انٹرنیٹ پر امریکہ کا کنٹرول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس ہفتہ تنزانیہ میں ہونے والی اقوم متحدہ کی کانفرنس میں انٹرنیٹ پر کنٹرول کے معاملہ پر امریکہ اور باقی دنیا کے درمیان خاصی لےدے ہوگی۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے لوگوں کی اکثریت کو غرض نہیں کہ وہ جوسروس استعمال کر رہے ہیں اس کو کون چلا رہا ہے لیکن عالمی سطح پر یہ خاصا اختلافی معاملہ ہے۔ انٹرنیٹ سب سے پہلے امریکی افواج اور وہاں کے ریسرچ کرنے والے اداروں نے استعمال کرنا شروع کیا تھااور جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے وہاں پراب بھی انٹرنیٹ سروس کو کنٹرول میں رکھنے لیےحکومت نے کئی اقدامات کیے ہوئے ہیں۔ کئی دیگر ممالک کو شکوہ ہے کہ انٹرنیٹ سروس کے معاملہ پر ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی اسی لیے اس ہفتے ہونے والی ’اقوام متحدہ کی عا لمی کانفرنس برائےانفارمیشن سوسائٹی‘ میں یہ ممالک اس معاملے میں بڑی تبدیلیوں کے لیے کوشش کریں گے۔ اس کانفرنس کا اصل مقصد انٹرنیٹ کو دنیا کے کم ترقی یافتہ علاقوں تک پھیلانے کے موضوع پر غور کرنا ہے لیکن لگتا ہے کہ انٹرنیٹ کو کنٹرول کرنے کا معاملہ مندبین کی توجہ کانفرس کے اصل موضوع سے ہٹائے رکھا گا۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی اکثریت اس بات سے اتفاق کرےگی کہ تکنیکی لحاظ سے یہ سروس ٹھیک کام کر رہی ہے لیکن یہ بات شاید کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ جو سروس وہ اپنے گھر بیٹھے استعمال کر رہے ہیں اس کا منبع ایک نہیں۔ انٹرنیٹ دراصل تقریبا ڈھائی لاکھ نیٹ ورکس کا مجموعہ ہے، ایسے نیٹ ورکس جو اپنی مرضی سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ یہ ڈھائی لاکھ نیٹ ورکس ایک دوسرے سے جڑے رہیں، کلنٹن انتظامیہ نے1998 میں کیلیفورنیا میں ایک ادارہ قائم کیا تھا۔ کئی ممالک ’آئی کین‘ کےاس دعوٰی سے اتفاق نہیں کرتے۔ان کے مطابق چونکہ ’آئی کین‘ ایک کمپنی نہیں ہے بلکہ امریکہ کے محمکہ تجارت کے ساتھ کیےگئے ایک معاہدے کے تحت کام کرنے والا ادارہ ہے اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ وہ امریکی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ امریکہ ’ آئی کین‘ کی وساطت سے انٹرنیٹ کی عالمی سروس کو اپنے زیر اثر رکھنا چاتا ہے۔ ’آئی کین‘ کے جنرل مینیجر اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’حقیقت یہ ہے کہ انٹرنیٹ کوکوئی ایک حکومت یا ادارہ کنٹرول نہیں کر رہا۔ یہ نظام دراصل کئی کمپنیوں کا مجموعہ ہے جس میں کاروباری کمپنیاں، نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والے شامل ہیں۔ عالمی سطح پر انٹرنیٹ کو چلانا ان سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔‘ آکسفورڈ یونیورسٹی کے انٹرنیٹ کے قوانین کے ماہر کے مطابق ’ ہم جانتے ہیں کہ کئی ممالک اس بات کو یوں نہیں دیکھتے اور وہ انٹرنیٹ پر امریکہ کی اجارہ داری سے خوش نہیں ہیں، چاہے یہ اجارہ داری محض علامتی ہی کیوں نہ ہو‘
جوناتھن زیٹرین کا کہنا ہے کہ ایران، کیوبا اور چین جیسے ممالک چاہتے ہیں کہ انٹرنیٹ کو کنٹرول کرنے میں مختلف حکومتوں کا کردار بڑھایا جانا چاہیے۔ اسی طرح کئی افریقی سیاستدان اور یورپی یونین کے ممالک بھی اس بات کے خواہش مند ہیں کہ انٹرنیٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک عالمی ادارہ ہونا چاہیے۔ امریکی انتظامیہ اور امریکی کانگریس ان ممالک کی تجاویز سے اتفاق نہیں کرتے۔ امریکہ کےمحکمہ کامرس اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس بات پر زور دیا ہے امریکی حکومت اور ’آئی کین‘ کا ملاپ ہی دنیا میں انٹرنیٹ کی بلارکاوٹ اور اچھی سروس کی ضمانت ہے۔ ایک امریکی اخبار کے نام اپنے خط میں حکومتی پارٹی کے ایک سنیٹر نے حال ہی میں لکھا ہے کہ ’ اس بات کی کوئی منطقی دلیل نہیں ہے کہ ہم انٹرنیٹ پر کنٹرول کے معاملے کو سیاسی رنگ دیں اور اسے اقوام متحدہ کے ڈھانچے میں لانے کی کوشش کریں۔‘ قطع نظران مخلتف نقطہ ہائے نظر کے انٹرنیٹ کے ماہرین کی نظر تنزانیہ میں ہونے والی کانفرنس پر لگی ہوئی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس موقع پر امریکہ اور اس کےمخالفین کے درمیان انٹرنیٹ کنٹرول کےمعاملہ پراختلافات ضرور سامنے آئیں گے۔ | اسی بارے میں انٹرنیٹ پر سیاسی سرگرمیاں06 June, 2004 | نیٹ سائنس انٹرنیٹ کانظام چلانے پر اختلاف19 July, 2005 | نیٹ سائنس انٹرنیٹ کا بانی، گوگل میں شامل 10 September, 2005 | نیٹ سائنس انٹرنیٹ سب کے لئے02 November, 2003 | نیٹ سائنس انٹرنیٹ: کوہ ہمالیہ کے گاؤں میں بھی25 May, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||