انٹرنیٹ: ابھی چار دن اور لگیں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ٹیلی مواصلات کے سرکاری ادارے پی ٹی سی ایل کے سربراہ جنید خان کا کہنا ہے کہ ملک کو زیرِ سمندر انٹرنیٹ کے فائبر لِنک میں فنی خرابی کی وجہ سے انٹرنیٹ اور بین الاقوامی ٹیلی فون سروس میں تعطل کو دور کرنے میں کم از کم چار دن لگیں گے۔ اس خرابی کی وجہ سے ملک میں انٹرنیٹ کیفے، بینک، کال سینٹرز، سٹاک ایکسچینج، فضائی کمپنیوں سمیت بہت سے کاروباری اداروں کا کام بہت متاثر ہوا ہے۔ پی ٹی سی ایل کے سربراہ نے بدہ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس خرابی کو دور کرنے کے لئے متحدہ عرب امارات سے ایک بحری جہاز پاکستان کے لئے صبح چل پڑا ہے جو اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں اس جگہ پہنچے گا اور وہ جگہ تلاش کرے گا جہاں یہ خرابی واقع ہوئی ہے۔ پی ٹی سی ایل کے سربراہ کے مطابق یہ خرابی بحری جہاز کے پاکستان کی سمندری حدود میں پہنچنے کے بعد دو روز کے اندر اندر ٹھیک ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی سی ایل نے متبادل انٹرنیٹ نظام کے طور پر سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ رابطے کے لئے کچھ سرکٹ حاصل کئے ہیں۔ پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی ضروریات چا سو سے پانچ سو میگا بائٹ فی سیکنڈ کی ہیں جبکہ اس وقت صارفین کو صرف ایک سو میگا بائٹ مل رہی ہیں۔ تاہم پی ٹی سی ایل حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح تک ملک میں کمرشل صارفین کو دو سو میگا بائٹ تک بینڈوڈتھ مل سکے گی۔ پاکستان میں اس وقت پچاس سے زائد انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیاں کام کررہی ہیں جن کے تقریباً ایک کروڑ کے لگ بھگ صارفین ہیں۔ واضح رہے کہ ان کمپنیوں کا پی ٹی سی ایل سے دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ ملک میں فائبر لِنک کا مناسب متبادل انتظام رکھا جائے تاکہ کسی حادثہ کی صورت میں انٹرنیٹ ٹریفک میں کوئی تعطل نہ آئے۔ اسلام آباد کے ایک بڑے انٹرنیٹ کیفے بروڈبینڈ کے مالک نادر منہاس کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو روز سے ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے کسٹمر آتے تو خوشی سے ہیں مگر کیونکہ انٹرنیٹ کی رفتار بہت آہستہ ہے لہذا جب وہ براؤزنگ نہیں کر پاتے تو وہ انٹرنیٹ کیفے کی انتظامیہ کو برا بھلا کہتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح ٹچ سٹون نامی کال سینٹر کے مینیجنگ ڈائریکٹر فخر الاسلام کا کہنا ہے کہ ان کے دو کلائنٹ اس انٹرنیٹ رابطے میں خرابی کے باعث ان کی کمپنی سے معاہدہ ختم کر چکے ہیں اور انھیں ڈر ہے کہ مذید کلائنٹس بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ پی ٹی سی ایل انتظامیہ کا موقف ہے کہ ایسی خرابی گذشتہ پانچ سال میں پہلی دفعہ ہوئی ہے تاہم انٹرنیٹ صارفین کا کہنا ہے کہ پی ٹی سی ایل کو کم از کم کوئی متبادل ذریعہ تو بیک اپ کے طور پر رکھنا چاہئے تاکہ مستقبل میں ایسی کوئی بات نہ ہو۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||