہتا ہوں۔ چیٹنگ کرنا اور نئے چیٹ فرینڈس بھی بناتا ہوں اور آفس کا کام بھی ساتھ ساتھ آفس میں کرتا رہتا ہوں۔ پاکستان میں نوجوان لڑکے چیٹنگ کرتے یا فحش ویب سائٹس زیادہ دیکھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس یا تو وقت زیادہ ہوتا ہے یا پھر وہ انٹرنیٹ کو صحیح طریقے سے استعمال کرنا نہیں جانتے۔ نواز، کوئٹہ، پاکستان: یہ رجحان اچھا نہیں ہے۔ صدرہ، مانسہرہ، پاکستان: پاکستانی انٹرنیٹ کا استعمال صرف چیٹنگ اور تفریحی ویب سائٹس دیکھنے کے لیے کرتے ہیں۔ رحمان، پاکستان: میرے خیال میں انٹرنیٹ پاکستانی لوگوں کے لیے ہے ہی نہیں کیونکہ جہاں شرح خواندگی بتیس فیصد ہو اس ملک کے لیے انٹرنیٹ سیکس سائٹس اور تصویروں کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ یہ تو ترقی یافتہ ممالک کی چیز ہے۔ عائشہ، پاکستان: نیٹ کو اگر اچھائی میں استعمال کیا جائے تو اچھا ہے اور اگر برائی میں کیا جائے تو برا ہے، اس کا دارومدار خود آپ پر ہے۔ میں نیٹ کے ذریعے پڑھائی میں ہیلپ لیتی ہوں۔ اس کے علاوہ میں اسلامی ویب سائٹس دیکھتی ہوں کیونکہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں سوچ سمجھ کر ہر کام کرنا چاہیے۔ ذیشان احمد، پاکستان: یہ بات بالکل صحیح ہے کہ انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ فحش سائٹس دیکھی جاتی ہیں۔ میں خود ان سائٹس کو بلاک بھی کر چکا ہوں۔ میری لوگوں سے درخواست ہے کہ ایسی ویب سائٹس پر نہ جائیں کیونکہ ان سے آپ کے کمپیوٹر میں وائرس اندر آتے ہیں اور ونڈوز کرپٹ ہو جاتا ہے۔ علی حسنین، چکوال، پاکستان: ریبا، آپ کا کالم پڑھا۔ بہت پسند آیا۔ امید ہے کہ آپ لکھتی رہیں گی۔ جہانگیر کیانی، کراچی، پاکستان: میرے خیال میں ریبا نے جو باتیں سامنے رکھی ہیں، وہ بالکل صحیح ہیں۔ پاکستان میں انٹرنیٹ کا صحیح استعمال نہیں کیا جاتا۔ بشیر اللہ، متحدہ عرب امارات: پاکستان میں فحش ویب سائیٹس بند کرنی چاہیں۔ جو کمپنیاں انٹرنیٹ کنیکشن دیتی ہیں انُ کو چاہیے کہ وہ پابندی لگائیں ورنہ ہمارے لوگ خراب ہو جائیں گے۔ طاہر محمود، گھانا: یہ اچھا ہے کہ پاکستان میں لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں لیکن یہ بہتر ہوگا کہ لوگ انٹرنیٹ کا درست استعمال کریں۔ فلک سحر، لاہور، پاکستان: جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ انٹرنیٹ کا استعمال روز بہ روز بڑھتا جا رہا ہے تاہم اس کے غلط استعمال کی بنیادی وجہ تعلیم کی کمی ہے اور کم تعلیم یافتہ افراد ہی انٹرنیٹ کا غلط استعمال کر رہے ہیں جبکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میں یہ رجحان نہیں پایا جاتا۔ احمد بلوچ، کوئٹہ، پاکستان: زیادہ تر سائیبر کیفے فحاشی کے اڈے بنے ہوئے ہیں۔ ارشد علی، پاکستان: نواسی فیصد افراد نیٹ کیفے میں فحش ویب سائیٹس دیکھتے ہیں ۔ عرفان ظفر، فرانس: نیٹ پر سب کچھ موجود ہے آپ کا جو دل کرے اُس کو دیکھیں ۔ عُمر انور، کراچی، پاکستان: پہلی اور دوسری دنیا میں فحش اور غیر فحش کی بحث ختم ہو گئی ہے اور اب تیسری دنیا کے لوگ بھی اسی دُوڑ میں لگ گیے ہیں۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔ شکیل فیصل، پاکستان: انٹرنیٹ معلومات حاصل کرنے کا تیز ترین زریعہ ہے۔ انٹرنیٹ کے بغیر ترّقی ممکن نہیں۔ لیکن پاکستان میں ہم ابھی تک انٹرنیٹ کے صیح استعمال سے ناواقف ہیں۔ پاکستانی عوام کی بڑی تعداد فحش اور فضول ویب سائیٹس دیکھتے ہیں۔ لہذا انٹرنیٹ کے بہتر مستقبل اور نئ نسل کی صیح پرورش کے لئے ضروری ہے کہ آئی۔ ایس۔ پیز اور متعلقہ ادارے اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات کریں۔ نصراللہ کھوسہ، پاکستان: میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ پاکستان میں زیادہ تر انٹرنیٹ صارف فحش ویب سائیٹس دیکھنے کے لیے ہی انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے لوگوں کو ابھی تک انٹرنیٹ کے فوائد کا پتا نہیں ہے اور انٹرنیٹ کو تفریح کا زریعہ سمجھا ہوا ہے جو کہ ایک خطرناک بات ہے۔ ہم ہی وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو انٹرنیٹ کے فوائد کے بارے میں بتا سکتے ہیں ان کی اچھے طریقے سے رہنمائی کر سکتے ہیں۔ پریم کمُار، سندھ ، پاکستان: پاکستان میں انٹرنیٹ زیادہ تر فحشی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ توقیر ارشاد، بھاولپور، پاکستان: یہ صیح ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران انٹرنیٹ پاکستان میں بے انتہا مقبول ہوا ہے اور یہ بات بھی درست ہے کہ فحش سائیٹس بھی کافی مقبول ہوئی ہیں۔ کیوں کہ ہمارے لوگوں کو انٹر نیٹ کے استعمال کے بارے میں کوئی تعلیم نہیں دی گئی ہے۔ ماسٹرز کی تعلیم حاصل کرنے والے طالبعلم بھی انٹرنیٹ کے درست استعمال سے ناواقف ہیں۔ لیکن عوام میں شعور بیدار کر کے مستقبل میں انٹرنیٹ کے غلط استعمال کو روکا جا سکتا ہے۔ |