BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 March, 2006, 12:06 GMT 17:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عالمی یومِ مردانگی‘

مرد کیا کرے؟

مرد اگر عورت پر ہاتھ اٹھائے تو ظالم اور اگر عورت سے پٹ جائے تو زنخا ۔عورت کے آگے چلے تو فرعون اور پیچھے چلے تو زن مرید۔ اگر عورت کو چھوڑ دے تو سنگدل لیکن عورت اسے چھوڑ دے تو نامرد۔ عورت کو کسی اور کے ساتھ دیکھ کر مشتعل ہوجائے تو جیلس (جل ککڑا) اگر مشتعل نہ ہو تو بے غیرت۔ عورت کو کام کرنے سے روکے تو دقیانوس نہ روکے تو عورت کی کمائی کھانے والا۔ عورت پر شک کرے تو نفسیاتی مریض اور نہ کرے تو بے حس اور اگر عورت اس پر شک کرے تو بے وفا۔ مرد گھر سے باہر رہے تو آوارہ اگر گھر میں رہے تو ناکارہ۔ بچوں کو ڈانٹے تو جابر نہ ڈانٹے تو لاپرواہ۔ عورت سے چھیڑ چھاڑ کرے تو فرسٹریٹڈ لیکن عورت کی چھیڑ چھاڑ پر برامانے تو بے وقوف۔ عورت کی تعریف کرے تو فلرٹ نہ کرے تو بدمزاج۔ بحث کرے تو جھکی نہ کرے تو میسنا کہلائے۔ گرل فرینڈ یا بیوی کی فرمائشیں پوری نہ کرے تو کنجوس اور اپنے لئے کچھ نہ خریدے تو زندگی سے بے زار۔

عورت نے تو چیخ چلا کر رو دھو کر عالمی یومِ خواتین منانے کا حق منوا لیا لیکن اپنی ہی مردانگی کے بھاری پتھر تلے کراہنے والے آدمی کا عالمی یوم کب منایا جاوے گا۔ کیا مرد کی قسمت میں صرف عورت کو منانا ہی لکھا ہے؟

آپ کا کیا خیال ہے؟

وحید شاد، بلوچستان:
پیارے وسعت اللہ خان۔ آپ کا ومینز ڈے کا مراسلہ ویب سائٹ سے پڑھ لیا لیکن جو مرد اس تمام معاملے میں خود ومینز ڈے میں آگے آگے ہوں تو ان مردوں کو کیا کہا جائے؟ ایک بلوچ ہونے کے ناطے ہم آج کل عورتوں کو ان کا جائز حق دینے پر زور دیتے ہیں اور ہمارے بلوچ معاشرے میں عورت کی مثال ایسی ہے کہ صدیوں سے جاری جنگیں عورت کے میدان عمل میں آنے سے بند ہو گئی ہیں۔۔۔

شیما صدیقی، کراچی، پاکستان:
یہ اس ڈرامے کا پلاٹ ہے جس کو تیار بھی ایک مرد نے کیا ہے۔ اس کی تصویر اتنی ہی مکمل ہے کہ ایک ہی زندگی کا رنگ نظر آتا ہے۔ لیکن آپ اپنے ہی ڈرامہ کو دیکھ لیں جو آج کل بی بی سی پر چل رہا ہے۔ دیکھ لیں کہ کون مظلوم ہے اور کون ظالم۔۔۔

شاہ زاد ملک، چکوال، پاکستان:
عورت پیار مانگتی ہے، توجہ مانگتی ہے، وقت مانگتی ہے اور سب سے بڑھ کر چاہیے جانے کا احساس چاہتی ہے۔ مرد عورت کو صرف ایک یا دو چیزیں دے کر سمجھتا ہے کہ اس نے اپنا حق ادا کر دیا۔ غلطی مرد کی ہے اور عورت مظلوم ہے۔ میرا اختلاف آپ سے اور ووٹ عورتوں کے لیے ہے۔

سید شاداب، کینیڈا:
دل جلتا ہے تو جلنے دے، آنسو نہ بہا فریاد نہ کر
تو پردہ نشیں کا عاشق ہے، تو نامِ وفا برباد نہ کر۔۔۔

اجمل میندھرانی، کراچی، پاکستان:
وسعت بھائی خوب کہا آپ نے۔ جس طرح ایک کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے بالکل اسی طرح ایک ناکام مرد کے آگے ایک عورت ہوتی ہے۔۔۔

رانا اختر، لاہور، پاکستان:
واہ بھائی واہ۔ گل کر کے دل وِچ ٹھنڈ پا دِتی اے۔ شالا عمر دراز ہووے۔

محمد سلیمان، سپین:
واہ وسعت بھائی، دل جیت لیا، خدا آپ کو لمبی عمر عطا کرے۔

شبیر الحس صدیقی، قطر:
آپ نے بالکل ٹھیک لکھا ہے اور اس سلسلے میں جلد ہی میری ایک کتاب شائع ہونے والی ہے جس کا نام ہے ’سارے بکرے میرے اپنے ہیں‘۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
آپ نے صحیح معنوں میں ایک مرد کی بے بسی اور بدبختی کی تصویر پیش کی ہے۔ اس وقت اگر سوچا جایے تو مختاراں مائی کو عالمی عورت بنانے میں بھی مرد کا ہی ہاتھ ہے۔ مرد کا رول ختم نہیں ہوا، فرق صرف اتنا ہے کہ کہیں تو وہ صحیح رول پلے کررہا ہے اور کہیں فاؤل پلے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ایک عورت بھی صحیح معاشرتی کردار ادا کر رہی ہے؟ کیا وہ بھی ایک ہی وقت میں دو اور تین معصوم مردوں کو بے وقوف نہیں بنا رہی؟

فاروق کھوکھر، امریکہ:
کیا کہنے ہیں آپ کے، ہمیں مرد یونین بنانی چاہئیں۔

معین الدین، جرمنی:
بہت لاجواب حقیقتیں اکٹھی کی ہیں۔ زندگی کا یہ نقطہِ نظر بھی دلچسپ ہے۔

شاہدہ اکرام، یو اے ای:
کیا ہوگیا ہے وسعت بھائی، بہت دکھی ہورہے ہیں۔ جیلس ہو رہے ہیں، شاید فرسٹریٹڈ بھی۔ آپ کے تو یوم نہیں، ایام ہوتے ہیں۔ سارا سال ہی آپ کا ہے، تو بھی ایک دن خواتین کا برداشت نہیں ہوتا۔ نہ منایا کریں، گزارا نہیں ہوتا ناں اس کے بغیر۔ بعض اوقات تو آپ کا دل یہ بھی چاہتا ہے کہ ایک سے زیادہ خواتین کو منایا جائے، تعداد چار تک بھی ہوجائے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ ہنسی خوشی برداشت کریں کہ اس سے درد کی شدت کم ہوجاتی ہے۔ دل پر نہ لیں، اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔

خالد محمود، اسلام آباد:
زبردست، کسی نے کبھی اس طرح نہیں سوچا۔ میں اس کی حمایت کرتا ہوں کہ مردوں کا بھی ایک دن ہونا چاہیے۔

عمیر خان، دہران:
مرد بے چارہ ہمیشہ سے قربانی دے رہا ہے پر افسوس عورت اس کی قدر نہیں کرتی۔

گل گرگیج، بدین:
بات تو بڑے پتے کی کی ہے مگر ذرا دیر سے، کیا خیال ہے؟

سعید احمد، فیصل آباد:
میرا خیال ہے کہ مرد کی بےانصافیاں اس پر ہونے والی زیادتیوں سے زیادہ ہیں۔

عصر جان، مردان:
یہ مضمون ہے کہ احساسِ محرومی کا منہ بولتا آئینہ۔ اگر مصورِ پاکستان آج زندہ ہوتے اور اسے پڑھتے تو اپنے اس مشہور شعر کی یوں اصلاح کرتے کہ ’وجودِ نر سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ‘۔

محمد جہانگیر، ہالینڈ:
اگر شادی کے لیے لڑکی سے نہیں پوچھا جاتا تو لڑکے سے بھی نہیں پوچھا جاتا۔ اگر بس میں کوئی لڑکی آجائے اور آپ اس کو جگہ نہ دیں تو پوری بس آپ کی مخالف، اگر آپ پانچ گھنٹے سے لائن میں لگے ہیں اور کوئی عورت آجائے تو اس کو پہلے نمبر دو۔ اگر بھرے بازار میں عورت کسی مرد پر الزام لگا دے تو سچ اور اگر مرد ایسا کرے تو حقوقِ نسواں کی تنظیمیں متحرک ہوجاتی ہیں۔ روزی کمانے کے لیے مرد پردیس میں خوار ہو اور عورت گھر بیٹھ کر اپنا وزن بڑھائے۔

احسن بٹ:
دھوبی کا کتا، نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔

جیری شاہ، نیو یارک:
کچھ رائے لکھو تو عورت کی عزت نہیں کرتا، نہ لکھو تو مرد بے چارے تو جانتے ہی ہیں۔

انعام الحق، برطانیہ:
میں بالکل اتفاق کرتا ہوں، اب مردوں کے حقوق کے تحفظ کا وقت آگیا ہے۔

عبدالکریم منصور، پاکستان:
سچ کہا، مرد کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ اللہ کرے کہ مردوں کا عالمی دن بھی منایا جائے۔

یاسر، میرپور:
آپ عظیم ہیں۔

مدن لال کھتری، کراچی:
کوئی شک؟ اینی ڈاؤٹ؟

صالح محمد، راوالپنڈی:
آپ کے بلاگ کی کیا بات ہے؟ اسلام نے عورت کو بہترین حقوق دیئے ہیں۔ یہ عورت کے حقوق کی جنگ لڑنے والے اس کے ثمرات چکھ رہے ہیں۔ ذرا ویسٹ کی نوجوان نسل سے پوچھ کر دیکھیں جن کی ماں برابر کے مواقع ملنے کی وجہ سے جاب کے لیے تو وقت نکال سکتی ہے، مگر بچوں کے لیے نہیں۔

تنویر کاظمی، واہ کینٹ:
بےپردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں، اکبر زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا، کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا۔

سعد منیر، برطانیہ:
آپ نے سو فیصد ٹھیک کہا۔ واقعی مردوں کا بھی عالمی دن ہونا چاہئے۔ مرد بے چارہ کہاں جائے، کس کے آگے رونا روئے۔

خرم بٹ، تائیوان:
یہ ایک اچھا موضوع ہے۔ پہلی دفعہ بی بی سی نے کوئی اچھا موضوع چھیڑا ہے۔

راحت شاہ، ٹورنٹو:
ہماری دعائیں اور تعاون آپ کے ساتھ ہے۔ وقت آیا ہے کہ عورتوں کی طرح مردوں کو بھی بیدار کیا جائے لیکن علم کے لحاظ سے نہیں ورنہ امریکہ بہادر اپنی طرح ہماری عورتوں کو بھی ہمارے سر پر سوار کردیں گے۔

اپنا اقتباس ہمیں بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
حسن کا نیا بلاگنیا بلاگ وسعت کا
نام کچھ اور ہوتا تو شاید قسمت بھی مختلف ہوتی
ضیا احمد کا بلاگضیا احمد کا بلاگ
’ مصنف تو کاہل اور مدیر چست‘
ممبئیپریمیوں کا سمندر
ممبئی سے مظہر زیدی کی آخری ڈائری
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد