BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 30 January, 2006, 13:33 GMT 18:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا: تیسری بڑی معیشت
انڈیا معیشیت
انڈیا اس سال جاپان کی جگہ دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن جائے گا۔ یہ پیشین گوئی کی سٹون انڈیا کے چیف اکانومسٹ ڈاکٹر ولیم ٹی ولسن نے کی ہے۔ اس وقت امریکہ اور چین معیشت کے لحاظ سے دنیا میں پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں۔

جنوبی ایشیا کے دوسری ملکوں کو بھی اس بڑھتی ہوئی معیشیت سے فائدہ پہنچ سکتا ہے ۔ ا سکے لیے ضروری ہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک آپس میں تجارت کو فروغ دیں۔

کیا انڈیا کا تیسری بڑی معیشیت بننا ایک عام انڈین شہری کی زندگی پر کوئی اثرات مرتب کرے گا؟ آپ نے انڈیا میں پچھلے دس برسوں میں کیا تبدیلیاں آتی دیکھی ہیں؟ آپ کی رائے میں کیا یہ تبدیلیاں جنوبی ایشیا کے خطے کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہے؟ کیا اس خطے کا سیاسی ماحول اجازت دیتا ہے کہ معشیت کی ترقی کے اس عمل میں دوسرے ممالک شراکت کر سکیں؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

محمد عمران صادق، راولپنڈی:
ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے میری یہ خواہش ہوتی ہے کہ انڈیا نے اتنی ترقی کی ہے تو کم از کم وہاں کے مسلمانوں کو اس کا کچھ تو فائدہ ہو۔

ہارون رشید، سیلکوٹ:
انڈیا نے جو ترقی کی ہے اس میں آئی ٹی نے زیادہ کردار ادا کیا ہے لیکن ابھی بھی وہاں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ جس کی وجہ سے ترقی کے اثرات عام آدمی تک نہیں پہنچ پار ہے ہیں۔

محمد ذاکر، انڈیا:
ایک کہاوت ہے ’ہندستان سونے کی چڑیا ہے یہاں بسنے والے بہت غریب ہیں‘۔ یہ آزادی سے پہلے کی کہاوت ہے لیکن انڈیا اب ترقی کی طرف گامزن ہے پچھلے دس برسوں میں انڈیا کافی حد تک ترقی کر گیا ہے۔ لوگوں کی زندگی بےروز گاری سے رومگاری کی طرف پروان چڑھی۔ انڈیا اور اس کے ارد گرد کے ممالک اگر مل جل کر اپنے تجارتی تعلقات کو فروغ دیں تو ہماری معیشیت اور بھی بہتر ہو سکتی ہے۔ ہم برصغیر کے ممالک معیشیت کے لحاظ سے پہلے نمبر پر آ سکتے ہیں۔

فی کس برآمدات پاکستان سے کم ہیں
 انڈیا ایک بڑا ملک ہے اس کی ایک عرب سے زیادہ آبادی ہے ہم اس کا مقابلہ پاکستان سے نہیں کر سکتے۔ بہت سے ممالک جن کی آبادی انڈیا سے بہت کم ہے لیکن ان کی معیشیت انڈیا سے بہت زیادہ ہے۔ انڈیا کی فی کس برآمدات پاکستان سے کم ہیں۔
عدیل خاکی، کراچی

محمد یوسف خان، جرمنی:
اب انہیں چاہیے کہ جنگ سے دور ہو جائیں اور یورپ کی طرح کم سے کم پچاس سال کی جنگ بندی کا تحیہ کر لیں۔باقی ملکوں کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلیں۔ اس سے خطے میں دوستی بڑھے گی۔ پاکستان بھی اچھی سمت رواں دواں ہے۔

عدیل خاکی، کراچی:
جی ایٹ کی مدد سے کوئی بھی ملک معیشی لحاظ سے ترقی کر سکتا ہے۔ انڈیا ایک بڑا ملک ہے اس کی ایک عرب سے زیادہ آبادی ہے ہم اس کا مقابلہ پاکستان سے نہیں کر سکتے۔ بہت سے ممالک جن کی آبادی انڈیا سے بہت کم ہے لیکن ان کی معیشیت انڈیا سے بہت زیادہ ہے۔ انڈیا کی فی کس برآمدات پاکستان سے کم ہیں۔

قادر قیریشی، ٹورانٹو:
انڈیا کوچاہیے کہ پاکستان کو مکمل طور پر نظر انداز کر دے اورصرف اپنی ترقی پر نظر رکھے۔ دنیا نے پہلے ہی انڈیا کو تیسری بڑی معیشیت قرار دے دیا ہے۔

محمد صادق، شارجہ:
اچھی نیوز ہے کم از کم نئے حکمران یہ بات تو سمجھے کہ پاکستان اور انڈیا ایک ہو کر چلیں تو یہ دونوں ملکوں کے فائدے میں ہے۔ امریکہ کا اسلحہ کون خریدے گا وہ یہ کس طرح برداشت کر سکتے ہیں کہ اس خطے کی عوام امن وامان سے زندگی گزاریں۔

نامعلوم:
جو ملک ٹوٹنے کی قریب ہو، دنیا میں سب سے زیادہ آزادی کی تحریکیں وہاں چل رہی ہوں جن کی تعداد سترہ ہے وہ رہے گا تو ترقی بھی کرے گا۔

معراج خان، سوات:
یہ اس لیے ممکن ہوا ہے کیونکہ وہاں پر آزادی صحافت ہے اور جمہوریت ہے۔ اپنے وطن عزیز کی بات الگ ہے۔ یہاں جمہوریت کی بات ممکن نہیں۔ ہماری تاریخ میں کبھی خارجہ پالیسی پر بحث نہیں ہوئی۔ ہماری خارجہ پالیسی صرف فردِ واحد تک محدود ہے جو وہ اپنی ذات تک محدود رکھتا ہے۔ جس پر بحث اور مخالفت کرنا ممکن نہیں۔ حال ہی میں باجوڑ پر حملے کے بعد شیخ صاحب نے کہا کہ اس سے تعلقات پر فرق نہیں پڑے گا۔ سوچیں کہ اگر سی آئی اے یہ حملہ اسلام اباد کے کسی بازار پر کرتی تو پھر بھی فرق نہیں پڑتا۔

امریکہ کا اسلحہ کون خریدے گا
 امریکہ کا اسلحہ کون خریدے گا وہ یہ کس طرح برداشت کر سکتے ہیں کہ اس خطے کی عوام امن وامان سے زندگی گزاریں۔
محمد صادق، شارجہ

جاوید، جاپان:
یہ حقیقت ہے کہ انڈیا نے بہت ترقی کے ہے اس کی وجہ محنت، لگن اور وہاں کےلیڈروں کی عوام اور ملک کے مفاد میں پالیسیاں ہیں۔ اگر آج پاکستان اور بھارت کامسئلہ حل ہو جائے تو بھارت نمبر ون ہو جائے گا۔ غلام محمد، ایوب خان، یحیٰ جیسے جرنل اگر انڈیا میں پیدا ہو گئے تو وہ برباد ہو جائے گا۔

ملک معین، رالپنڈی:
جو بھی محنت کرتا ہے اس کو پھل ضرور ملتا ہے۔ انڈیا اگر مضبوط ہوگا تو اس کے لوگوں کو فائدہ ہو گا لیکن کیا چین انڈیا کو مضبوط ہوتے دیکھ سکے گا۔

اکبر تالو، کراچی:
ان کے سیاستدان پاکستان کے سیاستدانوں سے زیادہ مخلص ہیں۔ مجھے پاکستانی ہونے پر فخر ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ ہمیں بھی اچھے سیاستدان ملیں گے۔

سید جاوید، امریکہ:
مستحکم سیاسی نظام کی وجہ کی دنیا کے بڑی سرمایہ کار انڈیا میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

یہ اچھی پالیسیاں اپنانے کا ثمر ہے
 انڈیا کو آج جن پالیسیز کا ثمر مل رہا ہے وہ اس نے ستر اور اسی کی دہائیوں میں اپنائی تھیں۔ تیس سال میں انہیں یہ فائدہ ہوا کہ اب وہ دنیا کی تیسری نہیں تو چوتھی بڑی معیشیت تو طے شدہ بن چکے ہیں۔ کسی بھی تیسری دنیا کے ملک کے لئے یہ ایک اہم کامیابی ہے۔
ریاض فاروقی، دوبئی

خالد، راولپنڈی:
انڈیا جو بھی ترقی ترقی کر رہا ہے اس کے پیچھے انڈیا کی اچھی سیاست ہے۔ جو کہ ہم لوگوس سے اقھی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ایک دن پاکستان بھی اچھی سیاست والا ملک بن جائے گا۔

ڈاکٹر سرفراز عباسی، امریکہ:
پاکستان اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک جموریت نہیں ہوگی۔

عبدالرقیب، دوہا:
یہ بہت ہی خوشی کی بات ہے کہ انڈیا ترقی کر رہا ہے۔ کانگرس جب سے حکومت میں آئی

صغیر شان، ڈنمارک:
انڈیا نے ترقی اس لیے کی ہے کہ اسے اچھے سیاستدان ملے اور پاکستان ۔۔۔ اگر موقع ملے تو ایک نئی کتاب ’ڈیوائڈڈ بائی ڈیموکریسی‘ پڑھ لیں۔ فرق صاف ظاہر ہو جائے گا۔

شاہدہ اکرام، ابو ظہبی:
انڈیا کو تیسری بڑی معیشت تو ہونا ہی تھا کیونکہ وہاں کے عام لوگوں کا معیار زندگی بہت سادہ ہے تعلیم کے معاملے میں بھی وہ ہم سے بہت آگے ہیں۔ ان کو اگر آپ اونچے درجے پر بھی دیکھیں تو ان کے رہنماؤں کی سادگی بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ رہن سہن میں سادگی اور صرف اپنے ملک کی بنائی ہوئی چیزوں کے استعمال سے ہی اپنے ملک کی اشیاء کو فروغ ملتا ہے۔ یہی وہ وجوہات ہیں جو انڈیا کو دنیا کی تیسری بڑی معیشت بنا گئی ہیں۔

اس کے علاوہ جس سیاست پر عمل کر کے انہوں نے ترقی کی ہے اس کا بھی ہمارے ملک میں فقدان ہے۔ ان کے ہاں حکومت کی سطح پر پڑھے لکھے لوگوں کا سامنے آنا ان کی ترقی کی ایک اور بہت بڑی وجہ ہے۔ ہمارے خطے کے لیے ضرو ری ہے کہ ہم اختلافات ختم کر کے شراکت کی بنیادوں پر ایک دوسرے کی جانب ہاتھ بڑھائیں۔

ریاض فاروقی، دوبئی:
انڈیا کو آج جن پالیسیز کا ثمر مل رہا ہے وہ اس نے ستر اور اسی کی دہائیوں میں اپنائی تھیں۔ تیس سال میں انہیں یہ فائدہ ہوا کہ اب وہ دنیا کی تیسری نہیں تو چوتھی بڑی معیشیت تو طے شدہ بن چکے ہیں۔ کسی بھی تیسری دنیا کے ملک کے لئے یہ ایک اہم کامیابی ہے۔

اس کے پیچھے جمہوریت ہے
 انڈیا واقعی ترقی کر رہا ہے اور اس ترقی کے پیچھے جمہوریت ہے۔ وہاں کبھی مارشل لاء نہیں لگا اور اب من موہن سنگھ ماہرِ معیشیت ہیں اس سے برصغیر میں ایک اچھی تبدیلی آئے گی اور ہمارا خطہ بھی ترقی کرے گا۔
جاوید اقبال ملک، پاکستان
فدا حسین زاہد، کراچی:
یہ ایک حقیقت ہے کہ انڈیا اپنی معیشت کی ترقی کی طرف گامزن ہے۔ اس کی وجہ قوم اور رہنماؤں کا مخلص ہونا اور مثبت رویہ ہے۔ مستقبل میں یہ انڈیا کے غریب عوام کے لئے بہتر ثابت ہوگا۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد:
بیشک یہ قابلِ فخر بات ہے کہ انڈیا نے اتنے اچھے اقدامات کیے کہ وہ آج ایک سیاسی کے ساتھ ساتھ معاشی طاقت بھی بن کر ابھر رہا ہے۔ اس کی مڈل کلاس بڑھی ہے اور ملک نے محنت کی ہے اس لئے وہ اس کا صحیح معنوں میں حقدار ہے۔

علی عمران، لاہور:
پتہ نہیں یہ بات کیسے کہہ دی گئی۔۔۔؟ جوملک دنیا میں سب سے زیادہ آزادی کی تحریکوں کا شکار ہو اور اس کی دس لاکھ فوج آمادی کی تحریکوں کو دبانے میں مصروف ہو، وہ کیسے ایک مضبوط تحریک بن سکتا ہے؟

نامعلوم:
بڑی معیشیت کا اس وقت تک فائدہ نہیں ہوگا جب تک آپ کا نظام ایسا نہ ہو کہ غریب کو اس کا فائدہ براہِ راست پہنچ سکے جیسا کہ امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک میں ہوتا ہے۔ چین اور انڈیا میں عام آدمی غربت کی زندگی گزار رہا ہے اور کارپوریٹ اور حکومت کے کارباری ادارے دولت مند ہیں۔

اکرام چوھدری، نامعلوم:
جی ہاں انڈیا بہت ترقی کر رہا ہے۔ خاص طور پر آئی ٹی، ٹیلی کام کے شعبے میں بہت زیادہ ترقی ہوئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انڈیا اور پاکستان مستقبل میں جنگ سے بچیں اس طرح جنوبی ایشیا میں بھی یورپ جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن انڈیا کی آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے جو اس ترقی کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔

جاوید اقبال ملک، پاکستان:
انڈیا واقعی ترقی کر رہا ہے اور اس ترقی کے پیچھے جمہوریت ہے۔ وہاں کبھی مارشل لاء نہیں لگا اور اب من موہن سنگھ ماہرِ معیشیت ہیں اس سے برصغیر میں ایک اچھی تبدیلی آئے گی اور ہمارا خطہ بھی ترقی کرے گا۔ ضرورت اسی امر کی ہے کہ ہم سب یعنی پاکستان، ایران اور انڈیا آپس کے اختلافات بھلا کر صرف ملک و ملت کی ترقی کے بارے میں سوچیں۔ ہم ڈیفینس پر بجٹ بہت کم کر دیں اور صرف عوام کا خیال کریں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد