انٹرنیٹ ’کیدو‘ بنا ہوا ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں کچھوے کی سی رفتار سے چلنے والے انٹر نیٹ نے کمپیوٹر استعمال کرنے والے عام شہریوں کی زندگی پر بھی برا اثر ڈالا ہے۔ متاثرین کی سب سے بڑی تعداد مختلف میسنجر پر چیٹنگ یعنی کمپیوٹر کے ذریعے مختصر اور فوری بات چیت کرنے والوں پر مشتمل ہے۔ لاہور میں انٹر نیٹ کلبوں کے کاروبار کو بھی سخت نقصان پہنچا ہے۔ کئی کیفے، انٹر نیٹ کی رفتار تیز ہونے تک کے لیے بند کر دئیے گئے ہیں۔ لاہور کی کوئنز روڈ پر ساتھ ساتھ چار انٹر نیٹ کیفے ہیں جن میں سی ایک آج کل بند ہے اور باقیوں میں معمول سے کہیں کم صارف نظر آتے ہیں۔ راک انٹرینٹ کیفے کے منیجر بشارت علی نے کہا کہ وہ تین سال سے اس پیشہ سے منسلک ہیں۔ اس دوران اکثر قومی سطح پر انٹر نیٹ ایک دو روز کے لیے متاثر ہوتا تھا لیکن اس بار ریکارڈ خرابی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پچھتر فی صد صارف صرف اور صرف میسنجر چلانے کے لیے آتے ہیں لیکن آج کل میسنجر ہی نہیں چلتا اور بہت سست رفتاری سے صرف یاہو کی میل کھل سکتی ہے۔ ان کے کیفے میں بیٹھے لوگوں کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ صرف یاہو پر میل دیکھنے اور بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم کبھی کبھار ہاٹ میل بھی کھل جاتی ہے۔ مختلف صارفین نے بتایا کہ انٹر نیٹ کو بند اور سست ہوۓ کوئی چار دن ہونے کوآۓ ہیں اور اس کی سست رفتار ایک جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر دیتی ہے۔ راک کفیے میں ہی موجود مزنگ کے ایک نوجوان خرم شہزاد کے بھائی دو ماہ پہلے ہی سپین گئے ہیں اور وہ ان کی خیریت کے لیے فکر مند تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تین دن سے کیفے کا چکر لگا رہے ہیں۔ ’انٹرنیٹ کبھی بہت ہی سست روی سے چلتا ہے تو کبھی ہٹ دھرم ہوجاتاہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف میل کے ذریعے اپنے بھائی سے رابطہ کر پا رہے ہیں لیکن اس سے دونوں بھائیوں کی تسلی نہیں ہوپا رہی۔ ان سے بات کے دوران اچانک ہاٹ میل کا میسنجر کھل گیا جس سے ان کا چہرہ بھی کھل اٹھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ آدھے گھنٹے سے بار بار سائن ا ن ہو رہے تھے جب جاکر یہ کھلا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بھائی سپین سے آن لائن ہیں۔اور وہ ا ن سے چیٹنگ میں مصروف ہوگئے۔ ٹاؤن شپ کے رہائشی ایک نوجوان احسان شوکت نے کہاکہ ان کی محبوبہ انہیں بار بار موبائل فون کے ذریعے مختصر پیغامات بھیج رہی ہیں ’اور کہہ رہی ہیں کہ انہوں نے میرے نام ای کارڈ بھیجے ہیں۔ میں وہ کارڈ وصول کرنے کے لیے بے چین ہوں کہ کب انٹر نیٹ کھلے اور میں محبت نامے وصول کر پاؤں‘۔ انہوں نے کہا کہ میں صبح چار بجے تک جاگوں گا تاکہ جب بھی انٹر نیٹ پر لوڈکم ہو میں پیار بھرے پیغام پڑھ سکوں ۔ انہوں نے انٹر نیٹ کے سست رفتار ہونے پر اسے پنجابی لوک کہانی ’ہیر رانجھا‘ کے ایک منفی کردار سے تشبیہ دی اور کہا کہ انٹر نیٹ تو’ کیدو‘ ہی بن گیا ہے جو ہیر اور رانجھا کے ملنے میں حائل رہتا ہے۔ انٹر نیٹ سے مخلتف معلومات حاصل کرنے والے لوگ بھی پریشانی کا شکارہیں جس میں خاص طور پر طلبہ متاثر ہو رہے ہیں۔ انٹر نیٹ جو حالات حاضرہ کی معلومات کی رسائی کا ایک ذریعہ اس نے انٹر نیٹ اخبارات کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایک طرف تو ان کے صفحات عام صارفین کے لیے آسانی سے کھلتے ہی نہیں اور اگر کھل جائیں توان پر پوری خبریں اور مضامین وغیرہ نہیں ملتے۔ پاکستان کے ایک بڑے اشاعتی ادارے نوائے وقت گروپ کے ٹیکنیکل منیجر کمپیوٹرز قیصر ندیم نے کہا کہ ان کی بریکنگ نیوز دینے کا سلسلے بری طرح متاثر ہوا اور ایک ایک خبر پانچ سے سات گھنٹے کی تاخیر کے بعد کمپیوٹر کے ویب صفحے پر شائع کی ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معمول میں ان کے ادارہ کے صفحات رات دو سے تین بجے کے دوران لوڈ کر دئیے جاتے ہیں لیکن اب یہ صبح نو بجے تک لوڈ ہوپاتے ہیں۔ پاکستان کے ہی ایک اور بڑے اشاعتی ادارے جنگ گروپ کی ویب سائٹ کراچی سے لوڈ کی جاتی ہے جہاں انٹر نیٹ کی صورتحال کچھ زیادہ خراب ہے۔ امریکہ اور کینیڈا سے نکلنے والے چند ایک اخبارات کا میٹریل پاکستان سے تیارہو کر منتقل کیا جاتا ہے لیکن اس بار کئی ایک کا میٹریل منتقل نہیں ہو پایا اور انہیں پرانی خبروں اور مضامین وغیرہ سے کام چلانا پڑا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||