انڈیا ڈائری:’ کجرا رے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی اردو ڈاٹ کام یکم فروری سے بارہ فروری تک انڈیا آن لائن کے عنوان سے ایک مہم یا کیمپین کا اہتمام کررہی ہے۔ اس مہم کے دوران اردو ڈاٹ کام انڈیا کے تین بڑے شہروں میں مختلف تقریبات کا اہتمام کر رہی ہے۔ اس سلسلے کا پہلا فنکشن دلی کی جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں یکم فروری کو ہوگا جس کا عنوان ہے ’اردو اور نیو میڈیا‘۔ ہمارے ساتھی مظہر زیدی اور عالیہ نازکی اس کیمپین کے سلسلے میں انڈیا گئے ہیں جہاں سے وہ دیگر مضامین اور تصویروں کے علاوہ اپنی روزانہ کی انڈیا ڈائری بھی بھیجا کریں گے۔
کل رات جب ہوٹل میں کسی خوش قسمت کی بارات میں مسلسل بجنے والی ’ کجرا رے‘ کی دھن نے سونے نہیں دیا تو میں نے احتجاجاً اس بارات میں شرکت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ بن بلائے مہمان کی طرح خود وہاں جانے کی ہمت تو نہیں ہوئی لیکن میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے اس سے عظیم و شان بارات کا نظارا لینے لگا جس نے پورے ہوٹل کو سر پر اٹھا رکھا تھا۔ میرا سارا احتجاج اورغصہ دھرا کا دھرا رہ گیا۔ کیا بارات تھی اور کیا شان شوکت تھی۔ ایسی بارات پہلے کبھی دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ کوئی سات آٹھ گھوڑے جن میں سب سے آگے دولہے کا گھوڑا ، ان کے آگے رقص کرتی ہوئی ایک ٹولی اور ان کے پیچھے بھی، جبکہ دونوں اطراف میں خوبصورت شماعوں کو ایک بانس پر اٹھائے ہوئے دربان، خوشبوؤں کی تھالیاں اٹھائے ہوئے رشتہ دار اور پھول نچھاور کرتے مداحین۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ دولہا والے بالی وڈ سے متاثر تھے یا بالی وڈ والے ایسے ہی دولہوں کی باراتیں دیکھ کی فلمیں بناتے ہیں۔
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے مباحثے ’اردو اور نیو میڈیا‘ کی تیاری آخری مراحل میں ہے اور اسی وجہ سے مصروفیت بھی بہت بڑھ گئی ہے۔ جس جگہ بھی اردو اور میڈیا کی بات ہوتی ہے سب یہی کہتے ہیں کہ ایک وقت تھا کہ اردو میڈیا انڈیا میں سب سے ریڈیکل تصور کیا جاتا تھا اور اب چند ایک کو چھوڑ کر اردو اخباروں میں صرف نعتیں ہی لکھی جاتی ہیں۔ انڈیا میں اردو میڈیا کے اس حال کے ذمہ دار زیادہ تر لوگ زبان کو مذہب کے ساتھ جوڑنے کو ٹہراتے ہیں۔ زبان کی کیا قومیت یا اس کا کیا مذہب؟ یہ خیال تب اور بھی شدت سے آیا جب سابق وزیراعظم آئی کے گجرال کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا۔ جہلم کے گجرال صاحب آج بھی اپنی ہر خط وکتابت اردو میں کرتے ہیں اور اس کے بعدان کا سیکرٹری اسے ہندی یا انگریزی میں ترجمہ کرتا ہے۔ ہوٹل میں آج کسی کی شادی ہے اور مسلسل کجرا رے سن سن کر اب بوریت ہورہی ہے۔ کہیں باہر نکلنا چاہئیے۔
دہلی میں دوسرے دن کا آغاز یہ خبر سن کر ہوا کہ کل رات دلی ائیرپورٹ سے عامر خان کی نئی فلم ’رنگ دے بسنتی‘ کی ایک کاپی پاکستان سمگل کرنے کی کوشش روک دی گئی۔ کسی نے کہا کتنی جلدی ہے پاکستانیوں کو ۔ یہ فلم ابھی دو روز پہے ریلیز ہوئی ہے۔ میں نے کہا جلدی کی بات نہیں میں یہ دکھ سمجھ سکتاہوں۔ پاکستانی ہونے کے ناطے سے جہاں بھی جاؤ ایک ہی سوال کا سامنا رہتا ہے۔ امریکہ کو پاکستان میں نئے سیکورٹی خدشات کی وجہ سے تشویش ہے جبکہ یہاں آج کل ہر ایک کو پاکستان سے متعلق ایک ہی تشویش ہے: اگلی پچ بھی فلیٹ تو نہیں ہوگی؟
برٹش ائیر ویز کی فلائٹ ایک گھنٹہ تاخیر سے پہنچی اور دلی میں لینڈ کرتے ہی رات بھر کی فلائٹ کے بعد آرام کرنے کی بجائے سوچا کہ پہلے فوراً فوراً کچھ کام کر لئے جائیں۔ اردو ڈاٹ کام کی انڈیا آن لائن کیمپین دلی پہنچتے ہی شروع ہو گئی۔ دلی میں سردی نام کی بھی نہیں۔ ٹھیک ہے کہ لندن سے یہاں آنے والے کو موسم قدرے بہتر ہی لگے گا لیکن یہاں تو جنوری کے مہینے میں دوپہر کے وقت تقریباً پسینے چھوٹ رہے ہیں۔ شام تک سارے کام نمٹا کر جب دلی پریس کلب جانے کا موقع ملا تو بہت مانوس لگا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ لاہور کی شملہ پہاڑی کا پریس کلب ہو، بی بی سی کے بش ہاؤس کا کلب یا دلی کا پریس کلب، وہی ماحول ہے وہی باتیں۔ صحافی اتنے بورنگ کیوں ہوتے ہیں۔
کل کی تیاری میں آج سارا دن کیسے گزر گیا پتہ ہی نہیں چلا۔ صبح ہوٹل سے پہلے تو جامعہ ملیہ اسلامیہ گئے جہاں کل انڈیا آن لائن کیمپین کا پہلا پروگرام منعقد ہوگا۔ پھر اس کے بعد واپس ہوٹل، پھر دفتر، پھر واپس ہوٹل۔۔۔ تیاری تو پوری ہے اور کام بھی بالکل ویسے ہی چل رہا ہے جیسا کہ ہم نے سوچا تھا۔۔۔اب دیکھیے کل کا دن کیسا گزرتا ہے۔۔۔ کل رات کا کھانا ایک چائنیز ریستوراں میں کھانے کا اتفاق ہوا۔ پچھلے تین برسوں میں پہلی بار چائنیز کھانے کا مزا آ گیا۔ میں لندن میں کئی چائنیز ریستوراں ٹرائی کر چکی ہوں، مگر کہیں بھی مزا نہیں آیا۔ بات دراصل یہ ہے کہ لندن میں چائنیز ریتسورانتوں میں جو کھانا ملتا ہے وہ خالص چائنیز ہوتا ہے، نہ ٹماٹر، ہلدی کا تڑکا، نہ انڈین مصالحوں کی خوشبو۔۔۔ تو آپ ہی بتائیے مزا آئے گا تو کیسے؟
ویسےتو ہم نے یہ سوچا تھا کہ ہر روز انڈیا آن لائن ڈائری کو اپ ڈیٹ کیا کریں گے۔ مگر کل کا دن کچھ ایسا مصروف رہا کہ بالکل وقت نہیں ملا۔ غالب کے شہر کا حال تو آپ پکچر گیلری میں دیکھ ہی چکے ہوں گے۔ بس کل سارا دن میں دلی میں لوگوں کو غالب کی تصویر دکھاتی رہی۔ چانکیاپوری کی کشادہ سڑکوں سے چاندنی چوک کی پیچیدہ گلیوں تک۔ جامع مسجد کے ایک مینار پر جانے کا سوچا۔ پتلی، تنگ، اندھیری نہ جانے کتنی سیڑھیاں چڑھ کر آخر اوپر پہنچے تو نظارا ایسا تھا کہ کیا بتاؤں۔ تا حد نظر پھیلی ہوئی دلی۔ ویسے مجھے اونچائی سےذرا ڈر لگتا ہے مگر جامع مسجد کے اس مینار سے نظارا کچھ ایسا تھا کہ ڈر کا خیال تک نہیں آیا۔ وہاں کئی اور لوگ تھے، کچھ میاں بیوی، کچھ نوجوان لڑکے، کچھ غیر ملکی سیاح۔ سب اپنے سامنے پیر پھیلائے اس شہر کو بس دیکھتے ہی رہے۔۔۔
آج یہ طے ہوا کہ ہم یہ دیکھیں کہ غالب کے شہر میں کتنے لوگ ہیں جو اب تک اس کے نام اور کام سے واقف ہیں۔ تو ہم نے کیا یہ کہ دلی کے ایک مشہور بازار چلے گئے اور وہاں لوگوں کو غالب کی تصویر دکھائی۔ کس نے کیا جواب دیا یہ تو آپ کو کل تک پتہ چل ہی جائے گا، پر آپ کو یہ بتا دوں کہ جواب نہایت ہی دلچسپ تھے۔ خیر، شام کو اپنی ایک پرانی سہیلی سے ملاقات ہوئی۔ ہم دلی میں ساتھ پڑھتے تھے۔ اب وہ امریکہ میں رہتی ہے، میں برطانیہ میں۔ کافی کی پیالیوں پر دلی کی باتیں دیر تک چلتی رہیں۔۔۔
تو آخر بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی انڈیا آن لائن کیمپین شروع ہو ہی گئی۔ آج صبح لندن سے دلی پہنچے۔ دلی کی ہوا کی خوشبو ہی کچھ اور ہے۔ ہوائی اڈے سے نکلتے ہی جیسے سفر کی ساری تھکان ختم ہو گئی۔ میں نے کئی سال دلی میں گزارے ہیں۔ اب دلی چھوڑے ہوئے تین سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا مگر ایسا لگتا ہے کہ دلی بدل کر بھی نہیں بدلی۔ ہوا کی خوشبو، دور درشن کے ہیڈکواٹر، منڈی ہاؤس کے آپ پاس چہل پہل، خان مارکیٹ کی رونق، سڑکوں پر ایک آدھ ایکسیڈینٹ اور فٹ پاتھ پر آہستہ آہستہ چلتی ہوئی وہ عورت جو چلتے چلتے سویٹر اسی توجہ اور آسانی سے بن رہی تھیں جیسے کہ وہ اپنے گھر کے سہن میں بیٹھی ہو۔ خیر آج کیمپین کی شروعات اچھی رہی۔ دلی آفس میں کافی لوگوں سے ملاقات ہوئی اور آخر کار کئی ناموں کے ساتھ چہرے وابستہ ہوئے۔ آپ سے تو باتیں ہوتی رہیں گی پر اب جا کر یکم فروری کو دلی میں ہونے والے پروگرام کے دعوت نامے تیار کرنے ہیں، تو باقی کل۔۔۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||