پاکستان میں انٹرنیٹ کے دس سال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوں تو انٹرنیٹ نوے کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں پوری دنیا میں عام ہوا اور پاکستان میں انٹرنیٹ کا تعارف انیس سوچرانوے میں ای میل کی صورت میں اس وقت ہوا جب لاہور میں دو نوجوانوں نے ’عمران نیٹ‘ کے نام سے ایک ای میل سروس قائم کی۔ اسی سال کراچی میں ’ڈجی کام‘ کے نام سےایک کمپنی قا ئم ہوئی جس نے ابتدا میں کراچی، لاہور ، فیصل آباد ، اسلام آباد اور پشاور کو ای میل سروس فراہم کی اور پھر انیس سو پچانوے میں کراچی میں انٹرنیٹ متعارف کرایا۔
اس وقت سے لے کر اب تک پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال اور سروس میں خاصی اہم تبدیلیاں رو نما ہوچکی ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ یا پی ٹی سی ایل کے اعداد کے مطابق اب تک پاکستان کے ایک ہزار آٹھ سو اٹھانوے چھوٹے اور بڑے شہروں میں انٹرنیٹ کی سہولت پہنچا دی گئی ہے اور جہاں دس سال قبل ملک کی کل مطلوبہ بینڈوڈتھ بیس سے تیس میگا بائیٹ تھی اب یہ بڑھ کرسات سو پچھتر میگا بائیٹ سے لے کر ایک گیگا بائیٹ تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تنظیم اسپاک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں چوبیس لاکھ انٹرنیٹ کے ایسے صارفین موجود ہیں جو ڈائیل اپ کنیکشن (یعنی موڈیم اور ٹیلی فون لائن) کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرتے ہیں جبکہ ملک میں پینتس ہزار براڈ بینڈ انٹرنیٹ کنکشن جاری کئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں ڈائیل اپ اور براڈ بینڈ کے علاوہ انٹر نیٹ کے ایسےصارفین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے جو سائبر کیفے اور کیبل انٹرنیٹ کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور ان صارفین کا کوئی درست ڈیٹا یا صحیح شمار دستیاب نہیں ہے۔ تاہم اسپاک کے سیکریٹری وی اے عابدی کے مطابق ایسےانٹرنیٹ صارفین کی تعداد پچاس لاکھ کے قریب ہو سکتی ہے۔ گذشتہ دس سالوں میں پاکستان میں انٹرنیٹ کی مقبولیت اور صارفین کی تعداد میں مستقل اضافہ ہوا ہے لیکن انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اسپاک کے اعدادوشمار کے مطابق پہلے پانچ سالوں میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تعداد دو سے بڑھ کر ایک سو چالیس ہوگئی تھی لیکن گذشتہ تین برسوں میں ان کمپنیوں میں پچاس فیصد کمی واقعہ ہوئی ہے اور اب انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تعداد کم ہوکر ستر ہوگئی ہے۔ وی اے عابدی کے مطابق اس رجحان کی وجہ کمپنیوں کی کمزور کاروباری حکمت عملی ہے۔ نوے کے عشرے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اس سے منسلک اقتصادی فوائد دیکھتے ہوئے بہت سی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں کھل گئیں تھیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کمزور کارکردگی یا خراب کاروباری حکمت عملی کی وجہ سے ان کی چھانٹی ہوگئی۔ جہاں تک ملک میں انٹرنیٹ کے صارفین کی تعداد میں اضافے کا رجحان ہے اس کی وجہ عوام میں انٹرنیٹ کا بڑھتے ہوئے شعور کے ساتھ ساتھ ملک میں بینڈ وِتھ کے نرخوں میں کمی بھی ایک اہم وجہ ہے۔ اسپاک کے مطابق انیس سو پچانوے میں دو میگا بائیٹ بینڈوتھ کی قیمت پچاسی ہزار ڈالر تھی جو اب کم ہو کر دو ہزار ڈالر ہو گئی ہے جس کی بدولت ملک میں انٹرنیٹ صارفین میں اہم اضافہ رونما ہوا ہے۔
نوٹ: یہ آرٹیکل بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر شائع کی جانے والی ایک ایسی سیریز کا پہلا حصہ ہے جس میں پاکستان میں انٹرنیٹ کی سہولت اور اس کے فروغ کا جائزہ لیا جائے گا۔ اگلی کڑی میں پاکستان میں براڈ بینڈ کی سہولت کا جائزہ لیا جائےگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||