پاکستان میں انٹرنیٹ کا مستقبل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں انٹرنیٹ کو متعارف ہوئے دس سال ہو گئے ہیں اور پاکستان کے انٹرنیٹ کے صارفین کی ضرویات پوری کرنے کے لیے صرف ایک بین الاقوامی انٹرنیٹ کیبل لنک زیر آب ’سی می وی تھری کیبل‘ کی صورت میں موجود ہے۔ فجیرہ اور سنگا پور سے ہوتا ہوا کراچی تک آنے والا زیر سمندر سی می وی تھری کیبل پانچ ’ایس ٹی ایم ون لائنیں‘ فراہم کرتا ہے جو ایک سو پچپن میگا بائیٹ فی سکینڈ کی رفتار سے ڈیٹا ٹرانسفر کرتی ہیں یعنی اس زیر آب کیبل سے پاکستان کو کُل سات سوپچھتر میگا بائیٹ فی سکینڈ کی بینڈوِتھ فراہم ہوتی ہے۔ ستائیس جون کو اس زیر سمندر انٹرنیٹ فائبر کیبل میں فنی خرابی پیدا ہوجانے کی وجہ سے ملک کی تاریخ میں انٹرنیٹ کا بدترین بحران واقعہ ہوا جو بارہ دن تک جاری رہا۔
اس دوران ملک میں انٹرنیٹ کا نظام بڑے پیمانے پر تعطل کا شکار رہا جس کی وجہ سے نہ صرف عام انٹرنیٹ صارفین کو مشکلات کا سامنا کر نا پڑا بلکہ انٹرنیٹ سے منسلک کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔ واضح رہے اس انٹرنیٹ بلیک آوٹ سے قبل ایک اور کیبل نظام ’فلیگ کیبل‘ کو سی می وی تھری کیبل کے متبادل نظام کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ انٹرنیٹ کے اس بریک ڈاؤن نے یہ واضح کر دیا کہ فلیگ بھی دراصل سی می وی تھری کیبل کے سہارے پاکستان تک آرہا تھا لہٰذاجب خرابی سی می وی تھری میں پیدا ہوئی تو فلیگ بھی بند ہوگیا۔ اس بحران نے پاکستان کے انٹرنیٹ کے نظام کی کمزوری اور سی می وی تھری کیبل کے موزوں متبادل انتظام کی غیر موجودگی کو واضح کر دیا۔ تو کیا مستقبل میں بھی صورتحال یوں ہی رہے گی؟ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تنظیم اسپاک کےسیکریٹری وی اے عابدی کے مطابق گذشتہ سال پاکستان نے سی می وی فور زیرآب فائبر آپٹک کیبل کی شمولیت کے لیے ایک معاہدے پردستخط کر لیے ہیں۔ سی می وی فور کیبل بھارت اور مشرق وسطٰی سے ہوتی ہوئی جنوب مشرق ایشیا سے یورپ تک جائے گی اور امید ہے کہ یہ سال کے آخر تک کام شروع کر دے گی۔ اس کے علاوہ حکومت نے متعلقہ اداروں کو ملک میں کیبل بچھانے کے لیے لائسنس بھی جاری کردئیے ہیں۔ ان کمپنیوں میں ایک ’وطین‘ بھی ہے جوچناب اور سندھ کے گردونواح کے علاقوں میں کیبل بچھانے کے ساتھ ساتھ ایک کیبل پسنی سے گزرتا ہوا متحدہ عرب امارات تک بچھانے کا کام بھی کر رہی ہے۔ ایک اور کیبل خنجراب پاس کے راستے چین اور وہاں سے بحرالکاہل تک جائے گا۔ حکومت پاکستان امرتسر سے واہگہ تک ایک فائبر آپٹک کیبل کا انتظام بھی کر رہی ہے۔ ان متبادل فائبر آپٹک لنکس کی موجودگی کے بعد پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت میں مثبت تبدیلی ہونے کی امید ہے۔ دوسری جانب انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی سائبرنیٹ کے ڈائریکٹر اور اسپاک کے صدر انصارالحق کے مطابق پاکستان کے لیے چار کیبل بھی کافی نہیں ہیں۔ بنگلہ دیش، سری لنکا، سنگاپور اور ملائشیا جیسے ایشیائی ممالک کے پاس بھی چھ سے آٹھ فائبر آپٹک کیبل ہیں۔ یہ سب کام ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے بنا پر کیا گیا ہے تا کہ اگر ان میں سے ایک کیبل میں خرابی یا تعطلی ہو تواس کی متبادل کیبل سے کام لیا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ ان تمام ممالک میں انٹر نیٹ سروس فراہم کر نے والی کمپنیوں اور ڈیٹا آپریٹر کو پرائیویٹ گیٹ وے کھولنے اور چلانے کی اجازت بھی ہے۔مسٹر انصارالحق کے مطابق پاکستان میں بھی پرائیویٹ گیٹ وے کھولنے کی اجازت ہونی چاہئیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||