پاکستان اور براڈبینڈ انٹرنیٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں انٹرنیٹ کے ابتدائی سالوں میں عام لوگوں کوانٹرنیٹ تک رسائی پہنچانے کے لیےڈائل اپ کنیکشن نے اہم کردار ادا کیا۔ تاہم ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ارتقا کے ساتھ پاکستان میں بھی تیز رفتار انٹرنیٹ کنکشن یعنی براڈبینڈ کا متعارف ہوا۔ یوں تو دیگر ممالک میں براڈبینڈ کی اصطلاح کےمختلف معنی تصّور کیے جاتے ہیں مگر عموما اس کا مطلب ہر وقت جاری رہنے والا تیز کنکشن سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں دو ہزار دو میں پہلا براڈبینڈ کنکشن فراہم کیا گیا جبکہ دسمبر دو ہزار چار میں پاکستان کی براڈبینڈ پالیسی مرتب ہوئی۔ اس پالیسی میں پاکستان میں براڈبینڈ کی تعریف کچھ یوں کی گئی ہے۔ ’ہر وقت قائم یا جاری رہنے والا ایسے انٹرنیٹ کنکشن جسکی ڈاؤن لوڈ اسپیڈ شیرڈ یا مشترکہ کنکشن کی صورت میں ایک سو پچیس کلو بائیٹ فی سکینڈ ہو یا والیوم بیسڈ کنکشن کی صورت میں دو سو چھپن کلو بائیٹ فی سکینڈ ہو۔‘
پاکستان کی براڈبینڈ پالیسی کے مطابق جون دو ہزار چار تک پاکستان میں براڈبینڈ کے صارفین کی تعداد تفریبا انتیس ہزار تھی، جس میں دس فیصد ڈی ایس ایل(ڈیجیٹل سبسکرابر لائن) ، اناسی فیصد کیبل انٹرنیٹ اور ایک فیصد سے بھی کم سیٹلائٹ اور وائرلیس براڈبینڈ کے صارفین تھے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تنظیم اسپاک کے مطابق اگست دو ہزار پانچ تک پاکستان میں براڈبینڈ کے صارفین کی تعداد پینتیس ہزار ہو گئی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی سہ ماہی اشاعت ٹیلی کام کواٹرلی رویو کے مئی دو ہزار چار کے شمارے کے مطابق ملک بھر میں بارہ ہزار تین سو ڈی ایس ایل کے کنکشں دئیے جا چکے ہیں اور اب تک کراچی ، لاہور، اسلام آباد، ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ اور پشاور میں ڈی ایس ایل کی سہولت دستیاب ہے۔ ان اعداد کو مدنظر رکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں صرف.1.43 فیصد انٹرنیٹ صارفین براڈبینڈ تک رسائی رکھتے ہیں۔ ورلڈ کال براڈبینڈ لمیٹڈ کے چیف آپریٹنگ آفسر عدنان اسلم کے مطابق ’پاکستان میں براڈبینڈ انٹرنیٹ کی کم رسائی کی ایک وجہ پاکستان میں براڈبینڈ کے لیے درکار تکنیکی ڈھانچہ یعنی اس سروس کی فراہمی کے لیے درکار’ کاپر وائر‘ غیر تسلی بخش ہے اور اس پہلو پر حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘ دوسری جانب ملٹی نیٹ پاکستان کے چیف آپریٹنگ آفسر ناصر خان غازی پاکستان میں براڈ بینڈ کے مستقبل کے بارے میں پر امید ہیں۔ ان کے مطابق ’دنیا بھر میں ڈائیل اپ کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر نے کا رجحان اب متروک ہورہا ہے اور پاکستان میں ڈائیل اپ انٹرنیٹ کی مارکیٹ اب نقطہ سیری تک پہنچ چکی ہے۔ ملک میں ڈی ایس ایل اور براڈبینڈ انٹرنیٹ کے فروغ کے لیےجہاں درست تکنیکی ڈھانچہ کی ضرورت ہے اتنی ہی عوام میں اس ٹیکنالوجی کے بارے میں شعور اور اس تک رسائی کے ذریعے فراہم کی ضرورت بھی ہے۔‘ نوٹ: یہ آرٹیکل بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر شائع کئے جانے والے اس سلسلے کا حصہ ہے جس میں پاکستان میں انٹرنیٹ کی سہولت اور اس کے فروغ کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس سلسلے کے تیسرے اور آخری حصے میں پاکستان میں انٹرنیٹ کے مستقبل کے بارے میں تجزیہ کیا جائےگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||