’انٹرنیٹ دل جیت رہا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ خیال کہ مسلمانوں کے دل ودماغ جیتنے کی جنگ فلوجہ میں یا مساجد میں ہو رہی ہے غلط ہے۔ یہ جنگ انٹرنیٹ پر لڑی جا رہی ہے۔ اسلامی امور کے ایک مغربی ماہر کے مطابق حکومتوں کو اس بارے میں غور کرنا چاہیے کہ وہ سائیبر سپیس میں ہونی والی اس جنگ کو کیسے جیتیں گے۔ مثلاً اسی ہفتے مسلمانوں کی ایک برطانوی ویب سائٹ پر یہ بحث ہو رہی تھی کہ مایوس مسلمان نوجوان ’وہابوائز` کیونکر بن جاتے ہیں۔ وہا بوائز کی اصطلاح لفظ ’وھابی‘ سے ہے اور اس سے مراد وہ لڑکے ہیں جو سعودی طرز کے کٹڑ اسلام سے متاثر ہیں۔ اور اس بحث سے صرف ایک ہفتہ قبل ہالینڈ کے ایک متنازعہ فلمساز کو مبینہ طور پر ایک شدت پسنداسلامی گروپ نے ہلاک کر دیا تھا۔ اگرچہ ان دونوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تاہم یہ دونوں ایک ہی سمت میں اشارہ ضرور کرتے ہیں اور وہ ہے براعظم یورپ میں مسلمانوں کی شناخت۔ پروفیسر گلس کیپل کے بقول انٹرنیٹ دل و دماغ کی اس جنگ میں اگر مرکزی کردار ادا نہیں کر رہا تو بہت اہم ضرور ہے۔ یاد رہے پروفیسر کیپل فرانس میں اس کمیشن کے ممبر بھی رہ چکے ہیں جس نے حکومت کو یہ سفارش کی تھی کہ فرانس میں لوگوں کو کسی مذھبی علامت کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ کمیشن کی اس سفارش کا بظاہر نشانہ مسلمان لڑکیوں کا سکارف پہن کا تعلیمی اداروں میں جاناتھا۔ پروفیسر کیپل اس خیال کے حامی نہیں ہیں کے دنیا میں اب’تہذیبوں کا تصادم‘ ہو کر رہے گا لیکن اپنی نئی کتاب ’وار فار مسلم مائینڈ`(مسلمان ذہن کے لیے جنگ) میں ان کا کہنا ہے کہ مسلمان معاشروں کو ماڈرن بنانے کے لیے جنگ کا اصل میدان مغربی معاشرہ ہوگا۔
اگر یورپی حکومتیں نوجوان مسلمانوں کی کامیابی کو یقینی بناتی ہیں تو یہ نوجوان اپنے اچھے تجربات سےمشرقی معاشروں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر یہ حکومتیں ایسا نہیں کرتیں تو مایوس مسلمان نوجوان ان لوگوں کے شکوک کو تقویت دیں گے جو کہ مغربی معاشرے کے خلاف ہیں۔ ایسی سینکڑوں ویب سائٹس،ای گروپ اور دوسرے فورم موجود ہیں جن کو آپ شدت پسندوں کے زمرے میں رکھ سکتے ہیں۔ ان میں سے کئی ایک سلفی نظریات کی تبلیغ میں مصروف ہیں۔ لیکن دوسری طرف ایسی کئی ایک سائٹس بھی موجود ہیں جومعتدل اسلام کی ترویج کر رہی ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ نوجوان یورپی مسلمانوں تک پہنچنے کے لیے ایسی ویب سائٹس آپس میں مقابلہ کر رہی ہیں۔ مغرب میں سلفی نظریات کے عروج کے بارے میں پروفیسر کیپل کہ کہنا ہے کہ یہ انٹرنیٹ کا مرہونِ منت ہے کیونکہ مغربی نوجوان سلفی نظریات کے مرکز یعنی عرب دنیا سے اسی ذریعہ سے رابطہ رکھتے ہیں اور ہدایات حاصل کرتے ہیں۔ پروفیسر کیپل کا یہ کہنا کہ ویب سائٹس اور رویوں میں تبدیلی میں تعلق پایا ہے اپنی جگہ پر لیکن اس بات کا تعین کرنا کہ کسی رویے میں تبدیلی کی وجہ انٹرٹیٹ ہی ہے، اتنا آسان نہیں۔ پروفیسر کیپل کہ کہنا ہے کہ سائیبر نیٹ اس قدر پراثر ذریعہ بن چکا ہے کہ ایک مبلغ چالیس سال کی تبلیغ میں اتنا اثر نہیں چھوڑ سکتا جو یہ ویب سائٹس چھوڑ سکتی ہیں۔
’امریکہ اپنے سمارٹ بموں سے تورا بورا کے غاروں میں بنائے گئے بیس ( یا ٹھکانے) کوتو بڑی آسانی تباہ کر سکتا ہے لیکن یہ بم ’ڈیٹا بیس‘ کو نہیں تباہ کر سکتے‘۔ قصہ مختصر پروفیسر کیپل کے مطابق مسجد نہیں بلکہ انٹرٹیٹ وہ جگہ ہے جہاں نوجوان نئے رشتے، نئے رابطے بنا رہے ہیں اور یہ وہ رابطے ہیں جو ان نوجوانوں کے اردگرد کےماحول سے کوئی میل نہیں کھاتے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||