فلمساز کی ساتھی کو موت کی دھمکی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کو ایسٹرڈیم میں قتل کیے جانے والے فلمساز تھیو واں گوف کی لاش کے ساتھ منسلک پیغام میں ہالینڈ کی ایک سیاستدان کے نام موت کی دھمکی دی گئی ہے۔ ہالینڈ کے وزیر انصاف نے کہا ہے کہ مذکورہ خط میں لبرل پارٹی کی نائب عیان حرسی علی کے نام کھلی دھمکی دی گئی ہے۔ حرسی علی ہالینڈ میں قیام پذیر صومالی پناہ گزین ہیں اور انہوں نے واں گوف کی متنازعہ فلم ’سبمِشن‘ کا سکرپٹ لکھا تھا۔ یاد رہے کہ واں گوف کے قتل کے سلسلہ میں جو نوافراد گرفتار کئے گئے ہیں ان سب کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ شدت پسند مسلمان ہیں۔
وزیرانصاف پیٹ ہاین ڈونر کے مطابق دھمکی آمیز خط پر ایک نامعلوم گروپ کی طرف سے دستخط بھی موجود ہیں۔ مذکورہ خط ڈچ زبان میں لکھا ہوا ہے جبکہ اس میں عربی میں اصل قرآنی آیات اور ڈچ زبان میں ان کا ترجمہ بھی شامل ہے۔ ایک دوسراخط گرفتار کیے جانے والے ایک مشتبہ فرد سے بھی ملا ہے جس کا متن الوداعی نوعیت کا ہے اور اس میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ اپنے مذہب کے لیے شہید ہونے کے لیے تیار ہے۔ ہالینڈ کے حکام گرفتار شدہ نوافراد کے بیرون ممالک دہشت گرد گروہوں کے ساتھ رابطے کے بارے میں تفتیش کر رہے ہیں۔ وہ اس بات کا بھی کھوج لگا رہے ہیں کہ آیا ان افراد کا گزشتہ برس کے کاسابلانکا بم دھماکے سے بھی کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||