انڈیا ڈائری: سمندر پریمیوں کا۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی کیمپین ’انڈیا آن لائن‘ کے تیسرے اور آخری مرحلے میں مظہر زیدی اور عالیہ نازکی ممبئی میں ہیں جہاں اتوار کی شام کو پروگرام ’اردو اور بالی وڈ‘ منعقد کیاگیا۔ اس ایوینٹ میں بالی وڈ کی مشہور شخصیات نے حصہ لیا۔ ممبئی سے مظہر زیدی کی آخری ڈائری، اختصار کے ساتھ:
تیزی سے دوڑتے وقت کے اس شہر ممبئی میں بس ایک سمندر ہی ہے جو پریمیوں کا ہے۔ ورلی ہو ، جوہو یا انڈیاگیٹ، شہر کے ہر بِیچ پر دن کے ہر پہر سینکڑوں پریمی جوڑے کچھ کچھ شرماتے اور کچھ کچھ جھجکتے سمندر کنارے بیٹھے رہتے ہیں۔ کھچا کھچ بھرے اس شہر میں یہ جگہ بس ان کی ہے۔ اور اس طرح جوڑوں کو بیٹھے دیکھنا خود میں ایک رومانوی کام ہے۔ یہ سمندر کا جادو ہے یا کیا لیکن رومانس کو دیکھنے کا بھی بڑا رومانس ہے۔
بمبئی میں لوگوں کی شخصیت یا کلاس کا اندازہ اُن کے موبائیل کے ماڈل سے نہیں بلکہ اس پر لگی رِنگ ٹون سے ہوتا ہے۔ باقی شہروں کے برعکس یہاں موبائیل کی ٹون عام فون ٹون نہیں بلکہ کوئی نہ کوئی گانا ہوتا ہے جو فون کرنے والے کو بھی سنائی دیتا ہے۔ کسی بھی اجنبی کو فون کریں تو آگے سے سنائی دینے والا گانا بہت کچھ سمجھا دیتا ہے۔ لیکن یہ ممبئی ہے کسی نئی فلم کا گانا سن کر یہ سمجھنے کی غلطی نہ کیجئیے گا کہ فون پر کوئی نوجوان شخص ہی ہوگا۔ ممبئی بالی وڈ کا گھر جو ہوا۔ یہاں کسی بڑی انٹرنیشنل ائیر لائنز کا دفتر ڈھونڈنا مشکل اور کسی فلمسٹار کا گھر تلاش کرنا آسان ہے۔
ممبئی ائرپورٹ پر خوش آمدید ٹی وی پر چلتے وسیم اکرم کے ایک اشتہار نے کیا۔ اس کے بعد دلی اور حیدرآباد کے سیمیناروں کی وجہ سے ہونے والی تھکن اتارنے میں دو دن بس آرام۔ ٹیکسیوں ، بسوں اور ٹرینوں کے رش سے بھرا یہ شہر صرف دیکھنے میں گنجان آباد لگتا ہے۔ اس کا دل اُس سمندر سے بھی بڑا ہے جو اِس کے ساتھ ہی سانسیں لیتا ہے۔ کالا گھوڑا چوک پر کسی آرٹس فیسٹیول میں پہلی مرتبہ اتنا رش دیکھا۔ شہر کے بیچوں بیچ اوپن ائیر میں ویڈیو انسٹلیشن بھی تھی ، لائیو ‘ماڈرن کتھک’ ڈانس پرفارمنس بھی اور اسی فسٹیول میں شاہ رخ خان کے پوسٹر بھی بک رہے تھے۔ لیکن اسی شہر میـں ممبئی انٹرنیشنل ڈاکومینٹری فیسٹیول بھی چل رہا ہے جس پر سب سے زیادہ میرے ایک ٹیکسی ڈرائیور کو اعتراض تھا کہ اگر یہ فسٹیول یعنی میلہ ہے تو اس میں عام لوگ کیوں نہیں جاسکتے۔ میں ابھی بھی جنوبی ہندوستان میں اور ’دکن کے جادو‘ کے اثر میں ہوں۔
یوں تو ہر شہر میں آپ کو کچھ نہ کچھ ایسے لوگ مل ہی جاتے ہیں جو اپنے شہر سے یا پھر اپنی زندگی سے زیادہ مطمئن نہیں ہوتے، لیکن جب سے ممبئی آئی ہوں ایک ایسا شخص نہیں ملا جو یہ کہنے پر آمادہ ہو کہ شاید دنیا میں کہیں ممبئی سے بھی اچھا کوئی شہر ہو۔ کل جب ڈھائی تین گھنٹے ٹریفک میں پھنسے رہے تو آخر میں نے ٹیکسی کے ڈرائیور سے کہا کہ بھائی یہ بھی کوئی شہر ہے، پونے گھنٹے کا فاصلہ طے کرنے میں تین گھنٹے لگتے ہیں۔ وہ کوئی خاص متاثر نہیں ہوا۔ مجھے بتایا کہ غلطی میری تھی، سفر شام چھ بجے شروع کرنے کو کہا کس نے تھا؟ جو لوگ ممبئی کو جانتے، سمجھتے نہیں، انہیں اتنی تکلیف تو اٹھانی پڑتی ہے۔ تو یعنی قصور شہر کا نہیں، ہم جیسے لوگوں کا ہے جو اب تک ممبئی کی ادا نہیں سمجھے۔۔۔
حیدرآباد سے ممبئی کا سفر یوں تو ایک گھنٹے میں طے ہوگیا، مگر ممبئی ائر پورٹ سے ہوٹل پہنچتے پہنچتے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لگا۔ سمندر کنارے بسے اس شہر کی بات ہی کچھ اور ہے۔ آج صبح پرانے شہر میں کچھ وقت گزارا۔ پرانی ممبئی شہر کے جنوبی حصے میں واقع ہے اور ہر طرف راج کے زمانے کی عمارتیں نظر آتی ہیں۔۔۔ گیٹ وے آف انڈیا سے لے کر ممبئی یونیورسٹی تک۔ نریمان پوائنٹ پر کچھ برقعہ پوش خواتین اور ان کے بچے، کچھ لڑکے لڑکیاں اور کچھ غیر ملکی سیاح نظر آئے۔ یہ نہایت ہی مصروف شہر ہے، لوگ ہر وقت کہیں جانے کی جلدی میں نظر آتے ہیں، مگر پھر بھی ہوا میں ایک ٹھہراؤ سا محسوس ہوتا ہے۔ دوپہر میں سبربس جانے کا اتفاق ہوا۔ اب آپ کو کیا بتاؤں۔۔۔کولابا سے اندہیری پہنچے تو ایک گھنٹے کے اندر اندر مگر واپسی پر جب ٹیکسی میں بیٹھے دو ڈھائی گھنٹے گزر گئے تو ممبئی کے ایک سرے سے دوسرے تک کے فاصلے کا اندازہ ہوا۔۔۔ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||